Expiry Date

ایکسپائری ڈیٹ
میاں نواز شریف کے پاس ایک ہی باعزت آپشن بچتا ہے لیکن یہ اس آپشن پر جانے سے قبل ایک داستان سنئے۔

خلیفہ ہارون الرشید کا ایک دوست تھا‘ وہ دوست دنیا دار بھی تھا‘ عقل مند بھی تھا اور تجربہ کار بھی لہٰذا خلیفہ اسے بہت پسند کرتا تھا‘ وہ اس کے ساتھ کھانا بھی کھاتا تھا‘ گفتگو بھی کرتا تھا اور مشاورت بھی کرتا تھا‘ ہارون الرشید انصاف پسند تھا‘ اس نے حکم دے رکھا تھا‘ میرے محل کے سامنے جب بھی کوئی فریادی آئے‘ اسے فوراً میرے سامنے پیش کر دیا جائے‘ دربان اکثر وقات فریادیوں کو بادشاہ کے سامنے پیش کرتے رہتے تھے اور بادشاہ معمول کے کاموں کے دوران فریادیوں کے بارے میں احکامات جاری کرتا رہتا تھا‘ بادشاہ ایک دن اپنے اس دوست کے ساتھ ڈنر کررہا تھا‘ دربان ایک فریادی کو اندر لے آیا‘ فریادی نے روتے ہوئے عرض کیا ’’حضور آپ کے اس دوست نے میری زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے‘‘ بادشاہ نے پریشانی کے عالم میں دوست کی طرف دیکھا‘ دوست نے نیپکن سے ہاتھ صاف کیے اور فریادی سے مسکرا کر پوچھا ’’میں نے تمہاری کتنی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے‘‘ فریادی نے زمین کا سائز بتا دیا‘ دوست نے کہا ’’جاؤ اپنی زمین اور اس زمین کے اردگرد موجود میری ساری زمین تم لے لو‘‘ فریادی اور بادشاہ دونوں حیران رہ گئے۔

دوست نے دربان سے کاغذ اور قلم منگوایا اور اسی وقت زمین لکھ کر فریادی کے حوالے کر دی‘ فریادی کاغذ لے کر چلا گیا‘ دوست نے دوبارہ کھانا شروع کر دیا‘ بادشاہ نے حیرت سے پوچھا ’’کیا تم نے واقعی اس کی زمین پر قبضہ کیا تھا‘‘ دوست نے احترام سے جواب دیا ’’بادشاہ سلامت بخدا میں نے اس شخص کو زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا‘ اس کا دعویٰ سو فیصد غلط تھا‘‘ بادشاہ نے پوچھا ’’تم نے پھر اسے اپنی ساری زمین کیوں دے دی‘‘ دوست نے مسکرا کر عرض کیا ’’بادشاہ سلامت آپ پوری امت کے خلیفہ ہیں‘ دنیا میں اس وقت آپ سے بڑا کوئی بادشاہ نہیں‘ مجھے آپ جیسی ہستی کا قرب حاصل ہے‘ آپ مجھے عزت بخشتے ہیں‘ میں جب چاہتا ہوں میں آپ کے دربار‘ آپ کے محل میں آ سکتا ہوں‘ آپ کا یہ قرب میرا سب سے بڑا اثاثہ ہے ۔

میں اگر زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے عوض یہ اثاثہ کھودوں تو مجھ سے بڑا بے وقوف کون ہو گا چنانچہ میں نے اپنی ساری زمین اس جھوٹے دعوے دار کو دے کر اپنا عظیم اثاثہ بچا لیا‘‘ بادشاہ مسکرایا اور بولا ’’کیا تمہیں میرے یا میری سپریم کورٹ کے انصاف پر یقین نہیں تھا‘‘ دوست نے ادب سے عرض کیا ’’جناب دنیا میں آپ سے بڑا منصف کوئی نہیں‘ مجھے یقین تھا پہلی پیشی میں میرے حق میں فیصلہ ہو جائے گا لیکن میں نے سوچا رعایا جب بادشاہ کے دوست کو کٹہرے میں دیکھے گی تو وہ مجھ پر ہنسے گی۔

میں رعایا کی اس ہنسی کو آپ کی بے عزتی سمجھتا ہوں‘ مجھے خواہ قاضی بعد ازاں بے گناہ بھی قرار دے دے لیکن لوگوں کی ہنسی واپس نہیں جائے گی اور میں اگر آپ کا سچا دوست ہوں تو پھر میری وجہ سے آپ کی بے عزتی نہیں ہونی چاہیے‘‘ وہ رکا اور دوبارہ گویا ہوا ’’بادشاہ سلامت‘ آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے‘ دنیا میں جب کسی پر الزام لگ جاتا ہے تو تمام عدالتیں خواہ اسے دس ہزار مرتبہ بے گناہ قرار دے دیں لیکن وہ شخص مشکوک ضرور ہو جاتا ہے اور میں نہیں چاہتا تھا میں آپ کا دوست ہو کر ایک لمحے کے لیے بھی مشکوک ہو جاؤں‘ یہ زمین اللہ کی ہے‘ میں نے اللہ کے نام پر اسے جھوٹے دعوے دار کو دے کر آپ اور اپنی عزت بچا لی‘‘ بادشاہ اٹھا‘ دوست کو گلے لگایا‘ قلم دوات منگوائی اور فرات کے کنارے چالیس میل کا رقبہ اس کے نام کر دیا۔

میاں نوازشریف کو بھی چاہیے یہ دنیا میں اپنا مقام دیکھیں‘ یہ دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت کے وزیراعظم ہیں‘ یہ بیس کروڑ لوگوں کے حکمران ہیں اور اس حکمرانی‘ اس نمایندگی کے سامنے چار فلیٹس کی کیا حیثیت ہے؟ملک میں درجنوں لوگ میاں نواز شریف سے امیر ہوں گے‘درجن بھر لوگ یورپ میں محلوں کے مالک بھی ہوں گے لیکن ان میں وزیراعظم کوئی نہیں‘یہ اعزاز صرف اللہ تعالیٰ نے میاں نواز شریف کو بخشا ہے چنانچہ میاں صاحب کو چاہیے یہ اپنے بچوں کو عدالت بھجوائیں‘ بچے فلیٹس کے کاغذات‘ ملکیت کے ثبوت‘ جائیداد کی منی ٹریل اور قانونی تحفظات عدالت میں پیش کریں اوریہ اعلان کردیں‘ ہم یہ چاروں فلیٹس پاکستان کو پیش کرتے ہیں۔

عدالت یہ فلیٹس بیچ کر رقم نادار طالب علموں‘ مریضوں یا غریب قیدیوں میں تقسیم کر دے‘ یہ اعلان سارا قضیہ ہی ختم کر دے گا اور اگر اس کے باوجود بھی قضیہ ختم نہیں ہوتا تو پھر میاں نواز شریف عدالت کا حکم سنیں اور آخری فیصلہ عوام اور اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں‘ میرا خیال ہے میاں صاحب نے اگر یہ فیصلہ نہ کیا تو یہ فلیٹس داغ بن کر پوری زندگی ان کے دامن کا حصہ رہیں گے‘ یہ اگر یہ مقدمہ جیت بھی گئے اور عدالت نے اگر ان کو باعزت بری بھی کر دیا تو بھی یہ مشکوک ضرور کہلائیں گے‘فلیٹس کا داغ پوری زندگی ان کے دامن پررہے گا اور تلاشی کا لفظ ان کی ذات کا حصہ بن جائے گا۔

میاں نواز شریف کو پانامہ کے فیصلے کے بعد آئین میں دو ترامیم بھی کرنی چاہئیں‘ یہ فوری طور پر ’’ٹروتھ اینڈ ری کنسی لی ایشن کمیشن‘‘ بنائیں‘ یہ کمیشن نیلسن مینڈیلا نے 1996ء میں بنایا تھا‘ کمیشن کا مقصد بااثر طبقات کو اپنا ماضی دھونے کا موقع دینا تھا‘ یہ کمیشن چار سال قائم رہا‘ اس دوران ساؤتھ افریقہ کے ہزاروں افسر‘ جاگیردار اور بزنس مین کمیشن کے سامنے پیش ہوئے‘ انھوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا‘ ریاست اور عوام سے معافی مانگی اور ریاست نے انھیں کھلے دل سے معاف کر دیا‘ ساؤتھ افریقہ آج جہاں ہے۔

اس کی بڑی وجہ نیلسن مینڈیلا کاوہ ٹروتھ اینڈ ری کنسی لی ایشن کمیشن تھا‘ یہ کمیشن خوف کی کمی کا باعث بھی بنا‘ اس نے طبقات کے درمیان نفرت بھی ختم کی اور اس نے جسٹس سسٹم کا بوجھ بھی کم کر دیا‘ یہ کمیشن میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان طے پانے والی میثاق جمہوریت میں بھی موجود تھا‘میاں صاحب اگر یہ کمیشن بنا دیتے ہیں تو یہ ماضی کی غلطیوں کا ایک ہی بار فیصلہ کر دے گا‘یہ قوم‘ عدالتوں اور حکومتی اداروں کا وقت اور وسائل بھی بچائے گا‘ میثاق جمہوریت کے لیے ٹروتھ اینڈ ری کنسی لی ایشن کمیشن کی ہیت ملک کے نامور سیاستدان فخر امام نے تیار کی تھی‘ فخر امام ایماندار‘ پڑھے لکھے اور بے داغ ماضی کے مالک ہیں لہٰذا بے نظیر بھٹو نے یہ کام انھیں سونپا تھا‘ یہ ماشاء اللہ حیات ہیں‘ میاں نواز شریف ان سے ورکنگ پیپر حاصل کر کے کمیشن تشکیل دے سکتے ہیں‘ یہ کمیشن قوم کے تمام سیاسی ایشوز سیٹل کر دے گا‘قوم سکھ کا سانس لے گی‘ دوسرا میاں نواز شریف کو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر تحقیقات اور مقدمات کی ’’ایکسپائری ڈیٹ‘‘ بھی طے کر دینی چاہیے۔

آپ طے کر دیں حکومت دس سال بعد تمام شہریوں کی پرانی سلیٹس صاف سمجھے گی‘ شہریوں کے خلاف تحقیقات بھی دس سال بعد ختم ہو جائیں گی‘ عدالت اگر دس سال میں ملزم کو حتمی سزا نہیں دے پاتی تو ملزم آٹو میٹک رہا ہو جائے گا‘ پابندی کی زد میں آئے لوگ بھی دس سال بعد پابندی سے آزاد ہو جائیں گے اور تادیبی کارروائیوں کی فائلیں بھی دس سال بعد بند ہو جائیں گی‘ کیا یہ زیادتی نہیں ملک میں فائل کھلتی ہے تو پھر یہ بند ہونے کا نام ہی نہیں لیتی‘ دادا کیس کرتا ہے اور پوتا عدالتوں میں پیشیاں بھگتتا ہے‘ ملک میں کسی کے خلاف جھوٹی سچی کارروائی شروع ہو جائے تو یہ کارروائی مرنے تک جاری رہتی ہے‘ آپ حد ملاحظہ کیجیے‘سپریم کورٹ قتل کے ملزم کو 19 سال بعد بے گناہ قرار دیتی ہے تو پتہ چلتا ہے وہ بے چارہ انصاف کی راہ تکتا تکتادو سال قبل جیل میں انتقال کر گیا تھا اور سپریم کورٹ رحیم یار خان کے دو بھائیوں کو بے گناہ ڈکلیئر کرتی ہے تو معلوم ہوتا ہے یہ دونوں ایک سال قبل پھانسی لگ چکے ہیں‘ یہ کیا ہے اور یہ کیوں ہے؟ یہ ظلم ہے اور یہ ظلم ملک میں تحقیقات اور مقدمات کی ’’ایکسپائری ڈیٹ‘‘ نہ ہونے کی وجہ سے جاری ہے۔

آپ کمال ملاحظہ کیجیے‘ شجاعت عظیم کا کورٹ مارشل 1979ء میں ہوا لیکن یہ آج بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل ہیں‘ کیوں؟ کیونکہ ہماری ریاست کسی کے نامہ اعمال کی سلیٹ صاف نہیں کرتی‘ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ‘ ہماری غلطیاں معاف کر دیتا ہے‘ یہ پیاسے کو پانی پلانے کے صدقے ہم پر دوزخ کی آگ ٹھنڈی کر دیتا ہے لیکن اس کے نام پر بننے والی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان جھوٹے سچے الزام کو بھی پتھر کی لکیر بنا دیتی ہے‘ یہ بے وقوفانہ پالیسیاں‘ سسٹم کی یہ خرابیاں ملک کو نہیں چلنے دے رہیں چنانچہ آپ ’’ایکسپائری ڈیٹ‘‘ طے کردیں جس کے بعد زید کی ہو یا بکر کی تمام فائلیں وقت مقررہ پر ’’واش‘‘ ہو جائیں‘ لوگوں کو نئے سرے سے زندگی گزارنے کا موقع ملے‘ یہ قانونی ترمیم ملک کو آگے جانے کا راستہ دکھائے گی ورنہ ہم سب اسی طرح ماضی میں لت پت پڑے رہیں گے‘ ہم غاروں کی دیواریں ٹٹولتے رہیں گے اور دنیا کی مدت ختم ہو جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.