Pakistani Stock Market

آجکل هر جگه خواه سوشل میڈیا هو, پرنٹ میڈیا هو یا الیکٹرانک میڈیا پاکستانی بازار حصص یعنی سٹاک مارکیٹ کا چرچا هے- سب اسکی شاندار کارکردگی پر اپنے اپنے نقطئه نظر سے بحث کرتے نظر آتے هیں- حکومتی گروپ کے لوگ اسے موجوده حکومت کی شاندار معاشی ترقی کا پیرامیٹر هی گردانتے هیں لیکن کیا حقیقت میں ایسا هی هے۔

جب موجوده حکومت برسراقتدار آئی تو اس جون میں انڈیکس 20958 تھا جو جون 2016 میں 34398 اور اب بڑھ کر تقریبا 41000 هو چکا هے جبکه هماری لارج سکیل انڈسٹریل گروتھ ریٹ ان سالوں میں صرف %2 سے %3 تھا. پس جب ترقی کی شرح اتنی کم هو تو مارکیٹ زیاده کیسے چڑھ گئی هے۔

چین همارا پڑوسی ملک, دنیا کی ایک بڑی معاشی طاقت,اسکی سٹاک مارکیٹ دنیا کی ایک بڑی ناقابل اعتبار مارکیٹ هے جو اپنے کیپیٹل گین یکدم زیرو کرنا شروع کردیتی هے جبکه ملکی معاشی اعشاریے مثبت نتائیج دکھا رهے هوتے هیں – حیران کن بات هے۔

دراصل بازار حصص میں تیزی کی مندرجه ذیل وجوهات هو سکتی هیں۔۔۔

ملکی معاشی ترقی اور معاشی پالیسیوں کا تسلسل*

سٹاک مارکیٹ میں سٹه بازی کا کردار*

ملک میں دستیاب دوسرے انویسٹمنٹ ذرائیع*

علاقائی سٹاک مارکیٹ کی پوزیشن*

علاقائی انویسمنٹ کے دوسرے ذرائیع*

اب اگر ان تمام ممکنات په اک نظر ڈالیں تو همیں پته چلتا هے که پاکستان میں بلاشبه معاشی پالیسیوں کا تسلسل بھی نظر آتا هے اور ترقی بھی نظر آتی هے لیکن ترقی کی وه رفتار نهیں جس رفتار هے بازار حصص کا اعشاریه بڑھ گیا هے اور وه تاریخی بلندیوں په آچکا هے۔

همارے هاں سٹه بازی عروج پر هے مختلف بروکریج ھاؤسز نے اپنے اپنے حصص بانٹے هووے هیں جن میں سٹه کرواتے هیں اور اپنے ویلیوڈ کسٹمرز کو منافع/کیپیٹل گین دلواتے هیں, کونسا شیئر کب لینا اور کب بیچنا هے سب بتایا جاتا هے, بس آپکے پاس وافر پیسه هو اور مسلسل ادھر بیٹھ کر شئیرز ٹرن اوور کرسکیں۔

پاکستان میں دوسرے انویسٹمنٹ کے ذرائیع کم منافع دے رهے هیں, بینکوں کا بچتوں په منافع 4-6 فیصد کے درمیان آچکا هے. قومی بچت کے سرٹیفیکیٹ بھی منافع کم کر چکے هیں اور وه سنگل ڈیجٹ میں هے. سونے/چاندی کی قیمت بھی رینج مین گھوم رهی هے, کروڈ آئل نفع کم اور نقصان زیاده دے رها هے اور ایسا هی حال زرعی اجناس کا هے. جائیداد کا حال بھی ان سے کچھ زیاده مختلف نظر نهیں آتا خاص طور په قیمت فروخت کےتعین کے نئے قوانین کے بعد۔

علاقائی سٹاک مارکیٹیں اپنے عروج په هیں. انکی اوسط شیئر کی آمدنی/قیمت کے اعشاریے 20 کو چھو رهے هیں جبکه پاکستانی مارکیٹ میں یه اعشاریے ابھی بھی 10-12 کے درمیان هیں۔

علاقے میں دوسرے انویسٹمنٹ ذرائیع کا حال بھی برا هی هے. گرتے هووے بینک ریٹ نے منافع زیرو کردیا هے اور اکثر ممالک کی معیشت سست روی کا شکار هے. یورپین یونین ممالک کی معیشت ایک بڑا سوالیه نشان لیے هووے هے. ان ممالک کی کرنسی خاص طور پر پاؤنڈ اور یورو اب هائی رسک میں هیں۔

مندرجه بالا بحث کے بعد یه سامنے آتا هے که اب انٹرنیشنل فنڈ مینیجرز کیا کریں. لامحاله اب انکی پسند میڈیم سائیز سٹاک مارکیٹس هی ره جاتی هیں جهاں انکا پیسه محفوظ اور اسکے بڑھنے کے زیاده چانسز هیں – پاکستانی سٹاک مارکیٹ انکی چوائیسز میں سے ایک هے. هماری مارکیٹ کا سائیز اتنا چھوٹا هے که اگر کسی روز دس ملین ڈالر کی انویسمنٹ هوجائے تو انڈیکس میں هر طرف سبزه هوجاتا هے اور پیسه نکلنے په سب لال هوتے هیں۔

لهذا میری نظر میں سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس معاشی ترقی کا ٹھیک ٹھیک اعشاریه نهیں اور نه هی بطور ثبوت اس کام کیلیے پیش کیا جا سکتا هے۔

نوٹ:- یه خیالات میرے اپنے هیں اور آپکا ان سے متفق هونا ضروری نهیں, هاں آپکی آرأ میری رهنمائی ضرور کریں گی, شکریه

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *