Daddooun Ki Panseri

’’ڈڈّوئوں کی پنسیری‘‘

تحریکِ انصاف ”ڈڈّوئوں کی پنسیری‘‘ ہے۔ ذرا دقیق محاورہ ہے‘ پنجابی کا۔ مفہوم پلّے نہ پڑے تو آس پاس کسی سے پوچھ لیجیے۔کپتان پارٹی سنوار نہیں سکتا‘ ملک کیا خاک سنوارے گا۔
آندھی کی زد میں‘ خزاں کے پتوں کی سی یہ زندگی مستقل سزا ہے۔ اس پروردگار کی دی ہوئی‘ جو رحمن اور رحیم ہے مگر عادل بھی۔ جس کے قوانین کبھی تغیّر پذیر نہیں ہوتے۔ جس کا فرمان یہ ہے: اس کی سنت کو تم کبھی بدلتا ہوا نہ دیکھو گے۔
گھر سے دفتر تک 25‘ 30 منٹ سے زیادہ کا سفر نہیں‘ بے دل ٹریفک پولیس کے باوجود۔ ترک صدر کے لیے مال روڈ بند ہونے کی وجہ سے ایک گھنٹہ اور پینتیس منٹ صرف ہوئے۔ صرف حکومت کا قصور نہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی سے اعلان ہوا تھا۔ خلق بھی کہاں سنتی ہے۔ سنتی ہے تو پروا نہیں کرتی۔ خزاں رسیدہ پتوں کی طرح‘ اس نے خود کو حالات کے حوالے کر رکھا ہے ؎
قریب آئو دریچوں سے جھانکتی کرنو
ہم تو پا بہ رسن ہیں‘ ابھر نہیں سکتے
شام کو کسی کا فون آیا‘ سمندر پار سے: ہمارے لیڈروں نے ملک کو بیچ ڈالا۔ جنرل پرویز مشرف نے ایک عرب ملک سے کروڑوں روپے کا عطیہ قبول فرمایا۔ میاں محمد نواز شریف نے دوسرے سے۔ بڑی بڑی تعمیرات اور کھربوں میں تعمیر ہونے والے بجلی گھروں کے ٹھیکے پسندیدہ ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو دیے جاتے ہیں۔ عرض کیا‘ سیاستدان ہی کیا‘ ہم سب کا یہی حال ہے۔ ہم عوام کو بھی اپنے وطن کی کوئی فکر نہیں۔ انگریزی اخبارات میں ایسے ہیں‘ ہر روز جو ملک کے خلاف مقدمہ مرتب کرتے اور چھاپتے ہیں۔ دہشت گردی کے شکار ملک کو‘ دہشت گردی کا مرتکب قرار دیتے ہیں۔ ایک دن میں‘ ایک اخبار کے دس عدد قاری اگر احتجاج کریں۔ بائیکاٹ کی دھمکی دیں تو کسی کارندے کی مجال کیا کہ کارندہ بنا رہے۔ سرپرستی کرنے والوں کی جرأت کیا کہ سرپرستی کریں۔ چور کے پائوں نہیں ہوتے۔ جرم کے مرتکب وقائع نگار کے اکثر حامیوں کو ہم جانتے ہیں۔ آندھی کا ایک تھپیڑا سہہ نہیں سکتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گلی کی نکڑ پر‘ برسوں سے ملاوٹ کرنے والے شیر فروش کا احتساب بھی صرف شہباز شریف ہی کی ذمہ داری ہے… ہماری کیوں نہیں؟ لاہور کے نواح میں‘ صرف بیس کلومیٹر کے فاصلے پر خالص دودھ کی قیمت پچاس روپے کلو۔ شہر کی گلیوں میں سو روپے کلو بکتا ہے اور ملاوٹ کے ساتھ۔
پانچ سو گھروں کے مکین‘ ایک ہزار روپے فی کس اگر جمع کریں۔ ایک عدد گاڑی خریدیں‘ پندرہ ہزار روپے ماہوار پہ ایک ڈرائیور رکھیں۔ برتنوں کی صفائی کا اہتمام کریں۔ زیادہ سے زیادہ 70 روپے پر‘ تازہ اور خالص دودھ دستیاب ہو جائے۔ کتنا وقت انہیں صرف کرنا ہو گا؟ تین تین آدمیوں کی کمیٹیاں بنا دی جائیں۔ باری باری وہ نگرانی کریں۔
ایک برس ہوتا ہے‘ وہاڑی کے ایک زمیندار نے چونکا دینے والا انکشاف کیا۔ بتایا کہ لاہور میں زیرِ تعلیم اپنے بچّوں کے لیے‘ وہ گائوں سے دودھ منگواتا ہے۔ اس کے بقول‘ بہت تدبیر کی‘ مقامی طور پر یہ مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ اوِّل تو ناخالص‘ مزید یہ کہ گائے بھینس کو ایک ٹیکہ لگایا جاتا ہے‘ دودھ جس سے غلیظ ہو جاتا ہے۔
زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے دائرے میں‘ قدرت کا ایک نظام کارفرما ہے۔ اس کا ادراک نہ کرو تو خرابی شروع‘ بگاڑ لازم۔ نگران اور مستعد رہو تو خیر و برکت۔
نواحِ لاہور کے بھینسیں پالنے والے‘ دودھ کے آڑھتیوں سے کس طرح لین دین کرتے ہیں؟ ایک جانور کے دودھ کا سودا پچاس ہزار سے ایک ڈیڑھ لاکھ روپے تک ہوتا ہے۔ دو بھینسوں کا مطلب ہے‘ بالعموم دو لاکھ روپے پیشگی؛ چنانچہ قیمت وہ کم ادا کرتا ہے‘ ایک کلو کی بجائے سوا کلو کا برتن استعمال کرتا ہے۔ لالچی جھوٹے کے ہاتھوں لٹتا ہے۔ حاصل کردہ پیشگی سے وہ ایک اور بھینس خریدے گا۔ بچھڑا دو تین ماہ کا ہو جائے تو اسے بیچ ڈالتا ہے۔ ایک چوتھائی یا اس سے کچھ کم دودھ تاکہ ”ضائع‘‘ نہ ہو جائے۔ ایک سرنج اور چند ٹیکے خرید لاتا ہے‘ آسانی سے جو دستیاب ہیں۔ ٹیکا لگے تو جانور خود کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ آخری قطرے بھی ‘جو انسانی استعمال کے قابل نہیں ہوتے۔ جنابِ شہباز شریف کو ان ٹیکوں کی فروخت پر کوئی اعتراض نہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی اور منظور وٹو کو بھی نہیں تھا۔ غلام حیدر وائیں اور میاں محمد نواز شریف کو بھی نہیں۔کسی متعلقہ محکمے‘ کسی افسر کو نہیں۔ ذاتی زندگیاں ہم جیتے ہیں‘ اجتماعی حیات سے ہمیں کیا غرض؟ ملوکیت کے مارے‘ شخصیت پرست معاشروں کا وتیرہ یہی ہوتا ہے۔
اللہ کا قانون یہ ہے‘ اور کبھی نافذ تھا کہ درخت سے کچّا پھل اور بِیل سے ناپختہ سبزی نہ توڑی جائے۔ رس اور ذائقہ تو کیا‘ ابھی رنگ و روپ کو سنورنا ہے۔ ڈاکٹر سلاد کھانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ معدے کی بہتری کے لیے‘ اس پہ اصرار کرتے ہیں۔ شرقپور کے باغات میں ایسا شاندار امرود پیدا ہوتا ہے کہ سبحان اللہ۔ کھانے کے بعد ایک امرود کھا لیا جائے تو سلاد کی ضرورت ہی نہیں۔ مرچ مصالحوں سے پیدا ہونے والی تیزابیت کا علاج‘ وٹامن ”سی‘‘ کا خزانہ۔ گلے کو شفاف رکھتا ہے۔ بازار میں بکنے والا امرود مگر کس قابل۔ اوّل تو بدمزہ۔ طبیعت قبول ہی نہیں کرتی‘ ثانیاً آلودہ۔ کئی ہاتھوں سے گزرتا ہے‘ میلے ہاتھوں سے۔
سابق گورنر میاں اظہر صفائی پسند واقع ہوئے ہیں۔ دیکھا کہ چھیل کر کھاتے ہیں۔ اس طرح اور بھی پھیکا ہو جاتا ہے۔ واحد طریقہ یہ ہے کہ اچھے پائوڈر سے دھویا جائے‘ سوکھنے دیا جائے۔ اس لیے بھی کہ زہریلی دوا کا سپرے کیا جاتا ہے۔ بعض معالج تو یہ کہتے ہیں کہ بازار سے خریدی گئی سبزی اور پھل کو کم از کم چھ بار دھونا چاہیے۔ وگرنہ خطرہ ہے‘ کینسر کا۔
دوسرا کینسر ہسپتال پشاور میں تعمیر ہو چکا‘ تیسرا کراچی میں بنے گا۔ اللہ انہیں برکت دے۔ سب شہروں میں بنا دیں۔ کینسر کا علاج مگر یہ نہیں بلکہ سپرے کو محدود کرنا۔ پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ طرح طرح کے کیڑے‘ فصلوں اور باغوں پہ اترتے ہیں۔ سپرے کرنا ہی ہوتا ہے مگر اس بے دردی کے ساتھ نہیں کہ پودینے اور دھنیے کے ایک چھوٹے سے کھیت پہ ایک کنستر لٹا دیا جائے۔
پڑھے لکھے ایک کاشتکار سے کہا: کیوں اپنا روپیہ برباد کرتے اور دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہو؟ وہ ہنسا: آپ تو کالم ارشاد کر رہے ہیں‘ ٹاک شو فرما رہے ہیں۔ کچھ خبر بھی ہے آپ کو‘ کیڑے مار دوائوں میں ملاوٹ ہوتی ہے۔ ایک کی جگہ دو سپرے کرنا پڑتے ہیں۔ گزارش کی: آپ لوگ اپنی انجمن کیوں نہیں بناتے۔ وہ تحقیق کرے اور احتیاط سے سارے گائوں کے لیے اکٹھی خریداری۔ اس کا لہجہ بھیگ گیا: کون سنتا ہے‘ جی کون سنتا ہے۔ پٹواریوں تھانیداروں‘ کونسلروں اور لیڈروں کی ہم مانتے ہیں۔ ایک دوسرے کو کب گوارا کرتے ہیں۔
آلودہ سپرے یا آلودگی والا دودھ۔ شہباز شریف کچھ نہیں کریں گے۔ اعلان کی حد تک‘ ہر تین ماہ بعد تھانہ کلچر وہ بدل ڈالتے ہیں۔ ہر چھ ماہ بعد‘ زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر دیتے ہیں۔ آٹھ سال بیت گئے۔2003ء میں نادرا کے دفتر سے پوچھا تھا۔ انہوں نے کہا: زیادہ سے زیادہ 180 دن درکار ہیں۔حکومت کی نیت ہی ٹھیک نہیں۔ جو لوگ جائیدادوں کی خرید و فروخت کا کاروبار فرماتے ہیں‘ اہمیت ان کی ہے۔ عدالتوں میں خستہ و خوار ہوتے‘ لاکھوں خاندانوں کی اگر ہوتی‘ تو تیرہ برس پہلے یہ کام مکمل ہو گیا ہوتا۔ یہ لوگ ہر حکومت کا ستون ہوتے ہیں۔
عمران خان اگر آ گئے‘ تب بھی یہی ہو گا۔ اوّل تو انہیں اقتدار ملے گا کیسے۔ ہر روز ایک غلط فیصلہ۔ پاناما لیکس والے مقدمے کے لیے موزوں وکلا کا وہ بندوبست نہیں کر سکتے۔ ان کے لیے جو زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ کوئی انہیں یہ نہ سمجھا سکا کہ ترک صدر کے بائیکاٹ کا مطلب کیا ہے۔ ان سے امید پالنے کا کتنا جواز ہے کہ صدیوں کے الجھے معاشرے کو سلجھا دیں گے۔
کیا یہ ناچیز مایوسی کا شکار ہے؟ الحمدللہ ہرگز نہیں‘ کبھی نہیں تھا۔ نکتہ یہ ہے کہ جاگے تو پوری قوم جاگتی ہے جیسے‘ تحریکِ پاکستان کے ہنگام۔ فقط لیڈر کے بدل جانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ صرف ایک سوال کا جواب‘ تحریک انصاف کا کوئی فدائی عطا کر دے۔ تحریکِ انصاف جیتی تو پنجاب کا وزیر اعلیٰ کون ہو گا؟ سو فیصد یقین ہے کہ چوہدری سرور ہرگز نہ ہوں گے‘ قدرے جو بہتر ہیں۔ کوئی دوسرا اہل بھی نہیں۔ تحریکِ انصاف ”ڈڈّوئوں کی پنسیری‘‘ ہے۔ ذرا دقیق محاورہ ہے‘ پنجابی کا۔ مفہوم پلّے نہ پڑے تو آس پاس کسی سے پوچھ لیجیے۔کپتان پارٹی سنوار نہیں سکتا‘ ملک کیا خاک سنوارے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.