Naya Pakistan – 1

نیا پاکستان

یہ منظر ہے اگست دوہزار سترہ کا، پاکستان پچھلے کئی ماہ کی افراتفری کے بعد مکمل طور پر ایک مستحکم اسلامی جمہوری ملک میں بدل چکا ہے، ملک میں اس وقت عمران خان کی زیر قیادت تحریک انصاف کی حکومت تین تہائی اکثریت کے ساتھ قائم ہوچکی ہے، آپ کو شاید یہ بات عجیب سی لگے لیکن اگر آپ اپریل سے اگست تک کے سیاسی واقعات سے واقف ہیں تو آپ کو یقیناً علم ہوگا کہ یہ تاریخی معجزہ کس طرح ظہور پذیر ہوا – چند ماہ پہلے ملک میں ایک بدعنوان حکومت تھی جس کے پنجہ استبداد میں ملک اور عوام کا عرق نکل چکا تھا اور بظاہر اس ظالم حکومت سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی سوائے ایک پانامہ کیس کے

اپریل میں اچانک پاکستانیوں نے ایک خوشگوار خبر سنی کہ عمران خان کو ملکی عسکری قیادت نے فرمائش کر کے ملاقات کیلئے بلایا ہے، اس خبر کی اس وقت کی حکومت کے کاسہ لیس صحافیوں اور سوشل میڈیائی وظیفہ خواروں نے بیہودہ تشریحات پیش کیں مگر اندر کی بات صرف دو لوگ جانتے تھے خیر اس ملاقات کے کچھ ہی دن بعد پانامہ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری ہوگیا جس کے مطابق بنچ کے تمام تر اراکین اور انکے علاوہ باقی ججوں اور ماتحت عدلیہ کے تمام اراکین نے بیک زبان اس وقت کے وزیر اعظم کو مجرم قرار دیتے ہوئے حکومت کو برطرف کرتے ہوئے اس کے تمام اراکین قومی و صوبائی و بلدیاتی کو مستقبل کی سیاست کیلئے نااہل قرار دے دیا – اسی پر موقوف نہیں بلکہ انہوں نے اپنے خصوصی حکم کے ذریعے ملک کی واحد صالح جماعت یعنی تحریک انصاف کے علاوہ ہر قسم کی سیاسی جماعتوں اور انکے تمام اراکین کو تاحیات نااہل قرار دے دیا

اس کے بعد ملک میں نئے عام انتخابات کا اعلان کردیا گیا جس میں تحریک انصاف نے چند ایک کے سوا باقی تمام نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے، مگر سازشی ٹولہ اب بھی سرگرم عمل تھا اور ابتدائی نتائج کے مطابق تین کے سوا تمام نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدوار اکیلے کھڑے ہونے کے باوجود مطلوبہ تعداد میں ووٹ لینے میں ناکام رہے جس کے بارے میں بعد میں انکشاف ہوا کہ ایک منظم طریقے سے اس رات امریکی اشارے پر تمام غیر ملکی فاسٹ فوڈ چینز نے الیکشن سے پہلے کی آدھی رات کو سپیشل ڈیلز کا اعلان کر دیا تھا جن میں برگر و جملہ لوازمات کی قیمتیں ایک تہائی سے بھی کم کر دی گئیں یوں تحریک کا تمام تر نوجوان ووٹر اس رات اس ڈیل کی وجہ سے اسی چکر میں مصروف رہا اسی طرح سابق حکومت کے ہمدردوں نے ممکن بنایا کہ اس دن کسی بھی جگہ لوڈشیڈنگ نہ ہو بلکہ لوڈ سے زیادہ بجلی میسر ہو تاکہ اے سی بند نہ ہوں جبکہ بیرونی طور پر امریکہ نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس دن موسم شدید گرم ہو تاکہ تحریک انصاف کا ووٹر باہر نہ آ سکے یوں تحریک انصاف کے حق پر ایک بار پھر ڈاکا ماراجاسکے، سونے پر سہاگہ کہ پچھلی حکومت سے تھری جی اور فور جی ایل ٹی ای لائسنس لینے والی تمام کمپنیوں نے اس دن موبائل انٹرنیٹ فری کردیا تاکہ تحریک کے جنونی ووٹر کو باہر نکلنے سے روکا جاسکے اور یہ تمام عناصر اس ساری کوشش میں کامیاب ہوئے، مگر اس بار تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا اور اس نے اس ملک کی تقدیر کو بدلنا ہی تھا، اس سازشی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ملکی فیصلہ ساز اداروں نے انٹرنیٹ پر انتخابات منعقد کروانے کا فیصلہ کیا جس میں شناختی کارڈ اور شہریت جیسی فرسودہ پابندیوں کو ختم کر دیا گیا تاکہ عوام کی درست رائے سامنے آ سکے اس فیصلے کے نتیجے میں ہونے والے انتخابات میں عمران خان کو پانچ ملین ووٹ حاصل ہوئے جن میں مغربی، روسی اور جاپانی عوام کی اکثریت شامل تھی، انکے علاوہ جہانگیر ترین اور علیم خان بھی اپنی اپنی سوشل میڈیا ٹیموں کی وجہ سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے مگر باقی کسی بھی امیدوار کو مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل نہ ہو سکے اس پر آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے عمران خان کو باقیماندہ قومی صوبائی و سینیٹ میں اپنے امیدواروں کو نامزد کرنے کا اختیار تفویض کردیا گیا، یوں ان تمام اندرونی و بیرونی ریشہ دوانیوں کو ناکام بنا دیا گیا

اس تمام تر عمل کے مکمل ہونے پر ملک میں تحریک انصاف کی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا، یہ ملکی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جسے ایوانِ بالا، ایوانِ زیریں، تمام صوبائی ایوانوں، تمام ضلعی اور مقامی حکومتوں اور دیہی علاقوں میں سو فیصد حق نمائندگی ملا – اس انتخابی عمل کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر موجود ہر اکاؤنٹ کو اسکے فالوورز، فیک اکاؤنٹس اور دشنام طرازی کی صلاحیتوں کی بنیاد پر شمولیت کا موقع دیا گیا، اسکے نتیجے میں مشہور سوشل میڈیائی ایکٹوسٹ فرحان ورک بیک وقت ایک سو قومی صوبائی و شہری نشستوں سے کامیاب ہوئے جن میں خواتین کیلئے مخصوص چالیس نشستیں بھی شامل ہیں اس الیکشن میں کراچی کی نشستوں پر عارف علوی ایک، اواب علوی پانچ، عمران اسماعیل اور فیصل واوڈا آٹھ آٹھ اور علی زیدی تین نشستوں سے کامیاب ہوئے، بلوچستان اسمبلی کی تمام تر نشستیں یار محمد رند نے تن تنہا ہی جیت لیں، کے پی کے میں پشاور شہر کی ایک کے سوا تمام تر نشستیں پشاور ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ نے جیت لیں، بچ جانے والی اکلوتی نشست باب پشاور نے حاصل کی – پشاور کے علاوہ خیبر پختون خواہ کے بیشتر علاقوں سے سونامی درخت کامیاب ہوئے – پنجاب کی بیشتر نشستوں پر ایویں زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے کارکن کامیاب ہوئے

المختصر یہ کہ تمام تر گھڑمس کے بعد اب راوی چین ہی چین لکھتا ہے اور ملک میں امن و امان و رواداری کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے
(جاری ہے)

نوٹ
یہ سو فیصد فکاہیہ بلاگ ہے اسے اسی تناظر میں پڑھا اور سمجھا جائے – تمام سینئر کالم تراشوں سے درخواست ہے کہ اسے کاپی کر کے عوام کو انہیں شرمندہ کرنے کی ناکام کوشش کرنے پر مجبور مت کریں

15 thoughts on “Naya Pakistan – 1

  • April 3, 2017 at 7:43 pm
    Permalink

    شروع کی چند سطریں پڑھنے کے بعد زبان نے خدانخواستہ کا ورد شروع کردیا۔ 😃
    عمدہ تحریر۔ دوسرے حصے کا انتظار۔

    Reply
  • April 3, 2017 at 11:37 pm
    Permalink

    Hilarious. Enjoyed till the the last word.
    You are blessed with an awesome wit.

    Reply
  • April 4, 2017 at 4:30 am
    Permalink

    You are blessed my friend keep up da good work. U shud also highlight Gen raheel ko islami fouj ka cheif banaya jaa raha hai aur joo loog oppose kar rahay uski kya waja hai . is it kay wo nahi chahtay kay tamam islami mulk unite houn like once zulfiqar bhutto tried and almost all assasinated . its deep but ppl shud know da truth

    Reply
  • April 4, 2017 at 12:22 pm
    Permalink

    یہ سو فیصد فکاہیہ بلاگ ہے اسے اسی تناظر میں پڑھا اور سمجھا جائے – تمام سینئر کالم تراشوں سے درخواست ہے کہ اسے کاپی کر کے عوام کو انہیں شرمندہ کرنے کی ناکام کوشش کرنے پر مجبور مت کریں
    haha hhahah haahhaah

    Reply
  • April 4, 2017 at 12:28 pm
    Permalink

    بہت عمدہ۔ قوی امکان ہے کہ یہ تحریر بھی سرقہ کی نظر ہو جائے گی اور تحریک انصاف کے سپورٹر کامل ایمان لے آئیں گے

    Reply
  • April 4, 2017 at 1:44 pm
    Permalink

    اس میں چه لاکه میں سے چار لاکه فوجیوں کہ ووٹ کا زکر نہ کرکہ نا انصافی کی گئ ہے.

    Reply
  • April 4, 2017 at 2:08 pm
    Permalink

    آزاد ملک کے زر خرید خاندان غلاماں کے کالم نویس صاحب یہ قوم آپکو اور آپکی برادری کو ہمیشہ خراج تحسین پیش کرے جب بھی تاریخ کے اوراق پلٹے گی۔۔۔
    جس قوم کے لکھاری حواری بن جائیں اس کا بیڑہ غرق ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔
    ویسے کتنے ملے اس صفحہ کے منہ پر اور خود کے منہ پر کالخ پوتنے کے

    Reply
    • April 4, 2017 at 7:09 pm
      Permalink

      Ji bilkul aap hee ki baat hoo rahi thi iss column ma.

      Reply
  • April 4, 2017 at 3:45 pm
    Permalink

    Excellent depiction and excellent presentation full marks

    Reply
  • April 4, 2017 at 9:01 pm
    Permalink

    یہ جعفر حسین کی کہانی کا جواب ہے اور عمدہ جواب ہے

    Reply
  • April 4, 2017 at 10:46 pm
    Permalink

    Hujray shah muqeem tay ik jatti aez karay
    bakra dewan sarkar da jay sir da sayeen maray
    kutti maray faqeer di jeri chon chon nit karay
    hatti saray tarar di jithay diwa raat balay
    panj sat maran gawandnan tay rahian no taap charhay
    galian ho jan snajian which mirza yaar phiray

    Reply
  • April 5, 2017 at 2:20 pm
    Permalink

    واہ واہ
    یہ تحریر صحیح معنوں میں
    فکاہیہ
    کی تعریف پہ پوری اترتی ہے.
    اور
    جلنے والے کا منہ
    آل ریڈی
    کالا.

    Reply
  • April 6, 2017 at 8:20 pm
    Permalink

    پہلے تحریک انصاف والوں پر خوابوں کی دنیا میں رہنے کا الزام تھا
    یہ کالم پڑھ کر لگ رہا ہے خوابوں میں بسنے کی باری اب ن لیگ اور اس کے حواریوں کی ہے اب یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ جس طرح کے خواب مرضی دیکھیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ حقیقی دنیا میں تو آئندہ ان کی ایک نہیں چلنے والی ان کا باب بند ہی سمجھیں
    پٹواری حضرات سے گزارش ہے کہ بحث میں پڑنے کی بجائے میرے کمنٹ کو سنبھال کر رکھیں تاکہ بوقت ضرورت سند رہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *