Ghatiya, Jahil aur Khatarnaak Maskhara – 2

گھٹیا‘ جاہل اورخطرناک مسخرہ (آخری قسط)

آخر میں اٹھایا جانے والا یہ سوال کہ ہیلری کلنٹن کو ملنے والے ووٹ قدرے زیادہ تھے۔ لیکن حتمی فتح کا تعلق‘ امریکی سیاست کے اُن عجیب خدوخال سے ہے‘ جن میں سے ایک الیکٹورل کالج ہے جس کے ذریعے اس ملک کا حصہ بننے والی مختلف ریاستوں کو ایک الائنس کی شکل دی گئی تھی۔ ہر ریاست میں کانگرس کے لیے ہونے والے انتخابات تو ہر ضلع میں اکثریتی ووٹ کی بنیاد پرہوتے ہیں۔ اس سے دیہی علاقوں کے ووٹوںکا اثر بڑھ جاتا ہے (چاہے اس کے لیے حلقوںکی حدود کیوں نہ تبدیل کرنی پڑیں)۔ اس طریق ِ کارکے تحت‘ اگر صدارتی انتخابات کا انعقاد ہوتا تو ڈیموکریٹس کو آرام سے فتح حاصل ہوجاتی کیونکہ ان کا پاپولر ووٹ زیادہ ہے‘لیکن پھر تو ہمارے گزشتہ ادوار میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں سے‘ کم از کم نصف کے نتائج مختلف ہوتے۔اس حوالے سے کچھ مزید حقائق یہ ہیں کہ اٹھارہ سے پچیس سال کی عمر کے افراد نے ہیلری کلنٹن کو ووٹ دیا۔ بلکہ سنڈرز کے نوجوان حامیوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ تھی‘تو پھر ان معاملات کا انسانی مستقبل سے کتنا گہرا تعلق ہوا۔ حالیہ معلومات کے مطابق ‘ٹرمپ کو سفید فام ووٹروںکی ریکارڈحمایت حاصل رہی ۔ ان میں درمیانی آمدنی والا محنت کش طبقہ شامل ہے ‘ جن کی آمدنی پچا س ہزار سے لے کر نوے ہزار ڈالر تک ہے ۔ا س کے علاوہ دیہی علاقوں کے افراد نے بھی ٹرمپ کی حمایت کی ۔یہ افراد مغرب کی طرف جھکائو رکھنے والی اسٹبلشمنٹ سے ناراض تھے ۔ اس کا ایک اظہار بریگزٹ کے غیر متوقع نتائج اور یورپ میں مرکز مائل جماعتوں کی کمزور ی سے بھی ہورہا ہے ۔ بہت سے افراد ماضی کی نسلوں کی نیولبرل پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ ایلن گرین سپن نے کانگرس کے سامنے ان پالیسیوں کا اعتراف کیا تھا۔اگرچہ معاشی میدان میں ان کا نام بہت احترام سے لیا جاتا تھا لیکن وہ جس معیشت کے نگران تھے‘ وہ 2007-2008ء میں‘ سرکے بل زمین پر آگری۔ اس معاشی بحران نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔ گرین سپن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاشی مینجمنٹ میں اُن کی کامیابی کا راز ”محنت کش طبقے کے بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس ‘‘ میں مضمر ہے ۔
اگر محنت کش افراد کو خائف رکھا جائے تو زیادہ تنخواہ‘ فوائد اور سکیورٹی کامطالبہ نہیں کریں گے ۔ اس کی بجائے وہ کم تنخواہ اور تھوڑے بہت فوائد کو ہی غنیمت جان کر آنے والے وقت سے ‘خود کو ڈراتے ہوئے اسی تنخواہ پر گزارہ کرنا سیکھ لیں گے ۔ محنت کش افراد‘ جو معیشت کی اس تھیوری میں تجربے کا نشانہ بنے‘ اس کے نتائج سے خوش نہیں۔ وہ 2007ء کے اثرات سے بھی خوش نہیں تھے ۔ نیولبرل کے اُس معجزانہ دور میں مزدور پیشہ افراد کی تنخواہیں گزشتہ برسوںکی نسبت کم کردی گئیں۔ مرد ورکز کی تنخواہیں1960 ء کی دہائی میں‘ ملنے والی تنخواہوں کی سطح تک جاپہنچی تھیں‘جبکہ اونچی پوسٹس کی تنخواہیں ریکارڈ بلندی پر دکھائی دیں۔ تاہم کام کرنے والوں کی صرف ایک فیصد تعداد ہی ان اونچی پوسٹس پر تعینات تھی ۔ اس طرح معاشرے کے ایک قلیل طبقے کو نوازنے کا عمل پورے عروج پر تھا۔ اس کا نتیجہ مارکیٹ کی فورسز یا میرٹ پر ملازمت کا حصول نہ تھابلکہ ایک مخصوص پالیسی کا شاخسانہ تھا‘ جس کا ذکر‘ ڈین بیکر نے اپنی حالیہ کتاب میں کیا ہے ۔ کم از کم تنخواہیں پانے والوں کے حال سے پتہ چلتا ہے کہ کیا ہورہا ہے؟ ۔ پچا س اور ساٹھ کی دہائی میں‘ معاشی شرح ِ نمو میں اضافے کی وجہ پیداوار میں اضافہ تھا اور کام کرنے والوں کو اس فائدہ سے حصہ ملتا تھا۔ تاہم نیولبرل ڈاکٹرائن نے اس کا خاتمہ کردیا۔ اس کے بعد سے اب تک کم از کم تنخواہ بھی جمود کا شکار ہے ۔ اگر یہ وقت کے ساتھ بڑھتی رہتی تو آج یہ کم از کم بیس ڈالر فی گھنٹہ ہوتی لیکن حالات یہ ہیں کہ پندر ہ ڈالر فی گھنٹہ کرنابھی معاشی اور سیاسی انقلاب تصور ہوگا۔
کل وقتی ملازمت کی باتیں تو سننے کو مل رہی ہیں لیکن لیبر فورس کی شرکت معمول سے کہیں کم ہے ۔ کام کرنے والے افراد کے لیے مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کام کرنے کی بہت اہمیت ہے کیونکہ اس میں یونین کا تحفظ اور دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ جبکہ عارضی طور پر کی جانے والی ملازمت میں سکیورٹی نہیںہوتی ۔ تاہم تنخواہوں‘ فوائد اور سکیورٹی کے عدم تحفظ کے علاوہ عزت و وقارکو پہنچنے والی زک اور بہتر مستقبل کے امکانات سے نا امیدی ‘ایک مستقل خوف کا روپ دھار لیتی ہیں۔ کام کرنے والے دنیا میں اپنا کوئی مستقل کردار نہیں دیکھتے کیونکہ وہ صرف ایک دن گزارنے کے لیے جتن کررہے ہوتے ہیں۔ اس صورت ِحال کی عکاسی آرلی ہوش چائلڈ نے ٹرمپ کے مضبوط گڑھ لویزیانا کی منظر کشی سے کی ہے ۔ وہ خود بھی وہاں بہت دیر تک کام کرتی رہی ہیں۔ اُنہوں نے ایک سطری تصور اجاگر کیا ہے جس میں شہری کھڑے ہیں۔ وہ آگے بڑھنے کی توقع میں محنت کررہے ہیں لیکن وہ جس لکیر پر کھڑے ہیں ‘ وہاں اُن کی پوزیشن ساکت ہے ۔ ان کے سامنے اور لوگ ہیں جو آگے کو چھلانگیں لگارہے ہیں۔ اُنہیں کوئی پریشانی نہیں‘ امریکی طریقہ یہی ہے ۔ یہاں مبینہ میرٹ رکھنے والے افراد آگے بڑھ جائیںگے لیکن پیچھے کھڑے افراد پریشان ہیں۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ یہ مبینہ میرٹ رکھنے والے افراد‘ وہ ہیں جو کسی اصول یا قاعدے کی پیروی نہیں کرتے ۔ لیکن اُنہیں وفاقی حکومت کے بنائے گئے قواعد کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ ان لوگوں میں مہاجرین بھی ہیں اور افریقی نسل کے امریکی بھی۔
یہ سب کچھ صدر ریگن کی نسلی تقسیم پر مبنی ”ویلفیئرکوئینز‘‘ کے نتیجے میں سامنے آرہا ہے کیونکہ سفید فاموں کی محنت سے کمائی ہوئی رقم سے‘ سیاہ فاموں کو سہولیات فراہم کی گئیں۔ بعض اوقات ناکامی کی وضاحت بھی حکومت سے نفرت میں اضافہ کرتی ہے ۔ ایک مرتبہ میری بوسٹن میں ایک ہائوس پینٹر سے ملاقات ہوئی جو ”شیطانی حکومت ‘‘ کے خلاف تھا کیونکہ واشنگٹن کے ایک سرکاری افسر‘ جسے پیٹنگ کا کچھ پتہ نہ تھا‘ نے ایک میٹنگ بلاتے ہوئے پینٹنگ کا کام کرنے والوںکو لیڈ کی آمیزش رکھنے والا پینٹ استعمال کرنے سے منع کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ کہ لیڈ کے بغیر انیمل پینٹ بن ہی نہیں سکتا ‘ لیکن افسر کو یہ بات کو ن سمجھائے؟ ۔ اس پینٹر کا کہنا تھا کہ اس پالیسی نے اس کے چھوٹے سے کاروبار کو تباہ کردیا ہے ۔ اب وہ ناقص میٹریل رکھنے والے پینٹ سے مکانات پینٹ کرنے پر مجبور ہے ۔ بعض اوقات سرکاری افسران کا موقف درست ہوتا ہے۔ وہ جس چیز پر پابندی لگاتے ہیں‘ اُس کی ٹھوس وجوہ موجودہوتی ہیں۔ ہوش چائلڈ ایک آدمی کے بارے میں بیان کرتی ہیں جس کی فیملی اور دوست کیمیائی آلودگی کے مہلک اثرات کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن وہ حکومت اور ”لبرل اشرافیہ ‘‘ سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ ای پی اے کے قوانین اُنہیں آلودہ پانی سے مچھلی کاشکار کرنے سے روکتے ہیں۔ دوسری طرف ماحولیاتی ایجنسی‘ آبی آلودگی کا باعث بننے والے کیمیکل پلانٹس کو کچھ نہیں کہتی۔
یہ کچھ ٹرمپ کو ملنے والی حمایت کی وجہ بیان کرنے والی چند مثالیں ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اُن کے مسائل حل کرے گا حالانکہ اُن کی پیش کردہ تجاویز پر عمل کرنے کی صورت میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئیں گے ۔ انتخابات سے قبل کیے جانے والے پول سرویز بتاتے ہیں کہ ٹرمپ کے جذباتی حامیوں کو یقین تھا کہ وہ ملک میں تبدیلی کے نقیب ہیں‘ جبکہ ہیلری کلنٹن روایتی تصورات رکھنے والی امیدوار ہیں‘ جو اُن کی پریشانی اور دکھوں کا مدوا نہ کرسکیں گی۔ تاہم ٹرمپ جس تبدیلی کی علامت ہیں‘ وہ نقصان دہ ہے لیکن شہری انفرادی طور پر‘ اس کے نتائج سے آگاہ نہیں ہیں۔ موجودہ دور میں پھیلی ہوئی مایوسی 1930 ء کی دہائی کے عظیم معاشی بحران سے بہت مختلف ہے ۔ ٹرمپ کی کامیابی کے کچھ دیگر عوامل بھی ہیں۔ تقابلی جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ سفید فام باشندوں کی حاکمیت کی گرفت‘ امریکی کلچر پر اُس سے کہیں زیادہ ہے‘ جس کا مظاہرہ جنوبی افریقہ میں دیکھنے میں آیا‘ لیکن اس دوران یہ بھی حقیقت ہے کہ سفید فاموں کی آبادی میں کمی واقع ہورہی ہے ۔ ایک یا دوعشروںکے بعد‘افرادی قوت میں اُن کی تعداد کم ہوجائے گی اور اس کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد‘ وہ ایک اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے ۔ سیاست میں شناخت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے روایتی قدامت پسند کلچر خطرے کی زد میں دکھائی دیتا ہے ۔ اس میں سیاسی عہدے کی بجائے‘ اشرافیہ کا عہدہ تشکیل پاتا ہے جو چرچ جانے والے اور محنت کش محب ِوطن افراد اور ان کی خاندانی اقدار سے سے نفرت کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ ان کا وطن ان کی نظروںسے بتدریج غائب ہوتا جارہا ہے ۔
ماحولیات کے حوالے سے مشکل یہ ہے کہ امریکہ کی چالیس فیصد آبادی‘ گلوبل وارمنگ کو ایک مسئلہ سمجھتی ہی نہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ اگلے چند عشروں تک‘ مسیح علیہ السلام دنیا میں تشریف لے آئیں گے ۔ مزید چالیس فیصد کاعقیدہ ہے کہ دنیا چند ہزار سال پہلے تو وجود میں آئی ہے ۔ اور اگر یہاں سائنس کا بائیبل کے ساتھ تصادم ہوتا ہے تو یہ سائنس کی بدقسمتی ہے ۔ دیگر معاشروںمیں ایسے رویے دیکھنے کو نہیں ملتے ۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے 1970 ء کی دہائی سے محنت کش افراد کی فکر ترک کررکھی ہے چنانچہ اب اُنہیں محنت کش طبقوں میں دشمن نمبر ون سمجھا جاتا ہے ۔ جارج ڈبلیو بش نے باررومز میں ملنے والے ایک نوجوان کا امیج پیش کیاتھالیکن اب ٹرمپ نے لوگوںکی پریشانیوں کے حل کی بات کی ہے ۔ وہ انہیں روزگار فراہم کرنے کی بات کررہے ہیں۔ نظریاتی نظام کی ایک بڑی کامیابی‘ عوامی غصے کا رخ کارپوریٹ سسٹم کی طر ف سے ہٹا کر حکومت کی طرف موڑنا ہے ۔حکومت کے پیش کردہ پروگرام دراصل کارپوریٹ سیکٹر نے وضع کیے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد میڈیا کے تبصرے بھی کارپوریٹ سیکٹر کی آواز میں آواز ملالیتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے تمام تر نقائص کے باوجود‘ حکومت پر عوام دبائو ڈال سکتے ہیں لیکن کارپوریٹ سیکٹرپر اُن کا کوئی زور نہیں چلتا۔ چنانچہ کاروباری طبقہ نہایت کامیابی سے فائدہ اٹھاتا ہے‘ اورمشکلات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عوامی اشتعال کا رخ حکومت کی طرف موڑ دیتا ہے ۔ جمہوری حکومت کے بارے میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ ”عوام کی‘ عوام پر‘ عوام کے لیے حکومت ہوتی ہے ‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *