Yeh Laa Ilmi Koi Achi Baat Nahin

یہ لاعلمی کوئی اچھی بات نہیں

پیر کی صبح میرا جو کالم چھپا،اسے ٹویٹر اور فیس بک پر لگانے کے فوراََ بعد قارئین کی ایک بہت بڑی تعداد میڈیا کے خلاف دہائی مچانا شروع ہوگئی۔ مجھے بہت کڑے لفظوں میں بتایا کہ اگر پاکستان کے ہر نوع کے حکمرانوں نے یکجا ہوکر ہمارے ’’مادرپدر آزاد‘‘میڈیا کا مکوٹھپنے کا فیصلہ کرلیا ہے تویہ ہرگز غلط فیصلہ نہیں ہے۔یہ کام تو بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔ میڈیا اور خاص کر شام سات بجے سے رات 12بجے تک حق گوئی کے پیغامبر بنے اینکرخواتین وحضرات اس ملک میں ہیجان ہی تو پھیلا رہے ہیں۔

چند ایک قارئین کا اصرار یہ بھی تھا کہ شاید پاکستان کے روایتی اور ازلی دشمنوں کے اشارے پر افراتفری کا ماحول بنایا جارہا ہے۔ پاکستان کا قومی مفاد بھی لہذا میڈیا کو لگام دینے کا تقاضہ کرتا ہے۔
اپنے شائع شدہ کالم کو انٹرنیٹ پرپوسٹ کرنے کے بعد مجھے دوسرے دن چھپنے والا کالم لکھنے کی جلدی ہوتی ہے۔قارئین کے تبصروں کی بھرمارنے مگر جی اداس کردیا۔ اپنی بے ہنری پر مزید دُکھ اس لئے بھی ہواکیونکہ پیر کے روز شائع ہونے والے کالم کے ذریعے میں درحقیقت یہ تقاضہ کرنا چاہ رہا تھا کہ ہماری قومی سلامتی سے جڑے معاملات پر آزادانہ رپورٹنگ کی گنجائش فراہم کی جائے۔ ان معاملات کو ’’حساس‘‘ قرار دے کر رپورٹروں کے لئے ’’نوگوایریا‘‘ میں تبدیل نہ کیا جائے۔ حقائق کے ایماندارانہ بیان کے بعد ٹھوس سوالات اٹھاکر قومی سطح پر ایک بھرپور مباحثے کا آغاز ہو۔ اس مباحثے کے نتیجے میں بنائی پالیسیوں کے ذریعے ہی پاکستان ان خطرات کا کماحقہ مقابلہ کرسکتا ہے جو افغانستان،بھارت اور امریکہ باہم مل کر ہمارے اوپر مسلط کرنا چاہ رہے ہیں۔
میں اپنی بات مگر سمجھانہ پایا۔ میرے اندر کا رپورٹر یہ بیان کرنے کی طرف بہک گیا کہ ’’ڈان لیکس‘‘ کی بنیاد پر اٹھائے طوفان سے نبردآزما ہونے کیلئے نواز حکومت نے بہت سوچ سمجھ کر پرویز رشید کو وزارت سے فارغ کیا تھا۔ اب ایک کمیٹی جس میں تمام ’’حساس اداروں‘‘ کے نمائندے بھی موجود ہیں، ہر روز کی بنیاد پر کام کرتے ہوئے یہ طے کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ 6اکتوبر بروز جمعرات کو صفحہ اوّل پر چھپی کہانی کے ’’اصل‘‘ذمہ دار کون تھے۔ذمہ داروں کاتعین ہوگیا تو انہیں ’’عبرت ناک‘‘ نظر آنیوالی سزا بھی ملے گی۔ بات مگر یہاں ختم نہیں ہوگی۔ قومی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہوئے اداروں کی تسلی کردینے کے بعد نواز حکومت چن چن کر ان لوگوں کو اپنانشانہ بنائے گی جو دو ہزار چودہ سے ہر رات اسے گھر بھیج رہے ہوتے ہیں۔

ایمانداری کی بات یہ بھی ہے کہ نواز حکومت کے مخالف چند بے باک صحافیوں نے میرے پیشے کی اخلاقیات کو سفاکانہ انداز میں روندتے ہوئے ہیجان کی فضاء بالکل بنائی ہے۔ یہ فضا بناتے ہوئے ان کا ضمیر شاید اس لئے مطمئن رہا کہ اپنے تئیں وہ ’’مودی کے یار‘‘کو بے نقاب کررہے تھے۔ انہیں یہ گماں رہا کہ ’’قومی سلامتی کے تحفظ‘‘ کی خاطر برپا کی گئی یہ سیاپا گری انہیں ریاست کے چند دائمی اداروں کا محبوب بنادے گی۔ دیوار سے لگائی نواز حکومت اپنے دفاع کے لئے کوئی جوابی وار کرنے کے قابل ہی نہیں رہے گی۔

دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد آئی حکومت کو بھی ہمارے مستعد اور بے باک صحافیوں نے دیوار سے لگائے رکھا تھا۔ ہماری حق گوئی کو مہمیز مگر اس وقت کے چیف جسٹس نے فراہم کی تھی۔ شہباز شریف بھی ’’علی بابا اور اس کے ساتھیوں‘‘ کو گلیوں میں گھسیٹنے کی بڑھک لگایا کرتے تھے۔نواز شریف صاحب نے لانگ مارچ کے ذریعے جنرل کیانی اور امریکہ کی وزیر خارجہ کو مجبور کیا کہ وہ آصف علی زرداری کو افتخار چودھری کی بحالی پر آمادہ کریں۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد چند سوالات اُٹھاناضروری تھے۔بجائے ان سوالات کا جواب لینے کے نواز شریف صاحب کالا کوٹ پہن کرسپریم کورٹ پہنچ گئے۔ ’’میموگیٹ‘‘ ایجادہوگیا۔ اس کے بارے میں مچائے تمام تر شوروغوغا کے باوجود ہم ابھی تک معلوم نہیں کر پائے کہ ’’میموگیٹ‘‘ درحقیقت تھی کیا بلا۔ رات گئی بات گئی والا معاملہ ہوگیا۔
دو ہزار آٹھ کے بعد سے برپا مسلسل ہیجان کے باوجود حقیقت یہ بھی رہی کہ اس سال ہوئے انتخابات کے ذریعے منتخب ہونیوالی قومی اور صوبائی اسمبلیوں نے اپنی پنج سالہ آئینی مدت پوری کی۔ صرف یوسف رضا گیلانی کو ’’وہ چٹھی‘‘نہ لکھنے کی وجہ سے توہین عدالت کے نام پر وزارتِ عظمیٰ سے فارغ ہونا پڑا۔

نواز شریف اس حوالے سے خوش نصیب ہیں کہ سوموٹو کی لت میں مبتلا ارسلان کے ابو اب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نہیں رہے۔دو ہزار چودہ میں اپنے سیاسی کزن کے جنونی مریدوں کی طاقت سے عمران خان اور تحریک انصاف نے نواز حکومت کو فارغ کرنا چاہا تو پارلیمان کی اکثریت وزیر اعظم کو بچانے کے لئے متحد ہوگئی۔طاہر القادری نے علامتی قبریں کھودیں۔ اپنے چند جاں نثاروں کو کفن بھی پہنادئیے۔ بالآخر کسی نوعیت کا مک مکا ہوگیا۔ کینیڈا سے آئے انقلابی نے اپنا ’’تمبو‘‘ اٹھالیا تو عمران خان اکیلے رہ گئے۔ دھرنے کے دوران وہ دوسری شادی بھی کرچکے تھے۔ازدواجی زندگی کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ گیزر کے ذریعے گرم پانی کا حصول بھی ایسا ہی ایک تقاضہ تھا اور بجلی کا بل بھی دینا ضروری ہوجاتا ہے۔ دریں اثناء پشاور کے آرمی سکول پر ایک وحشت خیز حملہ ہوگیا۔ عمران خان کو سیف ایگزٹ مل گئی۔
پشاور کے سکول پرحملے کے بعد توجہ نیشنل ایکشن پلان کی طرف مڑگئی۔ شمالی وزیرستان میں مذہبی انتہاء پسندوں کے خلاف جو کارروائی ہوئی اس کی تفصیلات میڈیا نے معلوم کرنے کا تردد ہی نہیں کیا۔ ہماری سہولت کیلئے پھر متحرک ہوگئے ’’ذرائع‘‘ جنہوں نے ڈاکٹرعاصم اور عزیربلوچ جیسے کرداروں سے جڑی داستانوں کے ذریعے ٹی وی سکرینوں پرر ونق لگادی۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اس رونق کا براہِ راست نشانہ رہیں۔ نواز شریف اس قصے میں کہیں نظر ہی نہ آئے۔ اپریل 2016ء کی پہلی پیر کی صبح لیکن ’’پانامہ‘‘ ہوگیا۔ ’’میموگیٹ‘‘ کی طرح شور تو بہت برپا رہا۔اپوزیشن بھی اس کی بدولت اپنے باہمی اختلافات بھول کر جلسے،جلوسوں اور پارلیمان کے ذریعے نواز حکومت کو انگریزی محاورے والے تھاوزنڈ کٹس کے ذریعے مسلسل بلیِڈ کرسکتی تھی۔ عمران خان نے مگر سولوفلائٹ کا فیصلہ کرلیا۔ اسلام آباد کے لاک ڈائون کا فیصلہ کیا مگر لاک ڈائون والے دن قلعہ بنی گالہ کی فصیل پر پش اپس لگانے میں مصروف رہے۔ عوامی عدالت سے فیصلہ لینے کے بجائے بالآخر سپریم کورٹ چلے گئے۔

معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے تو اپنے منطقی انجام تک پہنچنے میں وقت لے گا۔عدالتیں جرگہ اور پنچائیت نہیں ہوتیں۔ وہاں ’’سرسری اور فوری انصاف‘‘ کی کوئی گنجائش نہیں۔ تقریباََ دو سو سال پرانا ایک نظام ہے۔ اس کے ضبوابط کار طے شدہ ہیں۔ ثبوت واضح طورپر موجود نظر آئیں تو ذہین وکلاء ماہرانہ جرح کے ذریعے ان کے پرخچے اُڑادیتے ہیں۔ عمران خان کے متوالوں نے مگر اپنے ہی وکیل حامد خان کو عدالتی جنگ سے کنارہ کشی پر مجبور کردیا ہے۔

اس دوران سپریم کورٹ کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس نے پاکستان کی اعلیٰ ترین اور ہر حوالے سے حتمی عدالت میں بیٹھے معزز ججوں کو بھی اپنی ساکھ بچانے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ ایک ٹی وی چینل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوچکا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ اب میرے چند بے باک صحافی دوست بھی سپریم کورٹ میں زیر غور معاملات پر اپنی رائے دینے سے احتیاط کرنے پر مجبور ہوں گے۔

مختصر الفاظ میں معاشیات کے میدان میں عمل پیرا ’’قانونِ تقلیل افادہ‘‘اب ’’پانامہ‘‘ والے قصے پر بھی لاگو ہونا شروع ہوگیا ہے۔اس ہفتے چند ایسے فیصلے بھی متوقع ہیں جو ہمیں سمجھادیں گے کہ مبینہ طورپر ونّ پیج پر نہ ہونے کے باوجود بھی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایِدر/ اور کے فیصلہ کن مرحلے تک نہیں پہنچی ہے۔ صحافت کو اپنی آزادی اور ساکھ بچانے کے لئے لہٰذا بہت سے معاملات پر ازسرنو غور کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ یہ نہ ہوا تو ہماری ریاست اور اس کی بقاء سے جڑے چند بنیادی سوالات کے بارے میں قطعی لاعلمی ہمارا مقدر بن جائے گی اور آخری بات یہ کہ یہ لاعلمی ہرگز کوئی اچھی بات نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.