Mayoosi

قیام پاکستان کے بعد نوزائیدہ مملکت کو جہاں دیگر مسائل کے انبار کا سامنا تھا وہاں مہاجرین کی آباد کاری کے علاوہ سب سے بڑا مسلہ سیاسی عدم استحکام تھا

کئی سال تک ملک کو متفقہ آئین نہ مل سکا اور جب ملا تب بدقسمتی سے ہم دو لخت ہو چکے تھے

اول دن سے ہی اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دوانیاں شروع ہو چکی تھیں- جنھوں نے قیام پاکستان کےلیے سب کچھ قربان کیا انکی وفاداریوں پہ شک ہونے لگا. ملک کی آبادی کا بڑا حصہ احساس محرومی کا شکار ہونے لگا. گھمبیر موضوع ہے جس کا مکمل احاطہ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور یے لیکن عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس ملک کی عوام کو کبھی بھی سچ نہیں بتایا گیا

ہر دور میں ذرائع ابلاغ کا کنٹرول حوالداران کے پاس رہا جو بوقت ضرورت اور بحکم بڑی سرکار کے کسی کو نجات دہندہ اور کسی کو ملکی سالمیت کےلیے خطرہ ثابت کرتے ہیں

تعلیم اور اجتماعی شعور کی کمی کی وجہ سے اکثریت ملک کے معروضی حالات سے بےخبر رہی اہل خبر بہت قلیل رہے اور جو تھے انکی زبان بندی ہوتی رہی جیلوں میں ڈالے گئے کوڑے مارے گئے. کسی نے اگر سچ لکھا بھی تو اشاعت پہ پابندیاں لگیں. صاحب اختیار مرضی کی تاریخ اور مرضی کا سچ بتاتے رہے ہماری اکثریت کل بھی اسی کوسچ سمجھتی تھی آج بھی اسی کو سچ مانا جاتا ہے

اس عمل کے تحت پچھلے ستر سالوں میں کئی گھوڑے میدان میں اتارے گے جنکو نجات دہندہ دیکھا کر عوام کے سامنے پیش کیا گیا. سیاسی عدم استحکام اور مایوسی کا شکار عوام بار بار ایک ہی طرح کے مختلف سانپوں سے ڈسی جاتی رہی

مارشل لا اور جموری ادوار کی آمیزش کے دوران مختلف شعبوں سے دو شخصیات ایسی ضرور ابھریں جن کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال تھا یہ لوگ ملک میں تبدیلی لےکر آ سکتے ہیں

کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد شوکت خانم ہسپتال سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے عمران خان پوری دنیا میں جنکی شہرت کا سکہ چلتا تھا جب میدان سیاست میں قدم رکھا تو عوام کی کثیر تعداد خصوصاً نوجوانوں کی بڑی تعداد کو ان میں امید کی کرن نظر آئی. اصل پزیرائی 2010 میں ملی. نوجوانوں کی اکثریت کے ساتھ ملک بھر سے مختلف سیاسی پارٹیوں کے بڑے بڑے نام اس پارٹی میں شامل ہوئے اور 2013 کے انتخابات میں بلاشبہ زبردست کامیابی حاصل کی ایک صوبے میں حکومت اور مرکز میں بھی تقریباً 30 نشستیں حاصل کی گئیں جو کہ ایک نئی پارٹی کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے. چونکہ ایک صوبے میں حکومت بنانے کا موقع ملا چنانچہ وہاں تبدیلی نافذ کر دی گئی

دوسری شخصیت جس نے مایوسی کے شکار پاکستانیوں کو امید کا ایک نیا ولولہ دیا وہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری تھے.

آپکی معزولی کے بعد ملک میں عدلیہ بحالی کی تحریک چلی جس میں وکلاء کے ساتھ عوام بھی شام ہوگئی اور بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مشرف کی اقتدار سے علیحدگی میں بڑا کردار عدلیہ بحالی تحریک کا تھا

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ ساتھ عمران خان اور مرحوم قاضی حسین احمد بھی اس تحریک کا حصہ رہے

نوازشریف کا لانگ مارچ تاریخ کا حصہ ہے

آپ بہت دبنگ چیف جسٹس واقع ہوئے ہیں.

آپ کی وجہ شہرت از خود نوٹس لینا اور آپ انتظامی امور میں بھی بوقت ضرورت مداخلت کرنے میں دیر نہیں کرتے تھے. پارلیمان کے فیصلوں قانون سازی کابینہ وغیرہ کے فیصلوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انصاف کا علم بلند کرتے تھے اکثر وزراء بیروکریٹس پولیس افسران کو بلا کر احکامات صادر فرماتے اور ضروری سرزنش بھی کرتے تھے.

گمشدہ افراد کے کیس کے سلسلے میں ملک کے طاقتور ترین اداروں کو بھی للکارا

آپ نے طاقتور ترین پراپرٹی ٹائیکون پہ بھی ہاتھ ڈالا لیکن اس ٹائیکون نے آپ پہ ہاتھ ڈال لیا

آپ مشہور زمانہ ارسلان افتخار کیس میں بھی بینچ سے علیحدہ نہ ہوئے. الغرض یہ نڈر دلیر چیف جسٹس ملک کے منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجتے ہوئے ایک لمحے کو ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی

آپ نے وکلاء کو اتنی طاقت بخشی کہ اب وہ احاطہ عدالت ہو یا سڑک وکلاء حضرات کسی بھی شریف شہری یا پولیس اہلکاروں کی سرعام چھترول کرنے سے دریغ نہیں کرتے

چیف تیرے جانثار

بےشمار بےشمار

جیسے نعروں کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے جسٹس صاحب پہ اختیارات سے تجاوز اور ریٹائرڈ ہونے کے باوجود سرکاری پروٹوکول کے استعمال اور مہنگی ترین بلٹ پروف گاڑی کے استعمال کا الزام لگے

عروج کا خاتمہ جسٹس پارٹی اور ملک میں صدارتی نظام کے مطالبے پر ہوا. موصوف اب قصہ پارینہ ہیں یوں اس شخص نے پاکستانی عوام کی امیدوں کا کریاکرم کیا.

عمران خان لاکھوں نوجوانوں کی طرح ہماری بھی امیدوں کا محور تھےلیکن اپنا بت تو مشرف کی ڈکٹیٹرشپ میں ہی ٹوٹ چکا تھا باقی لوگوں کو دھرنے ملک میں جلاو گیراو گالی گلوچ کی سیاست کے بعد بہت کچھ سمجھ آ گیا

ایک پوری نسل تباہ ہوگئی ذہنوں کے اندر ایسا زہربھر دیا گیا کہ جو اپنے علاوہ سب کو چور ذہنی غلام اور غدار تک سمجھتی ہے اور اب تو نوبت لسانیت تک آ چکی ہے

تبدیلی کے نفاذ کو بھی چار سال ہو رہے ہیں اور بات غیر سیاسی پُلس سے آگے نہ بڑھ سکی. عوام نوے دن کی تبدیلی تین سو پچاس ڈیم اورنئے پاکستان میں نوکریوں کی تلاش میں آنے والے غیرملکیوں کو تلاش کر رہی ہے

یاد آیا صحافت کے ایک قطب مینار بھی اسی رفتار سے تنزلی کا سفر طے کر رہے ہیں کیپیٹل ٹاک سے اب تہلکہ نیوز زیادہ دور نہیں

ہمارے ہیروز کا خاصہ ہے اپنے مداحوں کو زیادہ دیر خوش فہمی میں مبتلا نہیں رکھتے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *