Gawadar Mein Jashn


گوادر میں جشن
گوادر بندرگاہ کی فعالیت پاکستان اور چین دونوں دوست ممالک کی مشترکہ کامیابی ہے۔ سوویت یونین نے گرم پانیوں تک رسائی کی خواہش میں اپنے آپ کو برباد کر ڈالا۔ طاقت کے زعم میں اُس نے افغانستان کو تاراج کیا اور پاکستان سے دوستانہ روابط بڑھا کر گرم پانیوں تک رسائی کا کوئی شریفانہ اور آبرومندانہ راستہ تلاش کرنے کے بجائے دھونس جمائی۔ سوویت یونین ماضی کا حصہ بن چکا مگر پاکستان میں اب بھی ان لوگوں کی کمی نہیں جو لیاقت علی خان پر تبرّا کرتے ہیں کہ وہ اپنی وفات سے قبل واشنگٹن یاترا کے بجائے ماسکوکیوں نہ پدھارے‘ بعد میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی سپر پاور کے حلقہ بگوش کیوں نہ ہوئے۔ یہی بوزنے گرم پانیوں تک رسائی کے روسی خواب کو پروپیگنڈہ قرار دیتے ہیں مگر ان سے کیا گلہ۔ اتنی بڑی نفسیاتی اور نظریاتی شکست کے بعد ذہنی توازن کہاں قائم رہتا ہے۔
عوامی جمہوریہ چین نے گوادر تک رسائی کے لیے قوت اور نخوت کا اظہار کیا نہ کبھی خطے میں جارحانہ‘ توسیع پسندانہ عزائم کی آبیاری کی اور وہ آرام سے گوادر پہنچ گیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں گوادر پورٹ کا انتظام و انصرام سنگاپور کی ایک فرم کے حوالے ہوا تو اس فیصلے پر تنقید ہوئی مگر یہ امریکی اور بھارتی ناراضگی اور سازشوں سے بچنے کی تدبیر تھی تاکہ مکمل فعالیت سے پہلے چین کی آمد دونوں ہمسایہ دوست ممالک کے مخالفین کو پاگل نہ کر دے۔ سی پیک کے منصوبے پر بھارت تو کُھل کر تنقید کر رہا ہے مگر خوش امریکہ بھی نہیں‘ چین کو وسطی ایشیاء‘ خلیج اور یورپ تک آسان تجارتی رسائی معمولی کارنامہ نہیں۔ مگر موجودہ حکومت نے اس حوالے سے جو پروپیگنڈا مہم شروع کی وہ کائونٹر پروڈکٹو ثابت ہوئی۔ سی پیک ہو یا گوادر بندرگاہ یہ دونوں قومی منصوبے ہیں۔ ایٹمی پروگرام کی طرح پاکستان کے دفاع‘ سلامتی‘ ترقی اور خوشحالی کے ضامن۔ مگر میاں نوازشریف اور اُن کے ساتھی باور کرانے میں مصروف ہیں کہ یہ مسلم لیگ اور اس کے سربراہ کا ذاتی کارنامہ ہے۔ پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے دور میں ہونے والی گوادر کی تقریب محض رسمی کارروائی تھی‘ اصل کام اب ہو رہے ہیں‘ حالانکہ جب گوادر بندرگاہ کے اردگرد رئیل اسٹیٹ کا کاروبار چمکا اور چین نے اپنی گودی پر کام شروع کیا، اس وقت میاں صاحب اپنے اہلخانہ سمیت جدہ میں مقیم تھے۔ قومی منصوبے ویسے بھی ایک دن میں بنتے نہ مکمل ہوتے ہیں۔ پرانی کہاوت ہے کہ درخت کوئی لگاتا ہے پھل کوئی دوسرا کھاتا ہے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمشن کا قیام اس وقت عمل میں آیا جب بھٹو صاحب ابھی سکندر مرزا کی کابینہ میں شامل نہیں ہوئے تھے اور بھٹو صاحب نے سائنس دانوں کو ایٹم بم بنانے کا ٹاسک اس وقت دیا جب میاں نوازشریف نے سیاست کی وادی میں قدم رکھنے کا سوچا بھی نہ تھا‘ مگر پاکستانی عوام کو ہمیشہ یہ باور کرایا گیا کہ بھٹو نے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا اور نوازشریف نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ درمیان میں سائنس دان‘ حکمران اور کہوٹہ لیبارٹریز و اٹامک انرجی کمشن محض جھک مارتے رہے‘ یہی معاملہ گوادر پورٹ اور سی پیک کے ساتھ ہے۔ جس کا جتنا کریڈٹ ہے اُسے ضرور ملنا چاہیے‘ بھٹو اور نوازشریف کو بھی ۔ مگر قومی منصوبوں کو فرد واحد سے منسوب کرنا زیادتی ہے۔ 
گوادر پورٹ اور سی پیک کے بارے میں ضرورت سے زیادہ شور شرابے اور بلاشرکت غیرے کریڈٹ لینے کی خواہش نے دشمنوں کو چوکنا کر دیا ہے اور ریشہ دوانیوں میں روزافزوں اضافہ پریشان کن ہے۔ تاہم سی پیک منصوبے کی آڑ میں اپنی غلطیوں‘ کوتاہیوں‘ کمزوریوں اور نااہلی کی پردہ پوشی بھی دانشمندی نہیں۔ مثلاً گزشتہ ڈیڑھ دو سال کے دوران بلوچستان کے طول و عرض میں دہشت گردی کا جو واقعہ ہوا اس کا سبب سی پیک اور گوادر پورٹ منصوبوں کی کامیاب تکمیل کو قرار دیا گیا اور قوم کو بتایا گیا کہ دشمن ان منصوبوں کو ناکامی سے دوچار کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی سے خوفزدہ۔ حالانکہ دہشت گردی کا یہ سلسلہ 2007ء سے جاری ہے اور ہزارہ قبائل جب سو سو لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کر رہے تھے تو کسی نے پاک چین اقتصادی راہداری کا نام تک نہ سنا تھا۔ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ بم دھماکوں اور قتل عام کی وجہ یہی ہے تو پھر اقتصادی راہداری کا کریڈٹ بھی اس حکومت کو جائیگا جس کے دور میں یہ واقعات ہوئے اور یہ سوال بھی ضرور پوچھا جائیگا کہ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم کل بھوشن یادیو نیٹ ورک پکڑا گیا تو سول حکومت کو سانپ کیوں سونگھ گیا اور اُس نے عالمی سطح پر واویلا کیوں نہیں کیا کہ بھارت حاضر سروس فوجیوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔ ”میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تُھو‘‘ کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارت کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں وہ اُڑی واقعہ کے بعد کنٹرول لائن پر مسلسل فائرنگ اور گولہ باری میں مصروف ہے۔ پہلے عام اور بے گناہ شہری بھارتی گولہ باری کا نشانہ بن رہے تھے‘ گزشتہ روز سات فوجی جوان بھی شہید ہوئے جو خطرناک رجحان ہے۔ مگر سیاسی‘ سفارتی اور دفاعی محاذ پر ہمارا ردعمل صرف اور صرف ہومیوپیتھک قسم کا احتجاج ہے جو بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر سے کیا جاتا ہے۔ شاہ بلاول نورانیؒ کے مزار پر حملہ کے بعد بھی حکومت کا ردعمل زبانی جمع خرچ تک محدود رہا۔
اتوار کے روز چینی تجارتی قافلوں کو گوادر پورٹ پر خوش آمدید کہنے اور بحری جہازوں کو رخصت کرنے کی تقریب سے ہرگز یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ بلوچستان کی سرزمین پر قیامت صغریٰ ٹوٹی اور شاہ بلاول نورانیؒ کے مزار پر حملہ کے نتیجے میں پانچ درجن شہری جان سے گزر گئے۔ تقریب کو ملتوی نہ کرنے کی بات تو قابل فہم ہے کہ انتظامات مکمل تھے اور پندرہ ممالک کے سفیروں کو مدعو کیا گیا تھا مگر اس موقع پر رقص و سرود کی محفل کیا دہشت گردوں کے ہاتھوں جان ہارنے والے پانچ درجن شہیدوں اور سو سے زائد زخمیوں کا غم غلط کرنے کے لیے برپا کی گئی؟ بلوچستان کے عوام اور شہیدوں کے ورثاء کو کیا پیغام دیا جا رہا تھا؟ یہی کہ گوادر پورٹ سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کے تصور سے ہی ہمارے دل پتھر‘ دماغ مفلوج اور آنکھیں شرم و حیا سے عاری ہو گئی ہیں اور کسی کو احساس نہیں کہ رقص و سرود کی اس محفل سے شاہ نورانیؒ سانحہ کے متاثرین اور بلوچستان کے عوام کے دلوں پر کیا بیتے گی۔ مجھے بلوچستان سے دانشوروں‘ اخبار نویسوں اور سیاسی کارکنوں کے پیغامات ملے کہ یہ ہمارے زخموں پر نمک کیوں چھڑکا جا رہا ہے؟ حکمران ہر حادثے کو سی پیک سے کیوں منسلک کرتے ہیں۔ باغیوں کو آخر یہ پروپیگنڈا کرنے کا موقع کیوں فراہم کیا جا رہا ہے کہ گوادر اور سی پیک سے بلوچ عوام کو حاصل تو کچھ نہیں ہو گا مگر ہم پراکسی وار کا گڑھ بن کر جنازے اٹھاتے رہیں گے۔
گوادر کی تقریب میں مقامی باشندوں اور گوادر کے اخبار نویسوں کو شرکت سے روک کر منتظمین نے معلوم نہیں کیا مقاصد حاصل کئے؟ کیا گوادر کے عام باشندوں کے علاوہ مقامی صحافی بھی سکیورٹی رسک ہیں؟ کہ انہیں داخلہ کارڈ تھما کر شرکت سے روک دیا گیا۔ سلوک تو خیر کوئٹہ کے صحافیوں سے بھی اچھا نہیں ہوا‘ مگر جذبہ حب الوطنی کے تحت وہ برداشت کر گئے۔ لیکن گوادر والوں سے یہ ”حسن سلوک‘‘؟ گوادر کی ترقی سے پاکستان اور بلوچستان کی ترقی کو جوڑا جا رہا ہے مگر گوادر کی حالت ایک مخصوص علاقے کے سوا کہیں نہیں بدلی‘ پانی نہ سیوریج سسٹم اور نہ کوئی دوسری شہری سہولت۔ سمندر کے کنارے پانی کا ٹینکر دو ہزار روپے میں بک رہا ہے جوخریدنا کسی عام بلوچی کے بس کی بات نہیں۔ پروپیگنڈا بہت ہو چکا‘ فیتے بھی بار بار کٹ گئے‘ مگر اب کریڈٹ لینے کی یہ دوڑ ختم ہونی چاہیے۔ اگر یہ قومی منصوبے ہیں تو کامیابی کا کریڈٹ قوم کو ملنا چاہیے اور جس جس کا جتنا کریڈٹ ہے اُسے دینے میں بُخل سے کام نہ لیا جائے‘ لیکن اگر یہ اورنج لائن ٹرین‘ میٹرو بس‘ موٹروے‘ رنگ روڈ‘ بجلی کے منصوبوں کی طرح مسلم لیگ نون کے ”جماعتی فنڈ‘‘ اور شریف خاندان کی ”ذاتی جیب‘‘ سے مکمل ہوئے ہیں تو یکطرفہ تشہیری مہم درست ہے اور اس کا سیاسی و انتخابی فائدہ صرف موجودہ حکمران اٹھائیں ۔جو پیسہ خرچ کرتا ہے وہی کریڈٹ لے‘ کسی اور کو کیا حق اور اعتراض کی گنجائش کہاں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *