Kyaa Main Bagee hoon?

‏سال تو نیا شروع ہوگیا لیکن باتیں وہ ہی پرانی ہے ،آج بھی ہم گزشتہ برسوں کے واقعات پر بحث کر رہے ہیں خاص طور پر دو برس قبل ہونے والے دھرنے کے بارے میں اور شاید یہ بحث آگے مزید کئی برس چلتی رہے گی ۔اس موضوع پر تبصرے پھر سےشروع ہوگئے ہیں جس کا کریڈٹ ہمارے جانے پہچانے سیاست دان جاوید ہاشمی کو جاتا ہے جو کچھ وقفے کے بعد پرانا انکشاف ایک نئے انداز میں کردیتے ہیں اور وہ نیوز کی ہیڈ لائنز بن جاتی ہے ۔ (ویسے تو بہت ہی اچھا ہے ان انکشافات سے صاف ستھرے اصول پسند اور ایماندار عمران خان کا چہرا مزید عیاں ہورہا ہے ۔(
خیر آج میرا موضوع گفتگو عمران خان نہیں بلکہ عمران خان کے بارے میں انکشافات کرنے والا شخص جاوید ہاشمی صاحب ہیں جو کہ باغی کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ جن کی پہچان یہ ہے کہ وہ انتہائی اصول پسند شخص ہیں۔اور بطور سیاستدان جمہوریت کے بہت بڑے حامی ہیں اور ساتھ ان کی بے تحاشا قربانیوں کی کہانیاں بھی زبان زدِ عام ہیں۔
یہ وقت تھا دسمبر دو ہزار گیارہ کا اور پی ٹی آئی کراچی میں ایک کامیاب جلسے کی تیاری کر رہی تھی اور جلسے سے ایک روز قبل یہ خبر آئی کہ مسلم لیگ ن کے اہم رہنما جاوید ہاشمی نے ن لیگ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اور پی ٹی آئی میں شموليت کا اعلان کرنے جارہے ہیں ۔ جاوید ہاشمی صاحب کا ن لیگ چھوڑنے کو ن لیگ کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا جارہا تھا اور پی ٹی آئی کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیا جارہا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہوا کا رخ عمران خان کی طرف تھا اور ایک کے بعد ایک سیاست دان پی ٹی آئی میں شامل ہو رہا تھاایک سوچ بن رہی تھی کہ عمران خان تبدیلی کے اگلے علمبردار ہیں ۔ شاید میں اور آپ تو اس تبدیلی سے نا واقف ہوں لیکن اسلام آباد اور پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے سیاست دان اس تبدیلی کی اصل حقیقت اور اس تبدیلی کے پیچھے اصل چہرے سے ناواقف نہیں تھے ۔
خیر جاوید ہاشمی صاحب نے مسلم لیگ سے اپنا پرانا تعلق توڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی اور پھر اسی پارٹی کے صدر بھی منتخب ہوئے ۔اسی پارٹی کے ٹکٹ پہ دو ہزار تیرہ کےانتخابات میں حصہ بھی لیا اور اسلام آباد اور ملتان کی نیشنل اسمبلی کے دو حلقوں سے فتح بھی حاصل کی ۔ پھر جنرل الیکشن کے ایک سال اور تین مہینے بعد پی ٹی آئی سے بھی تعلق ختم کردیا ۔
جس وقت پی ٹی آئی سے تعلق ختم کیا ان دنوں اسلام آباد میں دھرنا ڈراما چل رہا تھا اور ملک کے منتخب وزیراعظم سے استعفیٰ لینے کی تیاری ہورہی تھی۔ اور اسی کوشش میں ملک کی پارلیمنٹ میں حملہ کرنے سے بھی پی ٹی آئی نے کوئی شرم محسوس نہیں کی ۔ یہ وہ وقت تھا جب جاوید ہاشمی صاحب نے پی ٹی آئی چھوڑ کر انکشافات کا سلسلہ شروع کیا ۔
اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ پی ٹی آئی کے دھرنے کا زوال جاوید ہاشمی کے انکشافات کے بعد شروع ہوا ۔ میری سوچ اس کے برعکس ہے ۔پی ٹی آئی دھرنے کا زوال اس وقت شروع ہوا جب خان صاحب چودہ اگست کو اپنے گھر لاہور سے باہر نکلے اور نکلتے وقت ان کے پاس عوام کی وہ تعداد نہیں تھی جس کی امید ان کو تھی ۔ پھر پورا دن لاہور کی گلیوں کے چکر کاٹنےکے باوجود بھی عوام کی تعداد میں اضافہ ہونے کی بجائے کمی ہی ہو رہی تھی ۔ دھرنے کا زوال تب ہوا جب روز عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہوکر عوام کو پکار رہے تھے لیکن عوام بھی اس پکار کو سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار نہیں تھی ۔ دھرنے کا زوال تب شروع ہوا جب ملک کے منتخب وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ میں کہیں نہیں جاؤں گا جو کرنا ہے کر لو ،دھرنے کا زوال تب شروع ہوا جب پارلیمنٹ میں عوام کے ووٹوں سے آنے والے سیاست دانوں نے ایک زبان ہوکر کسی بھی طرح کی غیر آئینی اقدامات کی کھل کر مخالفت کی ،دھرنے کا زوال تب شروع ہوا جب جنرل راحیل شریف بار بار کی پکار اور اپنے ادارے کے چند ساتھیوں کے زور دینے کے باوجود بھی انگلی اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوئے ۔
دھرنے کا زوال تو دھرنے کے آغاز سے ہی ہوگیا تھا اور دھرنے کی ناکامی کا ثبوت عمران خان کی روز کنٹینرز سے ہونے والی تقریر تھی ۔ پارلیمنٹ میں حملہ تو عمران خان کے دھرنے کی ناکامی اور غصے کا ثبوت تھا کہ وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوچکے ہیں اسی لیے اب تشدد کا راستہ اختیار کر رہے ہیں ۔
خیر میں آتا ہوں اپنے اصل موضوع حضرت جاوید ہاشمی صاحب پر جو روز ایک نیا انکشاف کر رہے ہوتے ہیں اور وہ انکشافات نیوز کی ہیڈ لائنز بن جاتی ہے ۔میرے دل اور دماغ میں چند سوالات ہیں جن کے جوابات کی مجھے آج بھی تلاش ہے۔

حضرت جاوید ہاشمی صاحب مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے جو اختلافات مسلم لیگ ن سے تھے وہ بلکل جائز ہوں گے اور پارٹی میں آپ کے ساتھ زیادتی بھی ہوئی ہوگی لیکن آپ نے وہ وقت کیوں چنا پارٹی چھوڑنے کا جب ایک ایسی سوچ بن رہی تھی کہ ملک کا اگلا وزیراعظم شاید نوازشریف نہیں بلکہ عمران خان ہو۔
چلیں ٹھیک ہے آپ نے مسلم لیگ چھوڑ بھی دی اس وقت جس کی وجہ سے پارٹی کو ایک دھچکا لگ سکتا تھا ۔لیکن پارٹی چھوڑنے کے بعد جس طرح سے آپ نے میاں صاحب اور مسلم لیگ ن پر تنقید کی کیا وہ آپ جیسے اصول پسند انسان پر جچتا ہے ؟
پی ٹی آئی جوائن کرنے کے بعد جس طرح سے آپ نے مسلم لیگ اور خاص طور پر میاں نواز شریف پر تنقید کی اس سےایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے شدید ترین اختلافات تھے تو اتنا وقت کیوں لگایا پارٹی چھوڑنے میں ۔
جو میاں نواز شریف آپ کو اپنا قریبی ساتھی کہتا اور سمجھتا تھا اس نواز شریف کے بھائی کے جنازے میں بھی آپ نے شرکت کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا؟ بلکہ تعزیت کے لئے بھی آپ پی ٹی آئی کے رہنما بن کر آئے تھے ناکہ ایک دوست بن کر ۔ اس کے پیچھے کی کوئی خاص وجہ؟
آپ کے انکشافات ہی بتاتے ہیں کہ عمران خان کے پیچھے پاشا نامی شخص تھا؟ یہ انکشاف آپ کو کب ہوا؟ پی ٹی آئی جوائن کرنے سے پہلے یا بعد میں؟ دو ہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے یا بعد میں ؟ اور انکشاف ہونے کے کتنے عرصے بعد آپ نے پی ٹی آئی چھوڑنے کا فیصلہ کیا؟
کیا آپ عمران خان کی سوچ سے متفق تھے کہ جنرل الیکشن میں دھاندلی ہوئی ؟
اور سب سے اہم سوال بھول جائیں کے دھرنے کے پیچھے کیا سازش تھی آپ کس حثیت سے ایک منتخب وزیراعظم سے دھرنے اور لانگ مارچ کے ذریعے استعفیٰ مانگنے آرہے تھے؟ بلکہ آپ تو اس دھرنے اور لانگ مارچ کے سلسلے میں ہونے والی چندہ مہم میں پیش پیش بھی تھے ۔آپ جیسا جمہوریت پسند اور اصولوں والا شخص اس تمام سلسلے میں شامل ہی کیوں تھا جو زور زبردستی سے ایک منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجنا چاہ رہا تھا؟
اور آپ سے آخری سوال یہ ہی ہے کہ جس نوازشریف پر آپ نے بے شمار تنقید کی تھی عمران خان کو ہیرو بناتے ہوئے اس نواز شریف کی جماعت جس سےآپ کو کافی اختلافات تھے آپ اس میں دوبارہ شامل ہونا تو پسند نہیں کریں گے ؟
آپ کے اختلافات مسلم لیگ ن سے بلکل ٹھیک ہوں گے اور آپ کا ن لیگ کو چھوڑنے میں آپ حق جانب بھی ہوں گے لیکن پارٹی چھوڑ کر فوراً ہی اس جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی جس کے بارے میں یہ گمان کیا جارہا تھا کہ اس کے پیچھے کوئی اور پوشیدہ طاقتیں ہیں ۔ کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ آپ اپنی جدوجہد انفرادی طور پر کرتے بغیر کسی اور جماعت کو جوائن کیے ہوئے ؟

یہ بات تو ہوگئی جاوید ہاشمی صاحب کی اب کچھ بات میں اپنے ان لیگی دوستوں کی کردوں جن کی نظر میں آج کل ہاشمی صاحب ہیرو بنے ہوئے ہیں کہ کیا انہیں وہ منظر یاد ہے جب ہاشمی صاحب کو مسلم لیگ میں روکنے کے لئے آپ جیسے ہی لیگی کارکن ان کی گاڑی کے سامنے لیٹ گئے تھے اور ان سے التجا کر رہے تھے لیکن وہ نہیں مانے ۔کیا آپ کو سچ میں لگتا ہے کہ ہاشمی صاحب لاعلم تھے پی ٹی آئی جوائن کرنے سے پہلے کہ پی ٹی آئی کے پیچھے کونسی طاقتیں ہیں ۔بطور پی ٹی آئی صدر یا پی ٹی آئی سےاتنا عرصہ منسلک رہنے کے باوجود بھی وہ دھرنے کے اصل مقاصد سے لا علم تھے؟اچھی بات ہے کہ آپ اس وقت عمران خان کی منافقت کو نمایاں کرنے کے لیے ان کے پہلے کے اور اب کے بیانات کا فرق سب کو بتا رہے ہیں ۔ ذراکبھی فرصت ہو تو ہاشمی صاحب کے بیانات کا ریکارڈ بھی چیک کر لیجئیےگا کہ ان کے بیانات میں کس حد تک تضادات ہیں جب وہ پی ٹی آئی میں تھے اور جب وہ پی ٹی آئی سے رخصت ہوئے۔ویسے ہاشمی صاحب کی پی ٹی آئی سے رخصتی میرے لئے زیادہ حیران کن بات نہیں تھی کیونکہ جس دن سے ہاشمی صاحب نے پی ٹی آئی جوائن کی تھی یہ ہی خیال کیا جارہا تھا کہ یا تو شاہ محمود قریشی صاحب پارٹی میں رہیں گے یا پھر جاوید ہاشمی صاحب اور ہوا کچھ یوں کہ شاہ صاحب کا پلڑا زیادہ بھاری رہا ۔

One thought on “Kyaa Main Bagee hoon?

  • January 4, 2017 at 9:41 am
    Permalink

    زبردست تحریر اسماعیل بھائی

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *