Quran Alkareem aur hum

قرآن کریم الله کی بابرکت کتاب هے جو الله تعالی نے اپنے آخری نبی حضرت محمد (ص) په اتاری. یه کتاب ماضی حال اور مستقبل کا علم رکھنے والے خالق کائینات کی کتاب هے- اس کتاب میں موجود علم معجزانه کلام کا حامل هے. دور حاظر اور مستقبل میں پیش آنے والے مسائل اور انکا حل بھی اسی کتاب میں میسر هے۔

لیکن ایک مسئله جو هم سب لوگوں کو درپیش هے وه کتاب الله کی سمجھ هے. فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے یه کتاب بے مثال هے اور اسکا علم رکھنے والے عالم بہت محدود صلاحیت کے حامل هیں- حضرت ابن عباس (رض) اپنے وقت کے ایک بڑے شارح القرآن تھے اور لوگ دور دور سے انکے پاس قرآن کے معانی اور تشریح کی غرض سے آیا کرتے تھے. ایک دفعه لوگوں نے پوچھا که اے ابن عباس آپکے بعد لوگ کدھر جائیں تو آپ نے فرمایا که قرآن ایک لافانی کتاب هے اور اس کے معانی هر دور میں اس دور کے حساب سے هوا کریں گے, لهذا تم آنے والے وقت اور لوگوں کی فکر مت کرو۔

آج همارے هاں کے علمأ خواه وه کسی بھی مسلک کے ہوں وه قرآن کے تشریح اپنے اپنے نقطئه نظر سے کررهے هیں اور المیه یه هے که ان کی تشریح کی بنیاد وه پرانے مخطوطات اور تشریحات هیں جو که بہت پرانی هیں اور آجکل کے حالات سے میل نهیں کھاتیں. اس کا نتیجه یه نکلتا هے که ہمیں نئے دور کے بهت سے مسائل کا حل نظر نہیں آتا اور بعض اوقات همیں اسلام بطور مذہب پرانا محسوس هوتا هے, جبکه ایسا بالکل بھی نهیں هے. یه کیسے هوسکتا هے که آخری زمانه تک کی رہنمائی کیلئیے نازل هونے والی کتاب کے پاس همارے آج کل کے مسائل کا حل موجود نه هو۔

قرآن نے آج سے چوده صدیاں بیشتر بہترین معاشرے کیلئیے بہترین معاشرتی نظام پیش کیا لیکن هم اسے سمجھ نه پائے جس کے نتیجه میں هم کیپٹلزم, اشتراکیت اور لبرلزم کے مقابل اسلامی معاشرتی نقطئه نظر کی وضاحت نهیں کرسکے. هم نے نه صرف معاشرتی مسائل کے پہلو سے قرآن کو سمجھنے میں کوتاهی کی هے بلکه زندگی کے دیگر مسائل سے متعلق بھی قرآنی تعلیمات کو نهیں سمجھا۔

میرے خیال میں هم سے بنیادی غلطی علمأ کو مین سٹریم سے نکال دینے کی هوئی هے. هم نے مذهبی علمأ کو ایک ناپسندیده چیز کی مانند ایک سائیڈ په مسجد میں بٹھا دیا هے که وه ادھر بیٹھ کر صرف الله الله کریں اور جدید علوم اور معلومات کا ان سے کوئی تعلق نهیں هے. شاید اسی کا نتیجه هے که آج بھی کئی قرآنی آیات تشبیهات کے درجه میں آتی هیں که همارے پاس انکی سچائی پرکھنے کی معلومات نهیں, همارا علم محدود هے۔

آج هماری سب سے بڑی ذمه داری یه هے که هم علمأ کرام کو اپنی زندگی میں داخل کریں, انکے لیے جدید علوم کے دروازے کھول کر انکو انکی طرف راغب کریں. تب هی هم زندگی کے تمام مسائل سے متعلق قرآنی تعلیمات کی وضاحت کرسکیں گے اور ان مسائل کے مفید اور باعمل حل دنیا کے سامنے پیش کرسکیں گے۔

ذرا سوچئیے گا ضرور

(تمام آرا مصنف کا نقطہ نظر ہیں۔ ادارہ چائے خانہ کا متفق ہونا ضروری نہیں)

2 thoughts on “Quran Alkareem aur hum

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.