Jalti Sarkain

جلتی سڑکیں
گیارہ مئی 2013 کے الیکشن میں پاکستان کی غیور عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ جیسے 1999 کی حکومت بنانے کے لئے سنایا تھا۔ گو کہ پاکستان کی مقتدر طاقتیں مسلم لیگ نون کو سخت ناپسند کرتی تھیں مگر عوام کے دلوں میں موجود میاں نواز شریف کی محبت کی موجودگی پہ مہر ثبت ہو گئی۔ اتنے سال ٹرائل اور ایگزائل کے باوجود عوام نے مسلم لیگ نون اور۔میاں صاحب کو بے انتہا پیار دیا۔
عمران خان صاحب نے 2010 میں لاہور میں شاندار جلسہ کیا تو مقتدر طاقت نے جلسے میں آئے سب لوگوں کو بلے کا ووٹر سمجھا اور پاکستان پہ اپنے لاڈلے عمران خان کی حکومت کے سہانے خواب دیکھنے لگے۔
دو ہزار آٹھ میں پی پی پی سیاسی شہادت کا سہارا لے کے الیکشن تو جیت گئی مگر آمروں کے ہاتھوں لٹے پاکستان کو سجا سنوار نہ سکی۔ پورے پانچ سال سینہ تان کے کرپشن کی اور پاکستان کا مال کھایا۔ اس طویل عرصے میں پاکستان کی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے پی پی پی کچھ خاطر خواہ کام نہ کرسکی
میں 2009 سے 2012 تک سیالکوٹ میں تعلیم حاصل کرتا تھا۔ان دنوں حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے تھے۔ بجلی کی صورتحال اتنی خراب تھی کہ کئی کئی دن بجلی کا پتہ نہیں ہوتا تھا۔ لوگ اس وجہ سے بہت پریشان اور غصے میں رہتے تھے۔ کئی کئی دن تک بجلی نہ آنے سے صنعتیں بند اور اسی وجہ سے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے تھے۔ بے چاری روتی پیٹتی عوام دل برداشتہ ہو کے سڑکوں پہ نکل آتی۔ میں جب گوجرانوالہ سے سیالکوٹ کے لئے روانہ ہوتا تو جگہ جگہ ٹائر جلا کے سڑکیں بند کر دی گئی ہوتی تھیں۔ سیالکوٹ داخلے کے وقت سب سے ذیادہ پریشانی ہوتی۔ شہابی پھاٹک سے چائنہ چوک اور پھر چائنہ چوک سے لاری اڈے تک سب مین سڑکیں بند ہوتی تھیں اور ٹائر جلا جلا کے کالی سڑکوں کو مزید کالا کر دیا گیا ہوتا تھا۔
میاں صاحب نے 2013 میں اقتدار سنبھالا تو دو بڑی مشکلات بجلی اور امن و امان کی کمی کا سامنا تھا تو تقریبا پچھلے پندرہ سالوں سے بجلی اور امن کے لئے کچھ بھی پختہ فیصلے نہیں کیے گئے تھے۔ میاں نواز شریف صاحب نے امن و امان کے لئے ضرب عضب، کراچی آپریشن شروع کروائے جس سے ملک پاکستان کا امن بحال ہوا ۔ بجلی کی کمی کو بھی سنجیدگی سے لیا گیا اور بجلی کے کافی کارخانے لگائے جن میں سے کچھ مکمل اور کچھ تعمیراتی مراحل میں ہیں۔ بجلی کی کمی بلکل ختم تو نہیں مگر کافی حد تک قابو پا لیا گیا۔
اور آئندہ 2 سالوں سے پاکستان سے بجلی کی قلت اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ انشااللہ
یہ سب لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو دعوتیں دے دے کے پکار پکار کے گھروں سے نکالا نہیں جاسکتا کیونکہ اگر عوام واقعتا اتنے برے حالات کا سامنا کر رہی ہو یا حالات بہتری کی طرف نہ جا رہے ہوں تو بلانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور عوام باہر نکل کے ٹائر جلا کے ملک کو جام کر دیتی ہے۔
براہ کرم کسی انتشار فساد کا حصہ بننے سے پہلے خالص پاکستانی بن کے آج کے پاکستان اور 8،10 سال پہلے کے پاکستان کا موازنہ ضرور کریں۔ شکریہ
اللہ تعالی پاکستان کو اندرونی بیرونی خطرات سے محفوظ فرمائے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.