CPEC aur Pakistan

سی پیک اور پاکستان

چین پاکستان اقتصادی راہداری حالیہ دنوں میں میڈیا پہ بکثرت زیر بحث لائے جانے والے موضوعات میں سے ایک ہے اور اس پر اعداد و شمار اور تفصیلات کی مد میں شاید ہی کوئی پہلو تشنہ رہا ہو
ایسے میں ایک اور اعداد و شمار سے بھرپور مضمون لکھ کر آپ کو بور کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں اس لئے میں صرف اس کے ایسے پہلووں کو زیربحث لانا چاہوں گا جو باآسانی سمجھ میں بھی آسکیں اور منطقی طور پر بھی قابل عمل ہوں

ناقدین کی طرف سے کیا جانے والا ایک بڑا اعتراض ہے کہ یہ منصوبہ چین کا اپنے مفاد کیلیئے بنایا جانے والا منصوبہ ہے اس کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہے

یہ ایک انتہائی بودا اعتراض ہے جسے معمولی فہم کے ساتھ ہضم کرنا بھی مشکل ہے – بین الاقوامی معاملات میں ہرملک بنیادی طور پر اپنے مفادات کے تابع ہوتا ہے مگر یہ معاملات دوسرے منسلک ممالک کیلئے بالواسطہ یا براہ راست فائدے یا نقصان کا باعث بنتے ہیں – کبھی کوئی ملک دوسرے کیلئے بے لوث کام نہیں کرتا سوائے خیراتی یا امدادی سرگرمیوں کے – تجارتی اور دفاعی پالیسیوں میں ہر ملک کا بنیادی مطمع نظر اپنا مفاد ہوتا ہے تاہم اس عمل یا اس سے پیدا ہونے والے مواقع میں سے اپنے لئے امکانات تلاش کرنا دیگر ممالک کا کام ہوتا ہے- اس کی مثال آپ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں دیکھیں اگر کہ سونی ملائشیا، ایپل چین میں فیکٹری لگاتا ہے نائیکی یا لیوائز اگر پاکستان سے اور ایچ اینڈ ایم بنگلہ دیش سے مصنوعات بنواتا ہے تو ان میں ان سب کمپنیوں کا بنیادی مطمع نظر اپنی پیداواری لاگت میں کمی کرتے ہوئے اپنے کاروباری منافع میں اضافہ ہے مگر اس کے نتیجے میں چین الیکٹرانک مصنوعات میں اور پاکستان اور بنگلہ دیش ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کے قدآور ممالک میں شامل ہوتے ہیں ان ملکوں کو ریونیو اور ان کی عوام کو روزگار کے مواقع ملتے ہیں
اسی طرح سی پیک کے ذریعے چین اگر اپنے کارخانوں کی مصنوعات کی بین الاقوامی مارکیٹ میں تیز تر رسائی کم تر لاگت میں ممکن بنانا ہے تو یہ اس منصوبے کا محض ایک جزو ہے جسے ہمارے ناقدین کُل سمجھ بیٹھے ہیں

اگر ہم ناقدین کے اس خیال کو بنیاد بنا کر بھی چلیں تو بھی پاکستان کیلئے مواقع کی کمی نہیں

منصوبہ اگر صرف ایک سڑک اور ایک بندرگاہ بھی ہو تو اس صورت میں ہمیں مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوں گے

ایک بہترین مواصلاتی نیٹ ورک کیونکہ یہ شاہرات عام استعمال کیلیئے بھی ہوں گی یہ تیز اور محفوظ وسیلہ سفر پاکستان کے سماجی اور معاشی منظرنامے پر مثبت اثرات مرتب کرے گا

ان شاہرات پہ مہیا کی جانیوالی سفری ضروریات اور سفری سہولیات ایک مکمل انڈسٹری کی صورت اختیار کریں گی جس میں فیول سٹیشنز، ورکشاپس، فوڈ آوٹ لیٹس اور گاڑیوں کے پرزہ جات و لوازمات کا کاروبار اور اس سے وابستہ ذیلی صنعتوں کا قیام اور پھیلاؤ شامل ہے

حکومت پاکستان کو براہ راست ٹول ٹیکس اور دیگر محصولات کی مد میں ایک خطیر رقم میسر ہوگی

پاکستان کی پٹرولیم صنعت کا حجم کئی گنا بڑھ جائے گا

ٹرانسپورٹ انڈسٹری سے وابستہ ہنرمند اور سرمایہ کار افراد کیلئے روزگار اور سرمایہ کاری کے بےشمار مواقع پیدا ہوں گے

دوردراز کے پسماندہ علاقوں کے قومی مواصلاتی نیٹ ورک سے منسلک ہونے سے ان علاقوں میں کاروبار، روزگار اور سماجی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے

پاکستان کے شمالی اور جنوبی دوردراز کے علاقوں کی پیداوار خصوصا میوہ جات اور غذائی اجناس کی پاکستانی اوربین الاقوامی منڈیوں تک رسائی اور اسکے نتیجے میں آنے والی خوشحالی

پاکستان کی دوسری فعال بندرگاہ جو کہ قومی مواصلاتی نیٹ ورک سے براہ راست منسلک ہوگی – اس کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات کی برامدات میں اضافہ ہوگا اور ان کی ترسیل تیزتر ہوگی خصوصا غذائی مصنوعات کی برآمدات میں بہتری آئیگی

ملک میں وئیرہاؤسنگ اور لاجسٹکس کے کاروبار میں نمایاں اضافہ ہوگا جس سے ترقی یافتہ کے علاوہ پسماندہ علاقوں کے عوام کو بھی بھرپور مواقع ملیں گے

کسٹم کلئیرنس، ڈاکومینٹیشن اور امپورٹ ایکسپورٹ سے وابستہ لوگوں کیلیئے نئے مواقع پیدا ہونگے اور ان شعبوں میں نئے روزگار کے بےشمار مواقع میسر آئینگے

بلوچستان کے عوام کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے جس میں مزدور اور ہنرمند سے لیکر پڑھے لکھے لوگوں کیلئے یکساں امکانات ہونگے

یہ تو تھا ان ناقدین کیلیئے جو اس منصوبے کو صرف ایک سطحی مواصلاتی رابطہ سمجھتے ہیں اب ہم اس منصوبے کے وسیع تر تناظر میں امکانات کا جائزہ لیتے ہیں

اس پیکج میں توانائی کے شعبے میں بے شمار منصوبے شامل ہیں جو کہ یقینا محض ان سڑکوں کے کنارے پر لگی بتیاں روشن کرنے کیلیئے نہیں ہیں بلکہ یہ اس منصوبے کے ایک بڑے جزو یعنی انڈسٹریلائزیشن سے متعلق ہیں

ہر ترقی یافتہ ملک کی طرح چین کے اندر بھی پیداواری لاگت بہت بڑھ چکی ہے جس میں اجرتوں کے علاوہ بنیادی طرززندگی کی قیمت میں اضافہ، مہنگا خام مال اور اس کی ترسیل کی لاگت میں اضافہ شامل ہے اسلیئے چین پاکستان میں صنعتوں کے قیام میں دلچسپی رکھتا ہے خصوصاً ٹیکسٹائل، سپورٹس، لیدر، سرجیکل اور کٹلری اور انجینئرنگ کی صنعت میں پاکستان میں بنیادی انفراسٹرکچر اور ہنرمند افراد کی چنداں  کمی نہیں
پاکستان میں صنعتوں کے قیام سے چین کو نہ صرف اجرتوں اور خام مال کی مد میں بلکہ عالمی منڈیوں تک ترسیل کی مد میں بھی نمایاں بچت حاصل ہوگی بلکہ اس کی بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچ تیز تر ہوجائیگی

پاکستان کو اس منصوبے کے بعد صرف چین سے ہی نہیں بلکہ وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ اپنے ہمسایہ ممالک سے بھی بہتر کاروباری مواقع میسر آئینگے

گوادار کے جغرافیائی محل وقوع کے علاوہ اس پر دستیاب سہولتوں کی وجہ سے بھی اس میں اس پورے خطے کے ممالک کے علاوہ بھی دیگر ترقی یافتہ ممالک کیلئے ایک ٹرانزٹ زون اور علاقائی تجارتی ہیڈ کوارٹر بننے کی صلاحیت موجود ہے

گو کہ یہ موضوع اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے مگر ان تمام گذارشات کو سادہ زبان اور عام فہم مثالوں سےاعدادوشمار میں الجھائے بغیر قلم بند کرنے کا مقصد ایک عام قاری کے سوالات و تحفظات کا جواب فراہم کرنا تھا

المختصر یہ کہ سیاسی نعرے بازیوں سے قطع نظر یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس میں پاکستان کی تمام اکائیوں کیلیئے ترقی کے بے پناہ مواقع ہیں اور اسے کسی قسم کے سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھانا قطعی طور پر غلط ہوگا

One thought on “CPEC aur Pakistan

  • November 20, 2016 at 9:42 pm
    Permalink

    Very nice and informative

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *