Taleem – Hamari Tarjeehaat

تعلیم – ہماری ترجیحات

یار دعا کرو که بیٹے کا میڈیکل میں داخله ہو جائے

بڑی پریشانی میں ہوں, بیٹی جس میڈیکل کالج میں آخری سال میں تھی وه ابھی تک رجسٹرڈ ہی نہیں ہوا
یار بیٹا اینجینئیرنگ کی ڈگری لیے گھوم رہا ہے لیکن ڈگری پاکستان میں قابل قبولہی نہیں

اس قسم کے شکایت نما کلمات اکثر سننے کو ملتے ہیں اور ماں باپ اکثر اپنی پریشانیوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں, سمجھ یه نہیں آتی که ہم ایسی نوبت آنے ہی کیوں دیتے ہیں. کیا ایسی مشکل میں پڑنے سے قبل ہم نے ایسی صورتحال کے بارے میں اندازه لگایا ہوتا ہے یا کسی جاننے والے سے مشوره لیا ہوتا ہے یا نہیں

اصل میں ہماری ترجیحات میں شاید بچوں کی تعلیم کافی سے زیاده نیچے آتی ہے, بیشک ہم شور زیاده مچاتے رہتے ہیں.
آج اگر ہمیں ایک فریج لینا ہو تو ہم خریداری سے قبل مشورے شروع کردیتے ہیں, مختلف ماڈل اور دکانیں چیک کرنا شروع کردیتے ہیں اور پسند آجانے والے ماڈل کے بارے میں دوست احباب سے مشوره کرنے کے بعد اسکی خریداری کرتے ہیں که کہیں پیسے ضائیع نه ہو جائیں

جب بچوں کی تعلیم کی طرف توجه کرنے کی باری آتی ہے اکثر اوقات ہم تمام فیصلے بچوں په چھوڑ دیتے ہیں- اگر وه محنتی ہے, اکیڈمی میں صحیح تیاری کے بعد اچھے امتحانی نتائج اور اچھے ٹیسٹ مارکس لانے میں کامیاب رہا ہو تو کسی بھی سرکاری یونیورسٹی یا میڈیکل کالج میں داخله حاصل کرکے وه ہماری مشکلات آسان کردیتا ہے. لیکن پریشانی اسوقت شروع ہوتی هے جب وه داخله حاصل نه کرسکے اور ہمیں پرائیویٹ یونیورسٹی یا کالج کا رخ کرنا پڑے.

ایک اچھے کالج یا یونیورٹی میں داخله کرانے کیلئیے جو ضروری معلومات درکار ہوتی ہیں ہم ان سے صرف نظر کرنا شروع کردیتے ہیں اور کوشش ہوتی ہے که بس کسی طرح اور کسی بھی جگه بچے/بچی کا داخله ہو جائے. اور اس کوشش میں ہم بنیادی اور ضروری معلومات لینا بھی گوارا نہیں کرتے

ہر سال داخلوں سے قبل پاکستان اینجنئیرنگ کونسل اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز ایسے تمام کالج/یونیورسٹیوں کی لسٹ اخبارات میں شائع کراتے ہیں جو که رجسٹرڈ نہیں هوتی اور انکی لسٹ بھی اکثر انکی ویب سائیٹس په دستیاب ہوتی ہیں لیکن ہم میں سے کتنے والدین ایسے پیں جویه معلومات حاصل کرتے پیں, شاید چند ایک. اکثر ہم کالج میں داخله کرانے کی کوشش کرتے ہیں اور کالج والوں کی طفل تسلیوں په بھروسه کر لیتے ہیں که انکی رجسٹریشن آخری سٹیج په ہے اور عنقریب ہو جائے گی.

>ایسی لاپرواہیوں کا وہی نتیجه نکلتا ہے جو که اکثر ہم اخبارات میں پڑھتے ہیں که بچے چار/ پانچ ساله تعلیم مکمل کرنے کے بعد فارغ ہوجاتے هیں لیکن اداره متعلقه جگه سے رجسٹریشن حاصل کرنے میں کامیاب نهیں هوتا اور بچوں کو اپنی سند دے کر فارغ کردیتا ہے, اسوقت ہمیں اپنی رقم اور اس سے زیاده بچوں کے قیمتی سال ضائع هونے کا احساس ہوتا هے لیکن اسوقت تک دیر ہو چکی ہوتی ہے

آخر ہم اس مشکل میں پڑنے سے قبل اسکا ادراک کیوں نہیں کرتے, ہمارے لیے بچوں کی تعلیم کا معامله ایک سستی سی گھریلو چیز خریدنے سے بھی سستا کیوں ہوجاتا ہے. ہم اپنے پیسے اور بچوں کے قیمتی سال دوسروں کے زبانی وعدوں کی بھینٹ کیوں چڑھا دیتے ہیں

کیا اس بحث سے یه چیز واضح نهیں ہوجاتی ہے که ہمارے بچوں کی تعلیم ہماری ترجیحات میں کہیں نیچے آتی ہے چاہے ہماری یه حرکت شعوری ہو یا لاشعوری اور کیا یه ایک مجرمانه غلطی نہیں ہے

ذرا سوچیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *