Qabar Jinhan Di Jeevay Hoo

قبر جنہاں دی جیوے ہو

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کو دائم خوش رکھے‘ عالمی کانفرنس کے بہانے سید ہجویر مخدوم اممؒ کے مزار پر حاضری اور فاتحہ خوانی کا موقع فراہم کیا۔ داتا دربار کے اردگرد ٹریفک ہمیشہ بے ہنگم اور زائرین کا ہجوم رہتا ہے۔ صاحبزادہ محمد سلیم حماد کا یہاں بسیرا تھا اور حاجی محمد ارشد بقید حیات تھے تو آنا جانا لگا رہتا‘ فاصلے‘ آبادی اور مصروفیات میں اضافہ ہوا‘ ملاقاتیں کم ہوتی گئیں‘ پھر حاجی محمد ارشد نے دنیا اور میاں محمد سلیم نے علاقے کو خیر باد کہہ دیا اور حاضری میں وقفہ بڑھ گیا۔ ہجوم عاشقاں ہے مگر روز بروز جس میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہر طرح کے لوگ سکون قلب‘ روحانی بالیدگی‘ ذہنی و نفسیاتی آسودگی کے علاوہ شکم کی آگ بجھانے کے لیے آتے اور من کی مراد پاتے ہیں ؎
گنج بخش‘ فیض عالم‘ مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل‘ کاملاں را رہنما
خلافت سے ملوکیت کی طرف سفر کا آغاز ہوا تو مسلمانوں کی قیادت دو حصوں میں بٹ گئی۔ سیاسی قیادت ان لوگوں کے ہاتھوں میں آ گئی جن کے شب و روز اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کی تدبیروں میں بسر ہوتے‘ جو مسلمانوں کی گردنوں پر محض اس لیے سوار تھے کہ ان کے پاس قبائلی عصبیتوں ‘مکارانہ چالوں اور قوت و دولت کا اثاثہ وافر مقدار میں تھا۔ وہ اپنے اقتدار کی شب تاریک کو طول دینے کے لیے سب کچھ کر گزرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ دھوکہ دہی‘ فریب کاری‘ عیاری و مکاری‘ ترغیب و تحریص‘ ظلم و ستم حتیٰ کہ ضمیر فروشی بھی ان کے لیے فائدہ مند ہوئی تو دریغ نہ کیا۔
دوسری طرف وہ لوگ تھے جن کا خدا خوفی‘ صبر‘ توکل‘ تقویٰ‘ فقر‘ تزکیہ و محاسبہ نفس‘ امانت و دیانت اور خدمت خلق سرمایہ حیات تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ تعلیمات کی تبلیغ و اشاعت اور انسانوں کی خدمت ان کی زندگی کا مشن تھا اور اس سلسلے میں وہ کسی مداہنت کمزوری کا مظاہرہ نہ کرتے۔
یہ دوسری قسم کی قیادت جن لوگوں پر مشتمل تھی ان کے پاس کوئی سلطنت تھی ‘ نہ حکومت اور نہ مال و دولت کی کثرت‘ یہ دوسروں سے زیادہ مفلوک الحال اور تنگدست ہوتے لیکن ان کے اقتدار کا دائرہ دسترخواں کی طرح بہت وسیع رہا۔ انسانی دل و دماغ پر حکمرانی کرنے والے یہ لوگ بیک وقت لاکھوں انسانوں کا مرجع عقیدت تھے ‘بڑے بڑے فرعون صفت سلاطین ان سے خوف کھاتے۔ یہی وہ لوگ تھے جن کے حلقہ نشیں‘ کجکلاہوں کو خاطر میں لاتے نہ دولت و اقتدار کو ٹھکرانے میں توقف کرتے۔ مرد قلندر کی ایک نگاہ انہیں تخت و تاج اور لشکر و سپاہ سے بے نیاز کر دیتی ؎
نہ تخت و تاج میں ‘ نے لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے
دسویں صدی کے نامور صوفی ابوالقاسم قشیریؒ نے حلقۂ صوفیا میں زوال کا گلہ کرتے ہوئے کہا تھا”ہر چند خیمے اب بھی ہیں اور ان کے مکین بھی لیکن لیلیٰ کا چہرہ کہیں نظر نہیں آتا‘ افسوس ہمارے زمانے میں اس قبیلہ ٔعشاق کا جو اپنے پیچھے اپنے قدموں کے نشان چھوڑ گیا‘ کوئی فرد باقی نہیں رہا‘‘ لیکن اب تو خیمے باقی ہیں نہ ان کے مکین اور نہ لیلیٰ کا انتظار کرنے والے بے لوث مجنوں‘ نفسا نفسی اور آپا دھاپی کا دور ہے علم‘ علماء کے ذہنی تعیش اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا ہتھیار بن چکا ہے‘ الفاظ و حروف معنی و مفہوم سے تہی دامن‘ حکمرانی خدمت خلق کے بجائے زر اندوزی کا ذریعہ اور تصوف ‘تزکیہ نفس کے بجائے کلامی بحثوں کا موضوع بن چکا ہے‘ روحانی تشنگی بجھانے کے لیے آدمی کہاں جائے؟ وہ زمانے گئے جب صوفیا اپنی درگاہوں کے دروازے پر جلی حروف میں لکھواتے ”جو شخص بھی یہاں آئے اسے روٹی دو‘ اس کے ایمان اور عقیدے کے بارے میں مت پوچھو‘‘ شیخ ابو وقاقؒ سے پوچھا گیا فتوت (فیاضی اور ایثار)کیا ہے؟ فرمایا”انسان قطعاً یہ امتیاز نہ کرے کہ اس کے دستر خواں پر کوئی ولی کامل کھانا کھا رہا ہے یا بدکار کافر‘‘۔
خویش پروری، اقرباء نوازی اور مفاد پرستی کے اس دورمیں سمیٹنے والوں کے بجائے بانٹنے والوں کی باتیں کون سنتا اور کون مانتا ہے، مگر یہی حقیقی تصوف اور دائمی آسودگی کا نسخہ کیمیا ہے۔ حضرت شیخ شفیق بلخیؒ کی ملاقات حضرت امام جعفر صادقؓ سے ہوئی تو پوچھا حضرت! ایثار کیشی اور فتوت کسے کہتے ہیں۔ فرمایا تمہارا کیا خیال ہے؟۔ شفیق بلخی نے کہا کچھ مل جائے تو شکر ادا کرتے ہیں، نہ ملے تو صبر کرکے بیٹھ رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ”مدینہ منورہ کے کتوں کا بھی یہی شیوہ ہے، مل جائے تو کھا لیتے ہیں ، نہ ملے تو چپ ہو رہتے ہیں‘‘۔ بلخیؒ نے پوچھا ”آپ کا تصورِ ایثار وفیاضی کیا ہے۔ فرمایا ”اگر کچھ نہیں ملتا تو شکر ادا کرتے ہیں اور مل جائے تو اسے لوگوں میں بانٹ دیتے ہیں‘‘وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ( اور تنگدستی کے وقت بھی وہ دوسروں کو مقدم رکھتے ہیں)۔
سید علی ہجویریؒ کے جذبۂ ایثار، کمال صبر اور بے مثال شیوئہ شکر کی بارگاہ خداوندی میں قبولیت کا مظہر وہ لنگر ہے جو صدیوں سے جاری ہے اور رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔ اکیلے سید علی ہجویریؒ ہی کیوں؟ اجمیر، دہلی، پاکپتن، ملتان، گولڑہ، کوٹ مٹھن اور دوسرے سینکڑوں بلکہ ہزاروں مقامات پر آسودئہ خاک اللہ کے برگزیدہ انسانوں کی درگاہوں پر بھی۔ پاکستان کا کوئی حکمران، کوئی ارب پتی تاجر و صنعتکار اور دولت مند یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ اتنے لوگوں کو روزانہ تین وقت کا کھانا بلاتفریق مذہب و مسلک ‘بلاتمیز زبان و نسل‘ طمع اور ریا کے بغیر کھلا رہا ہے یا کھلا سکتا ہے۔ جتنا لوگ گنج بخش فیض عالم، مظہر نور خدا کی درگاہ سے کھاتے ہیں۔ خود بھوکا رہ کر دوسروں کی بھوک مٹانے والے بزرگوں کی یہ نیکی اور عادت اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند آئی کہ اسے دوسروں کے لیے قابل تقلید مثال اورقریہ قریہ یادگار بنا دیا۔ نہ دینے والا کسی پر احسان جتا رہا ہے نہ لینے والا زیربار احسان ہے۔ نمودونمائش کی خواہش نہ صلہ و ستائش کی تمنا۔ اپنا سب کچھ ، سرمایہ علم، عمل اور ذہنی اثاثہ دوسروں پر لٹا دینے والوں کی قبریں روشن ہیں اور بیک وقت ہزاروں ہاتھ دعا کے لیے اٹھ رہے ہیں۔ مگر کثرت کی خواہش میں مبتلا‘ ہوسِ زر کے ماروں‘ سو برس کا سامان اکٹھا کرنے اور غریبوں‘ ضرورت مندوں کے محلے اجاڑ کر اپنے محلات آباد کرنے والوں کا ع
لیوے نہ کوئی نام ستمگر کہے بغیر
سید ہجویرؒ، محمود غزنوی کے جانشین کے ساتھ لاہور وارد ہوئے، شہنشاہ وقت کا نام تاریخ دانوں کے سوا کوئی جانتا نہیں اور ایک درویش بے نوا، جسے عمر بھر صحبت نا جنس کا گلہ رہا‘ کروڑوںانسانوں کے دلوں پر حکمران ہے۔ داتا دربار پر چراغ کبھی بجھتا نہیں اور چند کلومیٹر دور مدفون شہنشاہ ِ ہند کی قبر پر دیا جلتا نہیں ؎
برمزار ماغریباں‘ نے چراغے نے گُلے
نے پرِ پروانہ سوزد‘ نے صدائے بلبلے
شاہ و گدا یہاں آتے اور مطمئن لوٹتے ہیں۔ روٹی ، ہر ایک کو ملتی ہے، ایمان و عقیدہ کسی کا نہیں پوچھا جاتا۔ علمی و روحانی رہنمائی کے لیے کشف المحجوب موجود ہے جو پاکستان میں قرآن مجید اور کتب احادیث کے بعد سب سے زیادہ شائع اور فروخت ہونے والی کتاب ہے ع
نام فقیر تہیں دا باہو، قبر جنہاں دی جیوے ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *