Teraa Tollay ki Chain

میکلیوڈ روڈ لاہور پر آتے ہوئے ریلوے سٹیشن کی طرف آئیں تو آپ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے میکلیوڈ روڈ شروع ہوتی ہے, یہ جگہ آسٹریلیا چوک کہلاتی ہے. وجہ تسمیہ تو معلوم نہیں مگر نوے کی دہائی میں یہ جگہ سستے ہوٹلوں اور اے سی کوچز وغیرہ کے اڈوں کی آماجگاہ بن چکی تھی۔
یہ اسی دور کی بات ہے اور میں زمانہ طالب علمی کو خیرباد کہہ کر نیا نیا نوکری پیشہ ہوا تھا. یہی وہ جگہ تھی جہاں سے میں اپنے آبائی شہر جانے کیلئیے نسبتاً بہتر اور تیز کوہستان اے سی سروس کی بہتر سیٹر روڈ لائینر کوچز لیا کرتا۔
کوچ لاہور سے نکل کر لائلپور کیلئیے روانہ ہوئے شاید گھنٹہ بھر ہوا ہوگا. زیادہ تر مسافر اونگھنے میں یا اخبار پڑھنے میں مصروف تھے. میری سیٹ کوچ کے تقریباً درمیان میں تھی اور میری سیٹ سے اگلی سیٹ پر دو طالب علم نوجوان براجمان تھے جن میں ایک شاید یونیورسٹی کا طالب علم تھا اور دوسرا غالباً اس کا چھوٹا بھائی تھا. دونوں کی عمر بالترتیب یہی کوئی پچیس اور بیس سال کے لگ بھگ ہوگی. میں چونکہ انکی سیٹ کی پشت کے ساتھ ماتھا لگا کر حسب عادت اونگھنے کی کوشش میں مصروف تھا اس لئیے انکی زیادہ تر باتیں اور خوش گپیاں سن سکتا تھا. نوجوان اپنی ہمشیرہ کی شادی کیلئیے لاہور سے خریداری کرکے واپس جا رہے تھے اور شادی کے دیگر انتظامات اور رشتے داروں کے روئیوں پر بحث میں مصروف تھے۔
اچانک ان نوجوانوں سے اگلی نشست سے ایک خاتون اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور پیچھے مڑ کر ان نوجوانوں سے مخاطب ہو کر تقریباً چیختی ہوئے آواز میں بولی

‘وے بیغیرتو تہانوں شرم نئیں آندی چھیڑ دے ہوئے؟ تہاڈے گھر ماں بہن نئیں ہیگی؟ ‘

دونوں نوجوانوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور بڑے نے کہا ‘باجی میں معذرت خواہ ہوں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ہم تو اپنی باتوں میں مصروف تھے’۔
خاتون جس نے ہونٹوں پر دنداسہ مل رکھا تھا اور ناک میں نتھلی پہنی ہوئی تھی. آواز و اطوار سے کسی طور گھریلو خاتون نہیں لگ رہی تھی. نوجوان کی بات سن کر گھوری ڈالتے ہوئے نشست پر بیٹھ گئی. بس میں ایک ناگوار سی فضا پھیل گئی اور جو لوگ اونگھ رہے تھے وہ بھی جاگ گئے۔
تقریباً تین منٹ بعد وہی خاتون پھر کھڑی ہوگئی, اس بار حملہ پہلے سے بھی شدید ترین تھا جس میں تازہ کوسنے اور نوجوانوں کے حسب ونسب اور خون پر شکوک و شبہات شامل تھے. دونوں نوجوان ششدر رہ گئے اور ایک لفظ ادا نہ کر سکے, دیگر سواریوں نے خاتون کو بیٹھنے کی تلقین کی اور چند ایک نے زبانی طور پر نوجوانوں کو تنبیہہ کی. بڑے نوجوان نے جس کے چہرے پر شدید شرمندگی اور بےبسی کے تاثرات تھے سرزنش کے طور پر چھوٹے بھائی سے نشست تبدیل کر لی. چھوٹا بھائی مکمل طور پر خوفزدہ اور گم سم نظر آ رہا تھا۔

سفر جاری تھا, بمشکل پانچ منٹ گزرے ہونگے کہ خاتون کے ہمراہ مرد جسنے ہلکے نیلے رنگ کا شلوار قمیص اور سیاہ واسکٹ پہن رکھی تھی اور کسی سستے علاقے کا کونسلر دکھائی دیتا تھا اٹھ کھڑا ہوا اور نوجوانوں کی طرف منہ کر کے شدید گالم گلوچ شروع کر دیا.. اوئے تہاڈی ماں دی. . .
اوئے بیغیرتو تہاڈی پین نوں. . اوئے کسے… دیو پترو

بڑے نوجوان نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر جواباً پہلے سے بھی غلیظ گالی آئی تو توقع کے عین مطابق بڑا نوجوان مشتعل ہو گیا اور کھڑے ہو کر آدمی کا گریبان پکڑ لیا. دونوں میں ایک یا دو گھونسوں کا تبادلہ ہوا اور نیلے شلوار قمیص والے آدمی نے شور مچا دیا
‘اوئے میری سونے دی چین گر گئی, میری تیرہ تولے دی سونے دی چین گر گئی’. ساتھ ہی دوسری سواریوں سے مخاطب ہو کر بولا ‘بھائیو میری تیرہ تولے کی چین گرانے کا زمہ دار یہ نوجوان ہے. اب یہ میری چین بھرےگا تو گھر جائےگا’
نوجوان گھبرا گیا اور فوراً معافی تلافی پر اتر آیا. مگر نیلی شلوار قمیص والا آدمی بات سننے کا بھی روادار نہ تھا. جیب سے موبائل فون نکالا اور سواریوں سے مخاطب ہو کر بولا ایس پی فیصل آباد راؤ عامر میرا کزن ہے. یہ لڑکے میری چین بھریں گے ورنہ حوالات جائیں گے. اور ساتھ ہی موبائل فون پر نمبر ڈائل کر کے راؤ عامر سے بات کر کے نفری بھیجنے کا مطالبہ کر دیا. اس موقعے پر پوری بس میں کسی نے نہ سوچا کہ کیا ایس پی فیصل آباد کا نام واقعی راؤ عامر ہے؟
مجھے اس موقعے پر شدید ناانصافی کا احساس ہو رہا تھا میں نے اس آدمی سے مخاطب ہو کر کہا کہ بھائی پہلے تو آپ نے زیادتی کی کہ گالم گلوچ شروع کر دیا اور دوسرا میں نے تو آپ کی چین پہنے ہوئے نہیں دیکھی ؟
آدمی فوراً بولا ‘ توں وی ایناں دا نال دا ای ایں؟ ‘ چین دے پیسے تینوں وی بھرنے پینے آں’
مجھے فوراً والدین کی تلقین کہ ‘گھر سے باہر نوکری کرنی ہے تو کسی پرائے پھڈے میں نہیں پڑنا ‘ یاد آ گئی, ساتھ ہی نظروں کے سامنے خود کو راؤ عامر کی حوالات میں بند ہونے کا سین اور والد صاحب کی عزت خاک میں ملانے کا احساس پیدا ہوا تو ہاتھ شل اور زبان گنگ ہو گئی۔
ایک دو دوسری سواریوں نے دخل اندازی کی کوشش کی تو نیلی شلوار قمیص والے آدمی نے جواب دیا. .’ میرا نقصان تسی بھر دیو !!’ سواریاں خاموش ہو کر بیٹھ گئیں.
کنڈیکٹر نے کہا کہ یہ کیا بد معاشی شروع کی ہوئی ہے تو آدمی بولا ‘ راؤ عامر کی نفری گاڑی سمیت سٹاپ پر پہنچ چکی ہے میں تمھیں اتنے چھتر لگواؤں گا کہ چلنا بھول جاؤ گے’ اسکے بعد کنڈیکٹر کی آواز نہ سنی گئی۔
بڑے نوجوان نے منت سماجت شروع کر دی مگر آدمی کی رٹ تیرہ تولے کی چین پر اٹکی ہوئی تھی.
تنگ آ کر نوجوان ڈرائیور سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہمیں یہیں گاڑی روک کر اتار دے. شلوار قمیص والے آدمی نے با آواز بلند ڈرائیور سے کہا کہ اگر گاڑی روکی گئی تو نتائج کے زمہ دار تم خود ہوگے. ڈرائیور سہم گیا اور کوچ کے مقرر شدہ سٹاپ پر جہاں پر لوگوں کے واش روم وغیرہ کیلئیے کوچز رکتی ہیں وہاں بھی نہ روکی۔

اے سی کوچ کو آدمی نے ایک لحاظ سے مکمل طور پر یرغمال بنا لیا تھا اور اب ڈرائیور سمیت اسکے کنٹرول میں تھی۔

دونوں نوجوانوں کی آنکھوں میں بے بسی, نا انصافی اور زور زبردستی کی وجہ سے آنسو تھے. اس موقعے پر نیلی شلوار قمیص والے آدمی نے دل نرم کرتے ہوئے آفر کی کہ اگر دونوں نوجوان اسکا آدھا نقصان پورا کر دیں تو وہ باقی آدھا نقصان خود برداشت کر کے انہیں کمال سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جانے کی اجازت دے دے گا. فیصل آباد آنے والا تھا, دونوں نوجوانوں نے اپنی جیبیں خالی کیں جن سے تقریباً 3742 روپے برآمد ہوئے. آدمی نے شرط عائد کی کہ اپنے شناختی کارڈ اسکے حوالے کر دیں جب وہ باقی پیسے دیں گے تو شناختی کارڈ واپس کر دئیے جائیں گے. دونوں بھائیوں نے بخوشی اپنے شناختی کارڈ اسکے حوالے کر دئیے۔
اس تمام عمل کے دوران دیگر ستر سے زائد سواریاں تقریباً لاتعلق اور بے حس ہو کر بیٹھی رہیں. کوچ اڈے پر پہنچ چکی تھی. بس سے اترنے کی سب سے زیادہ جلدی دونوں نوجوان بھائیوں کو تھی. ہم نے بھی بس سے اتر کر ضمیر کی آواز کا گلہ دبایا اور مصلحت کے تحت پرائے پھڈے سے بچ جانے پر خود کو شاباش دیتے ہوئے گھر کو چل دئیے۔

چار روز بعد لاہور واپسی سفر کے دوران اخبار خریدا تو پچھلے صفحے پر ایک خبر تھی کہ ‘دورانِ سفر مجسٹریٹ کو لوٹنے کی کوشش کرنے والا نوسرباز جوڑا گرفتار’ . . ذرا تفصیل پڑھی تو وہی کہانی اور تیرہ تولے کی چین گُم ہونے کا الزام . بس اس بار شاید غلط جگہ ہاتھ ڈال بیٹھے تھے۔

صاحبو یقین مانئیے, پانامہ کا سارا قضیہ اس واقعے سے مختلف نہیں ہے۔

3 thoughts on “Teraa Tollay ki Chain

  • October 25, 2016 at 11:03 am
    Permalink

    سادگی اور پرکاری
    بہت اچھے ینگ مین

    Reply
  • October 25, 2016 at 9:31 pm
    Permalink

    بهت خوب 👏👏👏👏

    Reply
  • November 15, 2016 at 4:03 am
    Permalink

    بہت خوب ۔۔۔۔ 🙂

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *