Shaid Hum Bhi

شاید ہم بھی

یہ 2008ء کی جنوری تھی‘ میں نے نیا نیا ٹیلی ویژن شو شروع کیا تھا‘ ہمارے تیسرے پروگرام میں جہانگیر بدر مہمان تھے‘ کامل علی آغا ان کے ساتھ مدعو تھے‘ پاکستان مسلم لیگ ق کی حکومت تازہ تازہ ختم ہوئی تھی‘ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی تازہ تھی‘ الیکشن 18 فروری 2008ء کو ہونا تھے‘ پیپلز پارٹی کی کامیابی یقینی تھی‘ جہانگیر بدر آئے‘ کامل علی آغا کو دیکھا اور ان کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا‘ ہم لوگ اس صورتحال کے لیے تیار نہیں تھے‘ ہم پریشان ہو گئے۔

میری ٹیم انھیں راضی کرتی رہی لیکن جہانگیر بدر کسی قیمت پر کامل علی آغا کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں تھے‘ میں سیٹ سے اٹھ کر ڈائریکٹر کے کمرے میں گیا‘ جہانگیر بدر وہاں ناراض بیٹھے تھے اور ہمارا سارا اسٹاف انھیں سہمی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا‘ مجھے دیکھتے ہی جہانگیر بدر اونچی آواز میں بولے ’’دیکھ جاوید چوہدری تمہیں فیصلہ کرنا ہوگا تمہارے پروگرام میں جہانگیر بدر بیٹھے گا یا پھر وہ … کامل علی آغا‘‘ میں نے فوراً جواب دیا ’’پھر بدر صاحب کامل علی آغا ہی بیٹھے گا‘‘ جہانگیر بدر کے غصے میں اضافہ ہو گیا‘ وہ بولے ’’کیوں؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’بدر صاحب وہ ہماری عزت کر رہے ہیں‘ وہ آپ کی تمام تر نفرت کے باوجود ابھی تک سیٹ پر بیٹھے ہیں جب کہ آپ نے پورا دفتر سر پر اٹھا رکھا ہے‘ میں عزت کرنے والے شخص کو اٹھا کر بے عزتی کرنے والے کو کیسے بٹھا لوں‘‘ جہانگیر بدر خاموش ہو گئے‘ ہم نے وہ پروگرام جہانگیر بدر کے بغیر ریکارڈ کیا‘ یہ جہانگیر بدر کے ساتھ میرا پہلا ٹاکرا تھا۔

الیکشن کے بعد ملکی صورتحال بدل گئی‘ پاکستان پیپلز پارٹی نے برتری حاصل کر لی‘ پاکستان مسلم لیگ ن دوسرے اور ق لیگ تیسرے نمبر پرآئی‘ پاکستان پیپلز پارٹی مکمل طور پر آصف علی زرداری کے ہاتھ میں تھی‘ الیکشن میں کامیابی کے بعد زرداری صاحب نے تین ناقابل یقین کام کیے‘ یہ میاں نواز شریف سے ملے‘ قرآن مجید پر معاہدہ ہوا اور ملک کی دونوں بڑی جماعتوں نے مشترکہ حکومت بنا لی لیکن یہ سیاسی نکاح زیادہ دن تک نہ چل سکا‘ دوسرا‘ زرداری صاحب نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی ٹیم کو کارنر کر دیا‘ ناہید خان اور ڈاکٹر صفدر عباسی پہلا نشانہ تھے۔

مخدوم امین فہیم‘ رضا ربانی‘ جہانگیر بدر‘ چوہدری اعتزاز احسن اور شاہ محمود قریشی دوسرا نشانہ بنے‘ چوہدری اعتزاز احسن پر بلاول ہاؤس کے دروازے تک بند ہو گئے‘ یہ دروازے2012ء میں سوئس کیسز کی وجہ سے کھلے‘ ناہید خان اور صفدر عباسی مکمل طور پر الگ ہو گئے جب کہ باقی حضرات پارٹی میں رہے لیکن آصف علی زرداری ان کے ساتھ کمفرٹیبل نہیں تھے‘ ان حضرات میں رضا ربانی اور جہانگیر بدر دو زیادہ اہم تھے‘ رضا ربانی ایماندار‘ ذہین اور پارٹی کے مخلص کارکن ہیں چنانچہ قیادت انھیں پارٹی سے نکال نہیں سکی تاہم انھیں رگڑا خوب لگایا گیا‘ اس زمانے میں دو واقعات بہت مشہور ہوئے۔

ایک واقعے میں قائد نے بھری میٹنگ میں رضا ربانی کو بے اولاد ہونے کا طعنہ دے دیا‘ یہ طعنہ ناقابل بیان انداز سے دیا گیا تھا‘ دوسرے واقعے میں رضا ربانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے لیے گئے‘ یہ جب وزیراعظم کے دفتر پہنچے تو ایوان صدر سے گیلانی صاحب کو فون آگیا ‘ آصف علی زرداری نے وزیراعظم کو حکم دے دیا آپ رضا ربانی سے ملاقات نہیں کریںگے‘ آپ انھیں باہر سے ہی واپس بھجوا دیں‘ رضا ربانی اس وقت ملٹری سیکریٹری کے کمرے میں بیٹھے تھے۔

وزیراعظم نے ملٹری سیکریٹری کو فون کر کے صدر کے احکامات بتا دیے لیکن ایم ایس کو رضا ربانی کو بتانے کی جرأت نہیں ہوئی چنانچہ رضا ربانی دیر تک ملاقات کا انتظار کرتے رہے لیکن انھیں بہرحال ملاقات کے بغیر واپس جانا پڑا‘ جہانگیر بدر سینیٹر بنا دیے گئے لیکن انھیں وزارت ملی اور نہ ہی قرب شاہی‘ تاہم ان کے برادر نسبتی توقیر صادق کو اوگرا کا چیئرمین بنا دیا گیا‘ وہ خوفناک حد تک کرپٹ ثابت ہوئے‘ انھوں نے سی این جی اسٹیشنز کی لوٹ سیل لگا دی‘ یہ بیس سے پچاس لاکھ روپے وصول کر کے سی این جی اسٹیشن کی اجازت دے دیتے تھے‘ یہ اجازتیں آگے چل کر گیس کا خوفناک بحران بن گئیں۔

توقیر صادق کی تقرری کا ایشو سپریم کورٹ میں گیا اور عدالت نے یہ تقرری کالعدم قرار دے دی ‘ نیب کے مطابق توقیر صادق نے اوگرا کو 82ارب روپے کا نقصان پہنچایا تھا‘ توقیر صادق بعد ازاں ملک سے فرار ہو گئے‘ یہ انٹرپول کی مدد سے 29 جنوری 2013ء کوابوظہبی سے گرفتار ہوئے لیکن ہمارے سرکاری ادارے بروقت کاغذات مکمل نہ کر سکے اور یوں عدالت نے انھیں رہا کر دیا۔

صدر زرداری کو اس دوران جب بھی جہانگیر بدر کے بارے میں بتایا جاتا تھا یہ ہنس کر کہتے تھے ’’ہم نے سالے کو اکاموڈیٹ کر دیا ‘ کیا یہ کافی نہیں‘‘ یوں بے نظیر بھٹو کا ساتھی ہونا‘ پارٹی کا پرانا ورکر ہونا اور برادرنسبتی کی اندھا دھند کرپشن یہ تینوں جہانگیر بدر کے راستے کی رکاوٹ بن گئیں اور یہ آہستہ آہستہ سائیڈ پر ہوتے چلے گئے اور آصف علی زرداری کا تیسرا ناقابل یقین کارنامہ ’’قاتل لیگ‘‘ کو اقتدار میں شامل کرنا تھا۔

میری ان دنوں جہانگیر بدر سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں‘ یہ میرے شو میں بھی تشریف لاتے تھے لیکن آپ قسمت کا ہیر پھیر ملاحظہ کیجیے‘ وہ پاکستان مسلم لیگ ق جہانگیر بدرنے جس کے ایک ممبر کامل علی آغا کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا وہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سیاسی اتحادی بن گئی‘ وہ اقتدار میں ان کے ساتھ شریک ہو گئی اور وہ چوہدری پرویز الٰہی جن کا نام بے نظیر بھٹو کے قاتلوں میں شامل تھا وہ بدر صاحب کی پارٹی کے نائب وزیراعظم بن گئے۔

جہانگیر بدر کو اب کامل علی آغا کے ساتھ سرکاری میٹنگز میں بھی بیٹھنا پڑتا تھا اورپروگراموں میں بھی‘ میں انھیں اکثر 2008ء کا واقعہ یاد کراتا تھا اور وہ ٹھنڈی آہ بھر کر کہتے تھے’’یہ ہمارے غرور کا نتیجہ ہے‘‘ وہ سمجھ دار انسان تھے‘ سیلف میڈ تھے‘ اندرون لاہور کی گلیوں میں دھکے کھا کر اوپر آئے تھے‘ آپ اندرون شہرجائیں تو آپ کو گائیڈ وہ دکان ضرور دکھائیں گے جس میں ان کے والد پکوڑے سموسے بیچتے تھے‘ جہانگیر بدر نے کبھی اپنے اس ماضی کو چھپانے کی کوشش نہیں کی‘ وہ ہمیشہ خود کو مزدور کا بیٹا کہتے تھے‘ وہ پوری زندگی بے نظیر بھٹو کے بھائی رہے‘ پارٹی میں جنم لیا اور پارٹی ہی میں فوت ہوئے۔

پارٹی پر بے شمار مشکل وقت آئے اور ان مشکل اوقات میں فیصل صالح حیات جیسے بے شمار رانجھے پارٹی کا ساتھ چھوڑ گئے لیکن بدر صاحب مورچے میں ڈٹے رہے‘ وہ دائیں بائیں نہ ہوئے‘ وہ زندگی کے تمام جھٹکے برداشت کر گئے لیکن جب آصف علی زرداری نے فیصل صالح حیات کو حکومت میں شامل کر لیا تو وہ بکھر گئے‘ وہ یہ جھٹکا برداشت نہ کر سکے‘ وہ سمجھ دار تھے‘ وہ منہ سے کچھ نہیں کہتے تھے لیکن ان کے چہرے کے تاثرات ‘ آنکھوں کی اداسی اور باڈی لینگویج سب کچھ بتا دیتی تھی‘ وہ اکثر فیصل صالح حیات کو عقل مند اور خود کو بے وقوف کہتے تھے۔

وہ کہتے تھے فیصل صالح حیات اِدھر تھے تب بھی کامیاب تھے‘ وہ اُدھر گئے تب بھی کامیاب رہے اور یہ اِدھر واپس آ گئے تو بھی کامیاب ہیں جب کہ ہم اِدھر ہی رہے اور ہر دور میں ناکام رہے‘ وہ بے نظیر بھٹو کو کثرت سے یاد کرتے تھے اور جب بھی یاد کرتے تھے ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے‘ قیادت کی سردمہری انھیں اندر ہی اندر کھا رہی تھی‘ میں نے ان سے ایک دن پوچھا ’’آپ آصف علی زرداری سے اکیلے میں کیوں نہیں ملتے‘‘ وہ بولے ’’مجھ میں اب بے عزتی کی ہمت نہیں رہی‘‘ میں خاموش ہو گیا‘ وہ بلاول بھٹو سے بہت پرامید تھے لیکن ان کا خیال تھا بلاول کے کندھوں پر بہت بوجھ ہے‘ بلاول جب تک یہ بوجھ نہیں اتاریں گے یہ کھل کر دوڑ نہیں سکیں گے۔

میں اتوار کی رات کتاب پڑھ رہا تھا‘ ٹیلی ویژن کی آواز بند تھی‘ میں نے اچانک اسکرین پر جہانگیر بدر کے انتقال کی خبر دیکھی‘ میں نے کتاب بند کر دی اور اداسی سے ٹیلی ویژن کو دیکھنے لگا‘ مجھے نہ جانے کیوں 2008 ء کا واقعہ یاد آ گیا اور مجھے اس کے بعد زندگی کی بے ثباتی نے گھیر لیا‘ ہم کیا ہیں‘ صابن کا بلبلہ‘ ہمیں واقعات کی ہوائیں گدگداتی رہتی ہیں‘ ہم بڑے ہوتے جاتے ہیں‘ ہم بڑے ہونے کے اس عمل میں خود کو اسٹیل کا بت سمجھ لیتے ہیں۔

ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں ہم دنیا میں دائمی ہیں اور یہ سمجھتے ہوئے ہم یہ تک بھول جاتے تھے یہ دنیا اگر بے نظیر بھٹو کی نہیں ہوئی تو یہ آصف علی زرداری کی کیسے رہے گی‘ ہوا میں ذرا سی تیزی آئے گی اور ہم بھی بلبلے کی طرح پھٹ کر ہوا میں گم ہو جائیںگے ‘ہم بھی ہوا میں ہوا بن جائیں گے‘ کاش ہم دائیں بائیں دیکھتے وقت ایک لمحے کے لیے یہ سوچ لیں کبھی اس دنیا میں فرعون بھی تھے تو شاید ہماری گردن کا سریہ چند انچ نیچے آ جائے‘ ہم بھی زندگی کی حقیقتوں کو جان لیں‘ کاش۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.