Paagal Pann

پاگل پن

کلیم اللہ نام کے ایک ایس ایچ او کی ڈی پی او ڈیرہ غازی خاں کے نام درخواست تبادلہ ان دنوں سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ جس میں موصوف لکھتے ہیں”جناب عالی! گزارش ہے کہ میں نے انتہائی دیانتداری اور فرض شناسی سے عرصہ تین ماہ تک اپنے فرائض منصبی‘ تھانہ جھوک اُترا میں سرانجام دیے ہیں اور اپنی حد تک حتی الوسع کوشش کی ہے کہ عوام النّاس کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائوں‘ موجودہ حالات میں انصاف کی فراہمی میں تاہم دشواری محسوس کر رہا ہوں جس کی وجہ سے میرے دل اور ضمیر پر بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے اور میں گزشتہ کچھ روز سے ذہنی کرب میں مبتلا ہوں۔‘‘
”عالی جاہ! بذریعہ درخواست ہٰذا استدعا ہے کہ بندہ کو تھانہ ہٰذا سے پولیس لائن تبدیل فرمایا جاوے‘‘۔
العارض
کلیم اللہ 368سب انسپکٹر ایس ایچ او تھانہ جھوک اُترا
ایس ایچ او کلیم اللہ کی علاقے میں شہرت ایک ایماندار اور فرض شناس افسر کی ہے۔ ماضی میں یہ بھی پولیس کے رنگ میں رنگا ایک تند خو اہلکار تھا مگر عمرہ کی ادائیگی کے بعد اس کی کایا کلپ ہوئی اور مانہ احمدانی‘ جھوک اترا اور ڈیرہ غازی خاں میں جس دوست سے میری بات ہوئی اس نے کلیم اللہ کی تعریف کی۔ علاقے کے ایم پی اے محمود قادر لغاری کی شہرت اچھی ہے اور ڈی پی او ڈیرہ غازی خاں بذات خود بدنام نہیں‘ اس کے باوجود بُرا ہوہماری سیاست اور محکمہ پولیس کے مجموعی مزاج کا‘ ایک ایماندار اور فرض شناس پولیس اہلکار دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکتا ہے ‘نہ اُسے ڈی پی او اور مقامی رکنِ اسمبلی کی طرف سے ضمیر کے مطابق کام کرنے کی یقین دہانی ممکن ہے‘ ورنہ درخواست مسترد کی جاتی۔ چند ماہ قبل ضلع بہاولنگر کے ڈی پی او شارق کمال کو بااثر مقامی وڈیرے کی شکائت پر توہین آمیز انداز میں چارج چھوڑنے اور پنجاب سے باہر رپورٹ کرنے کا حکم ملا کیونکہ موصوف نے مقامی وڈیرے کی خواہشات کے مطابق کام کرنے سے انکار اور لاہور میں وہاں حاضری دینے سے گریز کیا جہاں وفاداری کا یقین دلا کر سرکاری افسران من پسند پوسٹیں حاصل کرتے ہیں ۔ عوام نے ایماندار اور جرأت مند افسر کی خدمات کا اعتراف کیا مگر محکمہ پولیس اور حکومتِ پنجاب نے بے شرمی اور ڈھٹائی سے ایک قانون شکن اور مُنہ زور وڈیرے کا ساتھ دیا ۔ جب ڈی پی او‘ رینک کے افسر کو اپنے ضمیر اور قانون کے مطابق کام کرنے کی آزادی ہے ‘نہ دربارِ خاص میں حاضری کے بغیر تلافیء مافات کی سہولت تو جھوک اترا کا ایس ایچ او کس باغ کی مولی ہے ۔
کسی سیاستدان ‘ بیورو کریٹ اور پولیس افسر کے پاس بیٹھ جائیں ‘یہی رونا روئے گا کہ ایماندار اور دلیر اہلکار نہیں ملتے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میرٹ پر زور دیتے اور پولیس و انتظامیہ سے بہتر نتائج مانگتے ہیں مگر ایماندار‘ دلیر اورباضمیرافسر و اہلکار جس حُسنِ سلوک کے مستحق سمجھے جاتے ہیں‘ وہ کلیم اللہ اور ڈی پی او بہاولنگر کے تبادلے سے عیاں ہے جبکہ پرلے درجے کے بے ضمیر‘ چاپلوس‘ بدکردار اور بددیانت افسر و اہلکار موج کر رہے ہیں۔ انہیں کوئی چھیڑتا ہے‘ نہ یہ جائز و ناجائز میں فرق روا رکھتے ہیں۔ جھوک اترا سرائیکی وسیب کا مضافاتی تھانہ ہے جہاں کے عوام جاگیرداروں‘ وڈیروں‘ سرکاری افسروں اور پولیس اہلکاروں کا جبر سہنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ایک ایماندار ایس ایچ او کے آنے جانے سے انہیں فرق پڑتا ہے‘ نہ لاہور میں بیٹھے حکمرانوں سے انہیں کوئی خاص توقع ہے۔انہیں علم ہے کہ مقامی جاگیردار اور وڈیرے ان کی قسمت کے مالک اور انہی کی سفارش اور دبائو پر مقرر کردہ افسروں و اہلکاروں پر ان کی جان و مال اور عزت آبرو کا انحصار ہے۔ وڈیرے سائیں کی مرضی کی‘ جس طرح یہ مفلوک الحال رعایا محتاج ہے‘ اس سے کہیں زیادہ مقامی افسران و اہلکاران اور لاہور میں بیٹھے خداوندانِ سیاست و ریاست ہیں۔ کسی زمانے میں مشہور تھا کہ تھانے بِکتے ہیں۔ اب مگر اضلاع اور علاقے ارکانِ اسمبلی اور چہیتے سیاسی کارندوں کو ٹھیکے پر دیے جاتے ہیں۔ انگریز چلے گئے مگر ان کا بندوبست بخوبی چل رہا ہے ۔ اختیار پولیس اور بیورو کریسی کے پاس ہے مگر حکم ان کا چلتا ہے اور حکم عدولی کرنے والا خواہ کوئی ایس ایچ او ہو یا ڈی پی او ذہنی کرب میں مبتلا ہو سکتا ہے‘ علاقہ بدر بھی‘ مگر اپنا فرض خوش اسلوبی اور آزادی سے ادا نہیں کر سکتا۔
تھانے کا ایس ایچ او لگنے کے لیے یہاں بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ کسی طاقتور سیاستدان ‘ تاجر‘ رشتے دار اور اعلیٰ افسر کی سفارش کے بعد بھی رشوت دینی پڑتی ہے‘ بس نرخ کم ہو جاتے ہیں۔ لاہور کے بعض تھانوں کا ریٹ تو ماہانہ لاکھوں روپے ہے۔ تھانہ جھوک اترا کا نرخ مجھے معلوم نہیں مگر تھانیداری ملنے کے بعد کسی ایس ایچ او کا محض ضمیر کی خلش اور دل کی آواز پر پولیس لائن کو ترجیح دینا منفرد واقعہ ہے۔ جس ملک میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے سے معزول ہو کر عزت کمانے والا شخص شدید علالت اور ضعیف العمری کے باوجود گورنر جیسے بے اختیار منصب کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو اور بسترِ علالت سے فرائضِ منصبی ادا کرنے پر اصرار کرے‘ وہاں کسی معمولی پولیس اہلکار کا بااختیار و منافع بخش منصب چھوڑ کر راضی خوشی پولیس لائن چلے جانا معمولی بات نہیں جبکہ ڈی پی او‘سی پی او‘ ایس پی سطح کے افسر‘ افسرانِ بالا‘ سیاستدانوں اور حکمرانوں کے عزیز و اقارب سے جھاڑ کھانے اور آئے روز بے عزتی کرانے کے باوجود ڈٹے رہتے ہیں‘ کبھی نادم نہیں ہوتے۔ پنجاب کے ایک آئی جی گزرے ہیں جووزیر اعلیٰ سے سرعام بے عزتی کراتے۔کئی بیورو کریٹس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ”بے عزتی پروف‘‘ ہیں‘ ہر بار بے عزتی کے بعد ان کی مراعات میں اضافہ ہوتا ہے۔
بیورو کریسی اور پولیس ہمیشہ مگر ایسی نہ تھی۔ الطاف گوہر مرحوم کراچی کے ڈپٹی کمشنر تھے اور حسین شہید سہروردی مرحوم وزیر اعظم پاکستان‘ حکمران ری پبلکن پارٹی نے ڈی سی آفس میں درخواست دی کہ 14اگست کو شہر کے بڑے پارک میں جلسہء عام کی اجازت دی جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے درخواست اس بنا پر مسترد کر دی کہ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ اس پارک میں جلسہ کی منظوری حاصل کر چکی ہے۔13اگست کو اطلاع ملی کہ وزیر اعظم ڈھاکہ جا رہے ہیں اور انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو ایئر پورٹ پر طلب کیا ہے۔ الطاف گوہر ایئر پورٹ پہنچے تو وزیر اعظم نے کہا : ”آپ کی وجہ سے میں ڈھاکہ جا رہا ہوں۔ میں دارالحکومت میں رہتا اور 14اگست کی کسی تقریب میں شرکت نہ کرتا تو لوگ سوال اٹھاتے اور میں کسی کو یہ بتا نہیں سکتا تھا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اپنی اصول پسندی کی وجہ سے مجھے جلسے کی اجازت نہیں دی۔
اب مگر ایسے حکمران جو قانون اور ضابطے کے سامنے سر جھکا دیں‘ اُف نہ کریں اور نہ بیورو کریٹ جو حکمران جماعت کی درخواست مسترد کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ اب تو ملک پر بیورو کریٹس کی وہ نسل قابض ہے جو حکمرانوں کی مرضی کے مطابق آئین و قانون کی مٹی پلید کرتے اور انہیں قانون شکنی کے گُر سکھاتے ہیں۔ خوفِ خدا نہ آنکھ میں شرم و حیا ۔
ایک بادشاہ نے کمہار کو دیکھا کہ گدھوں کو کام پر لے جا رہا ہے‘ سارے گدھے ایک قطار میں چل رہے ہیں اور کوئی ادھر اُدھر نہیں ہوتا۔ بادشاہ نے پوچھا ‘گدھوں کو یہ نظم و ضبط تم نے کیسے سکھایا؟ اس نے جواب دیا ‘جب کوئی گدھا ادھر ادھر ہوتا ہے ‘میں خوب ٹھکائی کرتا ہوں ۔یہ نہیں دیکھتا کہ وہ بوجھ زیادہ اُٹھاتا ہے یا کم۔ ڈھینچو ں ڈھینچوں بھی نہیں سنتا۔ بادشاہ نے اسے منصف مقرر کر دیا۔ بادشاہ منصب عطا کرتے وقت یہ کب دیکھتے ہیں کہ شخص مذکور کمہار ہے یا بیمار و لاچار۔ ایک چور کا مقدمہ پیش ہوا ‘ثبوت ملنے پر منصف نے چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا سنائی۔ بادشاہ کے چہیتے وزیر نے مداخلت کی کہ یہ میرا خاص آدمی ہے اور بادشاہ کا وفادار۔ منصف نے جلاد کو حکم دیا کہ” چور کے ہاتھ کاٹ دو اور وزیر کی زبان‘‘ کہا‘ میں کم عقل گدھوں سے برابر کا سلوک کرتاہوں۔ یہ وزیر انسانوں سے مساوی سلوک کا روادار نہیں‘ سزا کا مستحق ہے۔
پاکستان میں ناانصافی‘ عدم مساوات‘ دوست نوازی‘ اقربا پروری اور سفارش و دبائو کے نظام نے تباہی مچا رکھی ہے۔ شریف‘ ایماندار‘ باضمیر اور عوام دوست افسروں اور اہلکاروں کے لیے اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی مشکل ہو گئی ہے اور لُچِّے لفنگے‘ نااہل و نالائق موجیں اڑا رہے ہیں۔ کمزور اور طاقتور کے لیے قانون اور نادار و زور آور کے لیے انصاف کا پیمانہ یکسر مختلف ہے۔ حضور اکرمﷺ نے ایسے معاشروں کے لیے تباہی کی وعید سنائی تھی مگر ہمارا خیال ہے کہ اس اصول کا اطلاق ہم پر نہیں ہوتا۔ کلیم اللہ کا دم غنیمت مگر ایسوں کی حوصلہ افزائی کون کرتا ہے۔ اسے پاگل‘ بددماغ اور شہرت کا بھوکا ہی کہا جائیگا کہ فرزانوں کی اس بستی میں دیانت و امانت‘ انصاف پسندی اور فرض شناسی معیوب ہے‘ پاگل پن۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *