Saboot

ثبوت

ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف جنرل ضیاء الحق نے دو مقدمات قائم کیے تھے، جن میں سے ایک عدالتی تھا اور دوسرا سیاسی۔ عدالتی مقدمہ جنرل ضیاء نے بڑی سہولت کے ساتھ جیت لیا مگر سیاست کے میدان میں بھٹو نے انہیں شہ مات دے ڈالی۔ جنرل ضیاء گیارہ سال حکومت کرکے بھی بے نام و نشان رہے اور بھٹو پھانسی کے پھندے پر جھول کر بھی کسی نہ کسی طرح حکومت میں رہتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے بھی انیس سو ننانوے میں نواز شریف کے خلاف عدالتی اور سیاسی کارروائی شروع کی۔ نواز شریف کو بھی عدالت میں شکست ہوئی اور انہیں طیارہ اغوا کرنے کا مجرم قرار دے کر سزا سنا دی گئی۔ سیاست میں جنرل ضیاء کی طرح جنرل مشرف بھی شکست کھا گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ آج نواز شریف تو وہیں موجود ہیں جہاں سے نکالے گئے تھے اور جنرل مشرف اپنی بقا کے لیے تنکوں کے سہارے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ کہنے کو ذوالفقار علی بھٹو کو قتلِ عمد اور نواز شریف کو طیارہ اغوا کرنے کے جرائم میں ثبوتوں، گواہوں اور شہادتوں کی روشنی میں سزا دی گئی تھی‘ مگر عوام اپنا فیصلہ مختلف انداز میں سناتے رہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے بھٹو اور نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلوں نے یہ اصول طے کر دیا ہے کہ آنے والی کئی دہائیوں تک مقبول سیاسی رہنماؤں کے خلاف ہر ناقابل تردید ثبوت، چشم دید گواہ اور قابل اعتبار واقعاتی شہادت اسی صورت میں قابلِ اعتنا ہو گی جب عام آدمی اس کو مانے گا۔ عام آدمی کو اطمینان دلائے بغیر عدالت جو چاہے فیصلہ کر دے، لوگ ہمیشہ ملزم کا ساتھ ہی دیں گے۔
جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے دور میں کیے گئے عدالتی فیصلوں کو کسی نے مانا یا نہیں مگر اتنا تکلف ضرور تھا کہ ثبوت کے نام پر جو کچھ پیش کیا جاتا تھا‘ اس پر بادی النظر میں ثبوت کا ہی گمان گزرتا تھا‘ لیکن جب سے ہماری سیاسی جماعتوں نے ادھار چکانے کے لیے عدالتوں کو بطور میدان منتخب کیا ہے الا ماشااللہ فیس بک یا واٹس ایپ پر چلنے والی افواہیں بھی درجہء ثبوت میں داخل ہو چکی ہیں۔ اب پاناما لیکس کے کیس کو ہی لے لیں، ایک بار پھر منتخب وزیر اعظم کٹہرے میں کھڑا ہے اور اس کے ہارے ہوئے شعلہ بار مخالفین منہ سے کف اڑاتے ہوئے عدالت کے درپے ہیں کہ ان کے الزامات کو ”ناقابلِ تردید شواہد‘‘ جان کر اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وزارتِ عظمیٰ کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے۔ یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کی بیٹی اور بیٹوں کو بھی اسی سولی پر لٹکا دیا جائے تاکہ یہ منظر آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا سامان ہو۔ ان خود سر مدعیوں نے سپریم کورٹ میں تازہ فراہم کیے جانے والے شواہد کے طور پر جو کچھ پیش کیا ہے‘ اس پر ایک نظر ہی دنگ کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایک ثبو ت کا عنوان ہے ”رنگیلا وزیر اعظم‘‘ جس میں وزیر اعظم کے طیارے کے خد و خال بیان کیے گئے ہیں، ایک دستاویز میں ایوانِ وزیر اعظم کے باورچی کا ذکر ہے جو گجریلا بہت عمدہ بناتا تھا، ایک کاغذ کے 
مطابق ”وزیر اعظم نے عوام کو بجلی کے بلوں میں رعایت دے کر رشوت دی‘‘۔ حد تو یہ ہے کہ وزیر اعظم، ان کے والد اور ان کے بھائی کے کارٹون بھی اس مقدمے کی صفحہء مثل پر ثبت کرنے کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ زمانہ جدید کے مدعیوں سے توقع تھی کہ کوئی تو ایسا ثبوت لاتے جس پر عوام کا نہ سہی، خواص کا دل ہی ٹھک جاتا مگر وہ لائے تو کیا لائے؟ ایک صحافی کی کتاب‘ جس میں اپنی نفرت کو اطلاع بنا کر پیش کیا گیا ہے، اخباروں کے تراشے جن کے چھاپنے اور چھپوانے والوں کو بھی ان کی صداقت پر یقین نہیں، کڈھب موسیقاروں کے نغموں کے درمیانی وقفوں میں دی گئی گالیاں اور خانہ ساز دستاویزات!
پاناما معاملے پر قانون دانوں کی رائے تقسیم ہے، کچھ کا خیال ہے کہ یہ معاملہ سرے سے قانونی ہے ہی نہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ اس مسئلے کو عدالت کے بغیر حل ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ عدالت کے اس معاملے کو قابل سماعت قرار دینے کے بعد یہ بحث اپنی اہمیت کھو دیتی ہے لیکن سپریم کورٹ میں وزیر اعظم کے خلاف پیش کیے گئے تازہ چھ سو صفحات ایک نظر دیکھنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ تحریک انصاف ہمارے قانونی نظام کے اس ابہام کو اپنی سیاسی منفعت کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب عدالت نے اس معاملے کو قابلِ سماعت قرار دیا تو تحریک انصاف نے اپنا دھرنا ملتوی کرکے پیغام دیا کہ وہ کامیاب ہو گئی ہے۔ معاملے کے فریقوں سے ان کے تحریری بیانات مانگے گئے تو اس پر بھی فتح و نصرت کے شادیانے بجائے گئے۔ مخالف وکیل نے وقت مانگ لیا تو تحریک انصاف عدالت کے دروازے پر کھڑے ہو کر چور چور کا شور مچانے لگی اور اب یکے بعد دیگرے انٹرویوز، ان گنت بیانات اور بے شمار رجز پڑھ کر جو ثبوت پیش کیے گئے‘ مستند ذرائع کے مطابق ان میں سے بیشتر وہ ہیں جو عدالتیں پہلے ہی مختلف مقدمات میں مسترد کر چکی ہیں۔ اس طرح کے ثبوت پیش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر قبول کر لیے جائیں تو فبہا ورنہ نظام انصاف کی دہائی دیتے ہوئے سڑکوں پر رونق لگا لی جائے۔ یہ ثبوت کسی کے خلاف تو کیا استعمال ہوں گے لیکن یہ واضح ہو گیا ہے کہ مدعیانِ کرام کے پاس الزامات کے سوا کچھ بھی نہیں‘ یا وہ پوری ہوشیاری کے ساتھ اس عدالتی فیصلے کو دستوری نظام کے خلاف ایک ثبوت کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ 
عمران خان کی سیاست کا بنیادی نکتہ یہ رہا ہے کہ ملک کے دستوری نظام پر اتنا دباؤ ڈالا جائے کہ اس کو بچانے کے لیے حکومت ان کی بات ماننے کے لیے تیار ہو جائے۔ انہوں نے دو ہزار چودہ کے دھرنے کے ذریعے حکومت اور اس کے اتحادیو ں کی اس کمزوری کا اندازہ کر لیا تھا کہ یہ آئین کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے بہت کچھ قربان کر سکتے ہیں۔ چند ہفتے پہلے انہوں نے اپنی پارٹی کے وزیر اعلیٰ کو وفاقی حکومت کے خلاف کھڑا کرکے نظام پر دباؤ ڈالا اور مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔ اس بار وہ اپنی سیاسی قوت کے زور پر عدالت سے اپنے حریفوں کو تباہ کروانا چاہتے ہیں۔ ان کی حکمت عملی واقعی اتنی مربوط اور مہلک ہے کہ کام کر جائے تو سیاسی منظر پر سوائے ان کے کوئی دکھائی نہ دے۔ بس وہ یہ نظر انداز کر گئے کہ اس طرح کے ثبوتوں پر مطلوبہ فیصلے دورِ آمریت میں ہی ممکن ہوا کرتے ہیں۔ ایک کام کرتی ہوئی دستور کے تابع جمہوریہ کی عدالتیں آزاد فضا میں یہ پروا نہیں کرتیں کہ امپائر کی مدد سے میچ جیتنے کا کوئی خواہش مند اسلام آباد بند کر ڈالے گا‘ یا کسی چوک پر دھرنا دے بیٹھے گا۔ کیا تحریک انصاف میں کسی کو اقبال کے سیاست پر دو شعر یاد ہیں؟ اگر نہیں تو پیش خدمت ہیں: ؎
اس کھیل میں تعین مراتب ہے ضروری 
شاطر کی عنایت تُو فرزیں‘ میں پیادہ 
بے چارہ پیادہ تو ہے اک مہرہء ناچیز
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ

– See more at: http://dunya.com.pk/index.php/author/habib-akram/2016-11-15/17530/41307625#tab2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *