Maan

ماں
ماں ایک تین حرفی لفظ جس نے شائد پوری کائنات کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے اور مسلسل کسی نه کسی شکل میں مصروف عمل نظر آتا هے- یه لفظ ہماری زندگیوں میں محبت, شفقت اور مہربانی کا نعم البدل هے اور ہم اپنی حتی المقدور کوشش کے باوجود بھی اس کا حق ادا نہیں کرسکتے

مجھے یه بات لکھنے میں ذرا بھی شک نہیں که ہماری عقل ماں کی شفقت کا احاطه کرنے سے قاصر ہےاور اس موضوع په جب بھی اور جتنا بھی لکھا گیا اس کے نئے رخ ہمارے سامنے آتے ہیں- دنیا کی ہر زبان میں ادب مسلسل اس موضوع په مختلف لکھاریوں کی تصانیف سامنے لاتا ہے جو مسلسل پڑھا جاتا ہے اور تکمیل کا شائبه بھی نہیں ہوتا

کسی نے کیا خوب کہا ہے که اگر ماں سے محروم ہو بھی جاؤ تو اس کی بے لوث محبت اور دعائیں آپکے ساتھ ساتھ ہوتی ہیں کیونکه اگر دریا سوکھ بھی جائے تب بھی اس کی نمی اسکی ریت تلے موجود ہوتی ہے- ماں ایک ایسی شخصیت هے جو ہماری زندگی کے تمام خلا پورے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اس کا خلا کوئی بھی پر نہیں کرسکتا

آج ایک بات آپ سے پوچھنی ہے کہ کیا آپ میں سے کوئی بھی یه بتا سکتا ہے که اسکی ماں کی پسند کیا هے؟ شاید ایک فیصد بھی اس کا جواب نهیں دے سکیں گے کیونکه ہماری ماؤں کی پسند اصل میں ہم سب کی پسند کے نیچے کہیں دبی ہوتی ہے- وه ہمیشه ہماری پسند اور نا پسند کا خیال رکھتی ہے اور اسکا وجود خوشی سے دمک رها هوتا ہے جب وه کسی سے ذکر کرتی ہے که میرے بیٹے/ بیٹی کو یه پسند ہے اور میں نے یه کیا ہے دیکھنا وه آج کتنا خوش ہوگا- ایسے ہی اگر دسترخوان پر جب بھی غذا کم پڑنے لگتی ہے توسب سے پہلی شخصیت جو کہتی ہے کہ مجھے تو آج بھوک ھی نہیں وہ ماں ہوتی ہے

ماں کی سب سے بڑی آزمائش اس وقت ہوتی هے جب وه اپنی نازوں پلی اولاد کیلیے جیون ساتھی تلاش کرتی ہے اور اپنی اولاد اسکے حوالے کردیتی ہے حالانکه اسےاندازه ہوتا ہے که دوسراہٹ کا کیا نتیجه نکلے گا لیکن پهر بھی وه اولاد کی خوشی کی خاطر یه قدم اٹھاتی هے لیکن اکثر اسے ملتا کیا ہے ….. ایک انتظار, صرف ایک انتظار- بیٹی ہو تو کب ملنے آئے گی اور اگر بیٹا ہو تو کب وه اسے ملنے کیلئے وقت نکالے گا

مجھے یاد ہے که میری ماں جی نے میری شادی  سے قبل مجھے کہا که “بیٹا یاد رکھنا که ماں همیشه ٹھیک نهیں هوتی اور بیوی همیشه غلط نہیں ہوتی- اسلئیے خیال رکھنا که کبھی بیوی کے ساتھ زیادتی نه ہو جائے”. ایک دفعه جب میں بے روزگاری کے دن گزار رها تھا مجھے تسلی دیتے ہوے کہنے لگیں که فکر کیوں کرتے. ابھی الله نے تمہیں مجھ سے دور نہیں بھیجنا, وه چاہتا هے که ابھی تم میری آنکھوں کے سامنے رہو- شاید سب مائیں ایسے ہی سوچتی ہیں

جیسے ہر چیز کے ساتھ ایک مینوئیل هوتا هے که اسے کیسے کیسے چلانا ہے اسکی دیکھ بھال کیسے کرنی ہے ایسے ہی ہم سب کی زندگیوں کا آپریٹنگ مینوئیل الله تعالی نے ہماری ماں کی شکل میں اتارا ہے, وه جانتی ہے که ہمیں کیسے چلانا هے, ہمارے مزاج اور طبعیتیں کیسی ہیں, ہم کس وقت اور کن حالات میں کیسا ردعمل ظاہر کریں گے اسلیے وه اسی طرح حالات کو تبدیل کرنے کی کوشش شروع کردیتی هے که ہمیں کم سے کم تکلیف هو

کہتے ہیں که مائیں سانجھی ہوتی ہیں کیونکه کسی کی بھی اولاد ہو اسے تکلیف میں دیکھ کر اسکی ہمدردی کی رگ پهڑکنے لگتی هے اور ایک دفعه وه رک کر ضرور اس معاملے میں دخل دینے کی کوشش ضرور کرتی ہے اور ہمارے مشرقی معاشرے میں اکثر اوقات اسکی یه کوشش بارآور ثابت ہوتی ہے- ہم لوگ اپنی اور دوسروں کی ماؤں کی عزت ضرور کرتے ہیں اور اسکی بات کو سنتے ضرور ہیں

ماں کی کمی کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب ہم اس سے دور چلے جائیں اور ایسا اکثر روزگار کی مصروفیت کی بدولت ہی ہوتا هے- ہمیں جب بھی کوئی تکلیف ہوتی ہے یا مشکل پیش آتی ہے تو بے اختیار منه سے لفظ ماں ہی نکلتا ہے- ماں کی مہربانی, شفقت اور رحمدلی ہی ہے که الله تعالی نے بھی اسی رشتے کو بطور تمثیل پسند کیا جب اس نے انسان کو اپنی رحمدلی اور محبت سمجھائی که وه یعنی الله تعالی ستر ماؤں سے زیاده مہربان ہے

الله تعالی ہم سب کی ماؤں کو صحت، تندرستی اور لمبی زندگی عطا کرے اور ہمیں اسکے ساتھ نیک سلوک کی توفیق دے، آمین

2 thoughts on “Maan

  • November 13, 2016 at 9:43 am
    Permalink

    Wonderful depiction of mother’s love

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.