Humshakal

گزشتہ روز آفس کے کولیگز کے ساتھ لنچ کا پروگرام بن گیا. جیسا کہ ایسے مواقع پر اکثر ہوا کرتا ہے کہ وینیو چننا ہی ایک مشکل امر بن جاتا ہے خیر کافی سوچ بچار کے بعد قرعہ ایف ٹن مرکز کے نام نکلا. کھانا کھانے کے بعد ایک دوست کو سوڈا پینے کی طلب محسوس وئی. ایف ٹن مرکز میں کھانا چاہے جیسا بھی ملتا ہو، سوڈا کافی اچھا مل جاتا ہے. سو ہم نے کار ایک سوڈا بیچنے والے کی دکان کے سامنے روکی اور سوڈا کا آرڈر دیا. اسی اثنا میں ایک ایک کر کے مختلف مانگنے والے کار کے گرد جمع ہونے لگے، کسی کا کچھ عذر اور کسی کا کچھ. ایک دو کو ہم نے تھوڑے بہت پیسے دئیے اور کچھ کو پیار سے یا ڈانٹ کر بھگا دیا

کچھ دیر بعد ہی سوڈے والے نے سوڈا کار میں سرو کر دیا، ابھی ہم سوڈا پی ہی رہے تھے کہ مخصوص حلیے والے ایک عمر رسیدہ پیشہ ور بھکاری نے ہماری کار کا شیشہ کھٹکھٹایا. میرے سینئر جو کہ کافی نرم دل کے مالک ہیں اور بہت جلدی کسی کی بھی کہانی سن کر متاثر ہو جاتے ہیں، انہوں نے ان بھکاری صاحب کی بزرگی دیکھتے ہوئے شیشہ نیچے کیا اور ان کی بات سننے لگے

آپ میں سے جو لوگ اکثر ایف ٹین مرکز جاتے رہتے ہیں، وہ غالباً ان مخصوص حلیے والے بھکاری صاحب سے واقف ہوں گے. یہ جناب ایف ٹین مرکز میں عرصہ دراز سے براجمان ہیں اور شروع سے مانگنے کا ہی کام کرتے ہیں. ان کے بال اسی دشت کی سیاحی میں سفید ہوئے ہیں، چہرے پر موجود جھریاں ان کی اپنی فیلڈ میں تجربے کی گواہ ہیں. ایک ہی کہانی بیس سال سے سنا کر لوگوں سے پیسے وصول کر لینا، ان کی تجربہ کاری کا ہی مظہر ہے. اچھے خاصے لوگ ان کی کئی بار کی سنی کہانی سن کر بھی پھر سے اعتبار کرتے ہیں اور پیسے پکڑا دیتے ہیں. شاید اس کی وجہ یہ بھی ٹھہری ہو کہ ہم میں سے اکثر جس بات پر یقین کرنا چاہتے ہیں، اس پر اگر مگر چونکہ چنانچہ کیے بنا ہی یقین کرنے پر اپنے دل کو مجبور پاتے ہیں.

تمہید باندھتے باندھتے بات کہاں سے کہاں نکل گئی. خیر پیشہ ور بھکاری صاحب نے اپنا تعارف دلگیر لہجے میں کرایا اور گھر میں راشن نہ ہونے کی کہانی کو ہمارے سینئر کے گوش گزار کر دیا. ہمارے سینئر ٹھہرے سادہ بندے، کھٹ سے ایک سو کا نوٹ نکال کر ان کی نذر کیا. سرخ پتی اپنے ہاتھ میں دیکھ کر بھکاری صاحب وجد میں آ گئے، دعاؤں کے ساتھ سینئر کو تولتے ہوئے مزید کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی ساتھ مذہب کا کارڈ بھی کھیل ڈالا. سینئر بھائی نے بھکاری صاحب کوپھیلتا دیکھ کر پیچھا چھڑوانے کی کوشش کی مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا – بات صرف مانگنے سے آگے نکل کر یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ سب بھکاری ایک جیسے نہیں ہوتے، مجھے یہاں سب جانتے ہیں، اس لیے میں ہی سچا ہوں. اور وہ جو نیلا نوٹ بٹوے میں رکھا ہے، وہ لیے بنا تو اب میں ٹلنے والا نہیں. مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق سینئر بھائی نے مزید ڈیڑھ سو روپے بھکاری صاحب کی خدمت میں پیش کیے اور جان چھوڑنے کی استدعا کی. ہمارا خیال تھا کہ اب تو جان چھٹ ہی جائے گی مگر حیرت انگیز طور پر بھکاری صاحب ابھی بھی ٹلنے کو تیار نہ تھے اور بار بار الله رسول کا حوالہ دے کر نیلے نوٹ کے حصول کے لیے سرگرداں تھے. اپنے سینئر کو اس دگرگوں صورتحال میں دیکھ کر میں نے ہی بھکاری صاحب کو شٹ اپ کال دینے کا سوچا. قصہ مختصر یہ کہ میں نے سینئر بھائی سے معاملات ٹیک اوور کیے اور تھوڑے بہت بول بلارے کے بعد بھکاری صاحب جھکتے بکتے اگلی کار کی طرف روانہ ہو گئے. انھیں جاتے دیکھ کر ہمارے سینئر نے سکھ کا سانس لیا اور ہمارا شکریہ ادا کیا. یوں ہم لوٹ کر واپس آفس آ گئے

پیشہ ور بھکاری صاحب تو چلے گئے مگر مجھے جانے کیوں وہ جانے پہچانے سے محسوس ہو رہے تھے، دماغ پر کافی زور ڈالنے کے بعد بھی یاد نہ آیا کہ ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے. خیر میں نے اس خیال کو دماغ سے جھٹک دیا اور اپنے معمولات میں مصروف ہو گیا. مگر آج صبح کے اخبار میں ایک پیشہ ور صحافی کا کالم پڑھ کر ذہن میں جیسے ایک جھماکہ ہوا اور تصویر واضح ہوتیچلی گئی. یہ ادراک ہوا کہ لازم نہیں کہ لوگ صرف ملتی جلتی شکلوں کی وجہ سے ہی ہم شکل محسوس ہوں، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے .منسلک بہت سے لوگ اپنی ایک سی خصلتوں سے بھی ایک دوسرے کی یاد دلایا کرتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *