Biwi

بیوی، بیگم، وائیف یه سب چار حرفی لفظ ایک هی شخصیت کے هیں جو که ایک چار حرفی لفظ یعنی نکاح کے بندھن میں بندھ کرایک انجانے گھر میں چلی آتی هے, اسےاپنا لیتی هے اور پهر ساری زندگی اس گھر مین گزارنے کی کوششوں میں مصروف رهتی هے۔

دنیا بھر کے ادب میں اس نازک اور پیارے رشتے کو بطور مزاح اور تضحیک کے هی لیا جاتا هے – تمام تر لطائیف اس کی ذات کا احاطه کیے هوئے هوتے هیں جو که زیادتی هے- انگریزی, اردو, پنجابی جو که زیاده تر بولے جانے والی زبانیں هیں ان میں بھی سکھوں, پٹھانوں, آئیرش اور بیوی کے گرد هی مزاح گھومتا هے۔

دنیا میں اگر دیکھا جائے تو ماں کے بعد سب سے زیاده مخلص رشته بیوی کا هی هوتا هے, جوکه دو بولوں کا محتاج هوتا هے اور جب ایک دفعه یه رشته بندھ جائے پھر بیوی اپنے شوهر اور اسکی اولاد اور گھر کی خاطر دنیا بھر کے سامنے خم ٹھونک کے کھڑی هوجاتی هے چاهےبعض اوقات اس کے اپنے خونی رشتے هی اس کی لپیٹ میں کیوں نه آجائیں۔

ان تمام تر قربانیوں, محنتوں اور کوششوں کے جواب میں صرف ایک خواھش, ایک حق اس کے دل کی زینت هوتا هے اور وه هے شوهر په ملکیت کا حق. اس کی خوایش هوتی هے که اسکا شویر صرف اسکا هو, اور وه اس میں دوسراهٹ برداشت نهیں کر سکتی خواه وه اسکی ساس کی طرف سے هی کیوں نه هو- اس مسئلے په آکر اسکا روپ تبدیل هوجاتا هے اور پھر اسکا ردعمل نهایت خوفناک هوتا هے۔

اسلام وه واحد مذهب هے جس نے بیوی کو سب سے زیاده حقوق دیے اور معاشرے میں ایک باعزت مقام سے نوازا – لیکن یه شوهر نام کی مخلوق ایسی هے که جو ان دیے گئے آفاقی حقوق کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی اپنی بیوی په مسلط کرنا اپنا حق سمجھتا هے اور اکثر انکی نظر میں بیوی کا مقام ایک فضول اور غیر ضروری چیز سے زائید نهیں هوتا اور یه سیچوئیشن مذهبی گھرانوں میں زیاده تکلیف ده حد تک بڑھی هوئی هوتی هے جو که همارے معاشرے کا ایک المیه هے۔

میری رائے میں بیوی کو اسکے جائیز مقام کے محروم کرنے کی رسم همارے هاں هندو معاشرے سے آئی هے کیونکه اس مذهب اور معاشرے میں هی بیوی کو ایک جانور یا شودر سے زائید مقام حاصل نهیں اور وه اپنے شوهر کی تابع بنا دی گئی هے۔

اپنے گھر کو حقیقی جنت بنانے کیلئیے همیں اپنے گھروں میں ایک مطمئین اور باعزت بیوی کی موجودگی درکار هے- جب تک هم اسے اسکا جائیز مقام نهیں دیں گے اسوقت تک نه هم گھروں میں سکون پا سکتے هیں اور نه هی نیک اور صالح اولاد کی تربیت کا سوچ سکتے هیں اور هاں یاد رهے ایسا کرنے په اگر زن مریدی کا طعنه ملے تو ملنے دیں کیونکه اگر گھر پرسکون هوگا تو اس کا فائده آپکو هی هوگا۔

2 thoughts on “Biwi

  • December 17, 2016 at 2:50 am
    Permalink

    Excellent attempt, Bro.
    Your “BIWI” must be a lucky one.

    Reply
  • December 17, 2016 at 2:51 am
    Permalink

    Excellent attempt, Bro.
    Your “BIWI” must be a lucky one.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *