Pakistan Taraqi ki Rah par

پاکستان صحیح راہ پر گامزن ہے
پچھلے تین سے چار سالوں میں پاکستان میں ہونے والی معاشی بہتری، ترقی اور روشن مستقبل کا اعتراف عالمی سطح پر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیز، معاشی ماہرین اور جرائد نے پاکستان کے حوالے سے مثبت رپورٹس شائع کی ہیں۔ سیاسی مخالفین، جن کی سیاست کا دارومدار صرف اندھی مخالفت پر ہے، ان کامیابیوں کو مسترد کرنے کے مختلف بہانے تراشتے ہیں۔
ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ مالیاتی ادارے چوںکہ پاکستان کو قرض دیتے ہیں اس لئے وہ پاکستان کی معاشی حالت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ حقیقت اس کے بالکل برخلاف ہے۔ جتنی باریک بینی سے قرض دینے والا مقروض کی مالی حالت کا جائزہ لیتا ہے کوئی دوسرا نہیں لیتا۔ وجہ یہ کہ قرض دینےوالےکی رقم کی واپسی کا دارومدارمقروض کی مالیاتی صحت پر ہے اگر وہ حقائق پر مبنی رپورٹ نہیں دے گا تو اپنے ہی پیسے کو داؤ پر لگائے گا۔ مالیاتی ادارے اس مقصد کے لئے اپنے معاشی ماہرین کی ایک ٹیم کے ذریعے نہایت باریک بینی سے ان ممالک کی معیشت کا مسلسل جائزہ لیتے ہیں۔
اگرآپ نے کبھی بینک سےقرض لیا ہے یا کریڈٹ کارڈ کے لئے درخواست دی ہے تو پھر آپ بینکس کے اپنی رقم کے بارے میں اس محتاط رویے سے بخوبی واقف ہوں گے۔ ریٹنگ ایجنسیز بھی اپنی رپورٹس کےبارے میں حد درجہ محتاط ہوتی ہیں، ان کی ریٹنگز پر بین الاقوامی ادارے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے فیصلے کرتے ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل، بلوم برگ، نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، فوربز، اکانومسٹ، ایشین ریویوو, ریوٹرزجیسے نامور ادارے پاکستان کی ترقی کی گواہی دے رہے ہیں۔ اگر کوئی اس سب کے باوجود اےآروائی کے اینکرز، جو کہ معیشت کی الف ب سے بھی ناواقف ہیں، کی رائے کو زیادہ معتبر جانتا ہیں تووہ شدید بغض کا شکارہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *