Maar Nahin Pyar

مار نہیں پیار

ماسٹر صاحب اے میرا وڈا پُتر اے، کھچ کے رکھنا، جے نہ پڑھے یا گل نہ منے تے کھل لہا دینا میرے ولوں اجازت اے
یہ کہنا تھا ایک والد کا کلاس میں موجود استاد سے جو اپنے بچے کو سکول میں داخل کروا کر کلاس میں چھوڑنے آیا تھا۔ وہ شخص جس نے اپنے لخت جگر کو بڑے نازوں سے پالا تھا اور یقناََ بیٹے کی اچھی پڑھائی کی غرض سے اس نے یہ سب کہا ہو گا۔ عرصہ دراز تک سکولوں میں بچوں کی بہتری کے لیے ان پر تشدد ایک ضروری امر کے طور پر استعمال ہوتا رہا
جب تک کہ کچھ بیہیمانہ تشدد کی رودادیں اور کیسز رپورٹ نہیں ہوئے۔

بچوں کی تعلیم ایک ایسا موضوع جس میں ہر شخص کو دلچسپی ہوتی ہے آپ کسی فورم پر اس موضوع کو زیر بحث لائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ ہر فرقہ ہر طبقہ ہر مزہب کے لوگ نہ صرف متوجہ ہوں گے بلکہ اپنے تئیں کچھ نہ کچھ تبصرہ بھی ضرور کریں گے مگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو اس پر بہت کم لوگ عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ تعلیم وہ زیور ہے جو بچوں کی شخصیت کو نکھارتا ہے معاشرے تہزیب قانون اور رہن سہن کے بہتر طریقے سکھاتا ہے ہمارے مزہب اسلام میں ہر مرد و عورت پر تعلیم حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے یہاں تک کہ ہم خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے پیارے نبیﷺ نے معلم ہونے پر کتنا فخر محسوس کیا اور فرمایاہے۔

ہمارے ہاں تعلیم کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آج بھی ہمارے بہت سے اساتذہ مار کو بچوں کی تعلیم اور ان کے رویوں میں فوری تبدیلی لانے کے لیے ایک مفید ہتھیار ہے۔ مُرغا بنا کر ڈرا کر دھمکا کر یا سب کے سامنے سزا دے کر اساتذہ بچے کو قواعد کی پابندی اور فوری اچھے تعلیمی نتائج حاصل کرنے پر مائل تو کر سکتے ہیں پر ان کی شخصیت میں نکھار نہیں لاسکتے جو خود اعتمادی بچے کو مستقبل میں کامیابی کے زینوں پر لے جاتی ہے وہ پیدا نہیں کر سکتے ۔ ایسے تناؤ والے ماحول میں بچہ اساتذہ کے احکامات کی تعمیل تو کرتا ہے مگرگھر سے سکول کے لیے نکلنے والے بچے پھر سکول سے بھاگنے اور سکول نہ جانے کو ترجیح دیتےہیں۔ ایک ادارے “الف اعلان” کی ایک رپورٹ کے مطابق آج بھی 70 فیصد اساتذہ مار کو بچوں کی تعلیم میں بہت مفید Tool سمجھتے اور استعمال کرتےہیں۔ اس معاملےمیں اساتذہ سے کیے گئے سوالات کے جوابات اور دلائل پر ایک نظر ڈالتے ہین۔

اساتذہ کرام کا نام لینا مناسب نہیں اس لیے ان کی سوچ اور دلائل کو آپ تک پہنچا رہا ہوں۔ ایک استاد محترم سے جب یہ سوال کیا کہ مار کیوں ضروری ہے تو ان کا جواب تھا “جب آپ کو اپنی سپیشلائزیشن سے ہٹ کر کچھ پڑھانا پڑے تو بہت مشکلات پیش آتی ہیں جیسے ہم نے انگلش چھٹی جماعت سے پڑھی تھی اور اب ہمیں انگلش کی کتابیں تھما کر کہا گیا کہ پہلی جماعت سے انگلش پڑھائی جائے تو ہمیں مار کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ایک اور معلم سے جب یہ سوال پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ ایسے سکولوں میں جہاں اساتذہ کی تعداد کم ہوتی ہے یا صرف دو ہوتی ہے وہاں اگر ایک استاد کو غیر تعلیمی سرگرمیوں (الیکشن یا کسی اور ڈیوٹی) پر جانا پڑتا ہے تو پورے سکول کی ذمہ داری ایک استاد پر رہ جاتی ہے اور اتنے بچوں کوپڑھانا فرد واحد کا کام نہیں تو مار کا استعمال کرنا پڑتا ہے جس کے ڈر سے بچے پڑھتے ہیں۔
سال 2006 میں ساؤتھ ایشیا فورم فار ایجوکیشن ڈیولپمنٹ کی ایک میٹنگ میں National Child Policy پر عمل درآمد کا نعرہ لگایا گیا لیکن اگر آرٹیکل 89 آف پینل کوڈ 1860 کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس میں باقاعدہ 12 سال سے کم عمر بچوں کی فلاح کے لیے انہیں ہلکی پھلکی سزا کو قانون حیثیت حاصل ہے۔ اس قانون کے لے کر ایک اور سچا واقعہ اس تحریر کے اختتام میں آپ لوگوں کے گوش گزار کروں گا۔ جب قانون میں اس قسم کی سقم موجود ہو تو کیسے بچوں کے خلاف تشدد اور مار پیٹ کو روکا جا سکتا ہے۔ اس معاملے کو لے کر بارہا اقدامات کیے گئے مگر قانون میں تبدیلی کے بغیر اس کا سد باب کہیں ممکن نظر نہیں آتا۔

>اس امر میں 27 مارچ 2014 کو وزارت قانون و انسانی حقوق نے SAIEVAC (South Asia Initiative to End Violance Against Children) کے ساتھ مل کر اس بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کا ہر فورم پر اور قانون لحاظ سے خاتمے کا اعادہ کیا اور اس کے تحت اسلام آباد میں 5سال سے 16 سال کے بچوں کے خلاف تشدد پر سخت قانون کاروائی کو یقینی بنایا۔ سوال یہ ہے کہ قانون بن جانے کے باوجود کیا اس بچے میں اتنا حوصلہ اور سکت ہوتی ہےکہ وہ خود پر کیے گئے تشدد کی شکایت کر سکے ؟ جس بچے کو تشدد اور سزا کے خوف نے گھیرا ہو وہ کیسے اس کی شکایت یا ازالے کی درخواست کر سکتا ہے ؟ اب ایک نظر ڈالتے ہیں ان عوامل پر جو بچوں پر تشدد کے سد باب میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سکول اور اساتذہ کا کردار

بچوں کی بہتر تعلیم اور تربیت کے لیے سکول بہت اہم محرک ہے۔ یہی وہ ادارہ ہے جہاں سے بچے کی تعلیم کا مقدس فریضہ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے یہی وہ ادارہ ہے جہاں سے بچے میں معاشرتی اقدار نشوونما پاتی ہیں۔ سکول کا ماحول دوستانہ اور گھر جیسا ہو اساتذہ پیار کرنے والے اور شفقت سے پیش آنے والے ہوں تو بچوں میں سکول اور تعلیم کے لیے رغبت بڑھتی ہے ان کے اندر شوق پیدا ہوتا ہے اور اگر اس کے برعکس سکول میں بچوں کو تشدد ذلت و رسوائی ملے تو ان کی شخصیت نکھرنے کے بجائے بگڑتی ہے ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے جو کہ بچے کے مستقبل کے لیے زہر کا کام کرتی ہیں۔ سکول بچوں کے مسائل حل کرنے کے بچائے اگر ان کے مسائل میں اضافہ کرنے کا سبب بن رہی ہو تو بچوں کی تعلیم و تربیت کا حال موجودہ حالات سے مختلف نہیں ہوتا۔ اس امر میں اگر سکول میں بچوں کے مسائل کے حل اور انہیں جاننے کے لیے اساتذہ کی کمیٹی بنا دی جائے تو وہ ان مسائل کے سد باب کے لیے بہت کارگر ثابت ہوتی ہے۔

والدین کا کردار

بہت دُکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں بہت سے والدین بچوں کو سکول بھیج کر یہ سمجھتے ہیں کہ بچہ اب ڈاکٹر یا انجینئر بن کر ان کا سہارہ بنے گا ان کا نام روشن کرے گا۔ یہاں تک کے والدین بچوں کے معاملات میں خاطر خواہ دلچسپی ہی نہیں لیتے۔ جب بچے کے مسائل و معاملا ت میں والدین دلچسپی نہیں لیتے تو بچے کی شخصیت اور سوچ کیموفلاج ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کا ذہن مثبت سوچ رکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ بچوں پر تشدد کے خاتمے کے لیے والدین کو بچوں کے معاملات میں خصوصی دلچسپی لینا ہو گی جب تک آپ کو مسائل کا علم نہیں ہو گا آپ انہیں حل کیسے کریں گے۔ بچوں کے مسائل اور مشکلات کو جانیے اور اس سلسلہ میں ادارہ یا سکول سے اساتذہ سے روابط استوار کیجیے کہ ایک اور نسل نظر انداز نہ ہو جائے۔

محکمہ تعلیم کا کردار

والدین اساتذہ اور سکول کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم کا بھی بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت میں اہم کردار ہے۔ محکمہ تعلیم اگر مار نہیں پیار کا سلوگن سکولوں کے باہر لگا کر اور سکولوں میں احکامات جاری کر کے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے سد باب کے لیےاساتذہ کو تشدد کے متبادل مثبت اقدامات کی تربیت اور ٹریننگ دینا ان کے فرائض میں شامل ہے۔ سکولوں میں تشدد کے خلاف سخت کاروائی کی تنبیہہ بھی محکمہ تعلیم کا فرض ہے نہ صرف اساتذہ کی مثبت تربیت بلکہ اس تربیت پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے اسے بھی یقینی بنانا محکمہ تعلیم کی ہی ذمہ داری ہے۔ اس امر میں بہتر اقدامات کرنے اور مثبت رویے اور ماحول اپنانے والے سکولوں کو سالانہ انعامات دے کر باقی سکولوں کو بھی مثبت رویے اور ماحول اپنانے کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ سکولوں میں سزاؤں اور تشدد کے خلاف محکمہ تعلیم نے بہت کام کیا ہے مگر اس کے مکمل سد باب کے لیے والدین، اساتذہ اور محکمہ تعلیم کو مل کر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

ایک واقعہ آپ سب کے گوش گزار کر کے تحریر کو سمیٹتا ہوں۔ قریب 18 سال پہلے ایک پاکستانی نوجوان ڈاکٹر کو انگلستان میں اچھی نوکری ملی۔ اچھے روزگار اور بہتر ماحول کی سوچ لے کر وہ ڈاکٹر وہاں جا بسا ۔ اپنی بیوی اور ایک بیٹی کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگا۔ بیٹی کو بھی وہیں سے تعلیم دلوائی۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ اچانک ایک دن اس کی بیٹی اپنے ساتھ ایک سکھ نوجوان کو لے کر آئی اور کہا کہ یہ میرا کلاس فیلو ہے اور میں اس سے محبت کرتی ہوں۔ شش و پنج کا شکار والدین نے اس وقت تو کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا، مگر سکھ نوجوان کے جانے کے بعد بیٹی کو سمجھانے بجھانے کی بہت کوشش کی مگر بیٹی کسی طور اپنے فیصلے سے ہٹنے کو تیار نہ تھی۔ ڈاکٹر نے بہت کوشش کی اسلامی مثالیں دیں کہ وہ غیر مذہب ہے اس سے شادی جائز نہیں مگر بیٹی نے ایک نہ سُنی۔ چار و نا چار ڈاکٹر نے اپنی بیٹی کو کمرے میں بند کر دیا۔ 3 روز گزرنے کے بعد وہ سکھ اپنے ساتھ پولیس لے کر ڈاکٹر کے گھر پہنچھ گیا۔ ڈاکٹر نے اس وقت یہ وعدہ کر کے سکھ اور پولیس کو روانہ کیا کہ ہمیں تیاری کا موقع دیں اور ایک ہفتے بعد آکر بیٹی سے شادی کر لیں۔ سخت قوانین اور ان پر عملداری کے پیش نظر وہ سِکھ نوجوان واپس چلا گیا۔ ڈاکٹر نے اس سے اگلے دو روز میں اپنی نوکری چھوڑی محنت اور لگن سے بنایا گھر بیچا اور تیسرے دن اپنے وطن پاکستان پہنچ گیا اور ایئر پورٹ پر اترتے ہیں اپنی بیٹی کو کہا کہ اب دیکھتا ہوں کہ کیسے تم ایک غیر مذہب شخص سے شادی کرتی ہو۔ یہ پاکستان ہے انگلستان نہیں۔

One thought on “Maar Nahin Pyar

  • October 16, 2016 at 9:28 pm
    Permalink

    بہت اعلیٰ تحریر

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *