Manoos Ajnabi

مانوس اجنبی
اس کا نام مومنہ ( تبدیل ) اور علاقہ نارتھ ناظم آباد ( تبدیل ) کراچی تھا عمر پچیس سال تھی .. یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے اپنا فیس بک پیج نیا نیا بنایا تھا اور اس وقت میں کبھی کبھار سیاست کے علاوہ مزاحیہ اشاعتیں بھی کرتا تھا. اس نے میرا پیج مزاحیہ اشاعت کی وجہ سے لائک کیا .. اور آہستہ آہستہ وہ میری ہر اشاعت ( پوسٹ ) کو لائک کرتی اور ساتھ ساتھ ہلکے پھلکے کومینٹ کرنے لگی. شروع میں پیج چھوٹا تھا اور میں کافی جذبے سے پیج چلاتا تھا اس لئے میرا دھیان تو جاتا مگر میں فیک اکاونٹ سمجھ کر ہمیشہ اسے اگنور کر دیتا .. اس کے باوجود وہ میری ہر اشاعت پر نظر رکھتی اور اس نے کومینٹس کرنا جاری رکھا لیکن کبھی بھی مجھے ڈی ایم نہیں کیا. وقت گزرتا گیا، میں نے فیس بک کے ساتھ ٹویٹر کا استعمال شروع کر دیا۔

ایک دن مومنہ نام کے ایک اکاونٹ نے مجھے فالو کیا، مگر میں نے کوئی نوٹس نہ لیا اب اس کا کام ڈبل ہو گیا تھا وہ فیس بک پر بھی میری اشاعتیں لائک کرتی اور ان پر کومینٹ کرتی اور ٹویٹر پر بھی میرے ٹویٹس کو ری ٹویٹس کرتی .. اب تک میں نے اس کے کسی کومینٹ کا جواب نہیں دیا تھا. ایک دن میں صبح اٹھا تو ٹویٹر پر اس کا ڈی ایم دیکھا، میں حیران و پریشان ہو گیا اسے آج کیا ہو گیا ہے. خیر ڈی ایم میں لکھا تھا ” یا تو تم بہت ہی خوبصورت ہو یا بہت ہی گھمنڈی ” ؟ میں نے جواب میں لکھا تم ٹویٹر پر بھی میرے پیچھے آ گئی؟ تو اس نے جواب میں لکھا ” حضور فیس بک پر ٹویٹر کا لنک ہی کیوں چھوڑتے ہو” ؟؟ اس نے مجھے لا جواب کر دیا .. خیر وہاں سے تھوڑی بہت گپ شپ شروع ہوئی .. اس نے بتایا جب وہ چار سال کی تھی تو اس کے باپ کا انتقال ہو گیا اور وہ اکیلی ہی بہن تھی اس کی ماں سندھی چادروں پر کڑھائی کرتی تھی. اس کی ماں پڑھی لکھی نہیں تھی لیکن اس کی خواہش تھی کہ اس کی بیٹی پڑھے لکھے مگر وہ ایف اے کرنے کے بعد گردش ایام کی وجہ سے ہمت ہار گئی. اور اپنی ماں کے ساتھ تھوڑا بہت ہاتھ بٹانے لگی، رشتہ دار کوئی خاص نہ تھا ایک دن اس نے اپنے ایک کزن کے بارے میں سر سری سا تذکرہ کیا کہ وہ دبئی میں ہوتا ہے … خیر ہماری بات ڈی ایم سے نکل کر فون پہ ہونے لگی .. آہستہ آہستہ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویریں شیئر کیں. اور پھر تعلقات اتنے بڑھے کے ہم سکائپ پہ روزانہ ایک دوسرے کو ویڈیو کال کرنے لگے، کئی دفعہ تو ہم دن میں بارہ بارہ گھنٹے باتیں کرتے رہتے .. اس کی ماں کو بھی پتہ تھا ہماری گفت و شنید کا اور اکثر میری ان سے بھی بات ہوری رہتی .. دھیمے مزاج کی کم بولنے والی اور خوددار قسم کی خاتون تھیں وہ .. مومنہ بھی بالکل اپنی ماں کی کاپی تھی مگر وہ بولتی بہت زیادہ تھی یہ چیز اس کی ماں سے مختلف تھی . مگر خودداری میں تو وہ اپنی ماں سے بھی بڑھ کر تھی۔

میں نے کافی دفعہ اسے مالی طور پر امداد کا کہا مگر وہ نہایت غمزدہ لہجے میں مجھے انکار کر دیتی اور آئندہ ایسی آفر نہ کرنے کا کہ دیتی .. یہاں تک کہ جب اس کا پیکج ختم ہوتا تو میں اسے ٹاپ اپ کروانے کا کہتا تو وہ صاف انکار کر دیتی میں اسے سمجھاتا ارے پگلی میں اگر تمہیں کال کروں تو دس سے پندرہ یورو لگیں گے اور وہی میں تمہیں پانچ کا ٹاپ اپ کروا دوں تو مجھے کال فری میں پڑے گی .. مگر وہ کہتی جو بھی ہو صاحب میں ایسا نہیں کر سکتی .. ایک دن میں نے اس سے پوچھے بغیر پانچ یورو کا ٹاپ اپ کروا دیا .. میں نے اسے کال کی تو وہ بے اختیار رو پڑی اس کی آواز میں ایک درد تھا، اس کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے بڑی مشکل سے اس نے اپنے آنسوؤں پر قابو پایا اور مجھ سے مخاطب ہوئی ” صاحب آئندہ سے ہماری غریبی کا مزاق مت اڑانا”۔

اس کے الفاظ میرے دل کو ایک تیر کی طرح چیر کر گزر گئے اور میں اس سے بات کرنے کی ہمت نہ جمع کر پایا اور میں نے فون کاٹ دیا۔
خیر ہماری دوستی اب کسی اور رشتے میں تبدیل ہو چکی تھی ، میں اس کے بغیر ایک پل بھی جینے کا تصور بھی نہیں کر پا رہا تھا اور کئی دفعہ میں نے اس سے اظہار بھی کیا .. گھر میں چند قابل بھروسہ لوگوں سے میں بات چیت کر چکا تھا اور وہ بھی مجھے خوش نظر آتی تھی .. میں اب کراچی کی فلائٹ بک کروانے کے چکروں میں تھا پہلے اس سے اور اس کی ماں سے ملاقات کر کے پھر اپنے گھر والوں سے بات کروں گا۔

اچانک مجھے اس کا میسج آیا مجھے معاف کرنا کل میری دبئی والے کزن سے شادی ہے، میں حیران و پریشان ہو گیا میں نے کہا مذاق مت کرو اس نے کہا میں مذاق نہیں کر رہی کل تمہیں اپنی شادی کی تصویریں بھیجوں گی. اس کے بعد میں کئی میسجز کئے، فون کئے مگر کوئی جواب نہیں پھر اگلے دن شام کو تصویریں موصول ہوئیں. اسکا دبئی والا کزن مجھ سے بہت خوبصورت تھا اس لئے مجھے زیادہ دکھ نہ ہوا .. بظاھر اس پر زبردستی کرنے والا کوئی نہ تھا مگر اس نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟؟
عجب مانوس اجنبی تھا، مجھے تو حیران کر گیا وہ۔۔۔

One thought on “Manoos Ajnabi

  • October 17, 2016 at 12:14 am
    Permalink

    بہت عمدہ بہت اعلی اچھا لکھا ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *