Pakistan Stock Market – A follow up

آجکل پھر سے میڈیا میں پاکستانی بازار حصص یعنی سٹاک مارکیٹ کا چرچا هے. سب اسکی شاندار کارکردگی په رطب السان هیں. اس حوالے سے میری پرانی تحریر جو که 22اکتوبر 2016 کی هے په بھی اک نظر ڈالی جا سکتی هے۔

سوچا اس موضوع په پھر دوباره اپ ڈیٹ دی جائیں. آج 02-01-2017 کی جیو نیوز کے مطابق پاکستانی سٹاک مارکیٹ انڈین سٹاک مارکیٹ سے آگے نکل گئی هے. جیو کی خبر کے مطابق اگر هم ڈالروں میں تبدیل کرکے دیکھیں تو پته چلتا هے که پاکستانی مارکیٹ کا اضافه 14 فیصد هے جبکه انڈین مارکیٹ کا اضافه 8.50 فیصد کے قریب هے- ایک عام آدمی کی مطابق هم صحیح سمت میں سفر کررهے هیں اور هماری معیشت انڈین معیشت کے مقابلے میں زیاده اچھی هے. لیکن کیا واقعی ایسا هے? انڈین معیشت کی ترقی کی رفتار زیاده هے, انکے کرنسی ریزرو بھی زیاده اور انڈین روپیه هم سے زیاده مضبوط هے۔

اگر هم پچھلے سال کی سٹاک مارکیٹ کی کارکردگی کو دیکھیں تو پته چلتا هے که 100 انڈیکس کا اعشاریه 32800 سے بڑھ کر 47400 تک آگیا یعنی تقریبا 14600 پوائینٹس کا اضافه جو که 44.51 فیصد بنتا هے, جو که ایک بهت اچھی کارکردگی هے۔

آجکل جس بھی بروکر سے پوچھیں وه مشوره دیتا هے که بس شئیرز لے لیں, اگر لیے هووئے هیں تو رکھ لیں کیونکه مزید بڑھ جانے کا امکان هے- اس وقت اکثریت 52000 پوائینٹس کی بات کر رهی هے لیکن اس لیول کے بعد کیا هوگا اس بارے میں سب هی خاموش هیں- یاد رهے که مارچ 2016 میں جو سال کے اختتام کے اندازے تھے وه 40000 پوائینٹس کے قریب قریب کے تھے۔

اگر هم انڈسٹریل سیکٹرز په نظر ڈالیں تو پته چلتا هے که ٹیکسٹائیل جو هماری مین انڈسٹری هے وه ڈاؤن جارهی هے, انٹرنیشنل مارکیٹ میں هم سخت مسابقت کا شکار هیں اور همارے انڈسٹریلسٹ لاگت کی وجه سے کم منافع یا نقصان کے سودے کررهے هیں, سٹیل کا حال بھی کچھ اچھا نهیں. بینکنگ میں منافع کے سپریڈز کمی کی طرف هیں. آئیل اینڈ گیس قدرے اچھی حالت میں هیں جبکه کھادسازی اپنے پرانے لیول په هیں. البته سیمنٹ بهت اچھی حالت میں هے اور اسکی کارکردگی میں بهتری آئی هے۔

پهر کیا وجه هے که مارکیٹ اوپر هی اوپر جارهی هے. میری رائے کے مطابق صرف اور صرف سٹه هورها هے جو که مارکیٹ کو لیے جارها هے. دسمبر کے ماه میں ساکرا بیلنسز اور فارن انویسٹر پورٹ فولیو بیلنسز دونوں هی نیچے کا ٹرینڈ ظاهر کررهے هیں. مزید یه که اب مارکیٹ میں زیاده توجه تیسرے درجے کے سٹاکس میں بڑھ گئی هے او وه اپنی ویلیو کے تین سے چار گنا په آگئیے هیں, جوکه ایک خطرناک بات هے۔

لوکل انویسٹرز کو بھی سٹاک مارکیٹ کے علاوه کچھ نظر نهیں آرها کیونکه ڈیپازٹس اور نیشنل سیونگز په منافع کی شرح بهت کم هو چکی هے اور نئے ٹیکس کی وجه سے پراپرٹی مارکیٹ بھی سست روی کا شکار هے بلکه جون کے لیول سے نیچے آچکی هے. اس صورتحال میں مال بنانے کیلئیے صرف سٹاک مارکیٹ هی بچتی هے .۔

اگر هم 100 انڈیکس کی ٹاپ 25 کمپنیز کی بیلنس شیٹ دیکھیں تو اکثر کے خالص منافع همیں سٹاک مارکیٹ کی سرمایه کاری کے مرہون منت نظر آتے هیں. اس صورتحال میں چھوٹے سرمایه کار زیاده خطرے میں آجاتے هیں خاص طور په وه جو مارجن فائینانسنگ په کام کررهے هوتے هیں اور انکی هولڈنگ پاور نهیں هوتی جبکه بروکر کے مشورے په زیاده منافع کا لالچ انکو مزید پوزیشن لینے په مجبور کررها هوتا هے۔

میری رائے کے مطابق اب سٹاک مارکیٹ کی سرمایه کاری زیاده احتیاط کا تقاضه کرتی هے اور چھوٹے سرمایه کار زیاده رسک میں هیں, کیونکه اس لیول سے آگے جانے میں منافع جے چانس کم اور نیچے جانے پر نقصان کے چانسز زیاده هیں۔

نوٹ:- یه خیالات میرے اپنے هیں اور آپکا ان سے متفق هونا ضروری نهیں, اور نه هی کسی کو اسکی انویسٹمنٹ سے روکنا یا انویسٹمنٹ کی طرف راغب کرنا مقصود هے. هاں آپکی آرأ میری رهنمائی ضرور کریں گی, شکریه

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *