Ghareeb

انسان آخر انسان ہے۔ اسے خطا کا پُتلا یوں ہی تو نہیں کہا جاتا۔ کبھی بھول جانے کے سبب ، کبھی سمجھنے میں غلطی سے تو کبھی لاعلمی کی بنا پروہ غلطی کرتا ہی رہتا ہے۔ لیکن ایک بڑی تعداد ہماری ان غلطیاں کی ہوتی ہے جو ہم جانتے بوجھتے کرتے ہیں۔ اس کا سبب اکثر کوئی وقتی نفسانی جوش ہوتا ہے۔ کسی ساعت ناسعد میں انسان ایک بات کو غلط جانتے ہوئے بھی کر گزرتا ہے۔ آج اس سے ایسی ہی ایک غلطی ہو گئی تھی۔ اب کیا کروں؟ بار بار وہ اپنے آپ سے یہی سوال پوچھتا تھا۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا اور وقت کا پہیہ واپس گھومنے والا نہ تھا۔ گناہ پر احساس شرم و ندامت نے اسے ہر طرف سے آن گھیرا۔ خدا تعالیٰ کا رعب دل میں خیمہ زن ہوا تو خوف و پریشانی کی کچھ ایسی حالت اس پر طاری ہوئی کہ اس نے جانا کہ وہ گویا آگ میں ڈال دیا گیا ہے۔ تب بلا اختیار اور دیوانہ وار وہ اپنے آقا کی طرف دوڑا۔

اس کا آقا ایسا ہی تھا۔ لوگ ہر ایک دینی و دنیاوی مصیبت اور پریشانی میں بھاگ بھاگ کر اس کے پاس جاتے اپنے غم اور مشکلات کا بوجھ اس کے سامنے ہلکا کرتے اور پھر مطمئن ہو جاتے۔ وہ جانتے تھے کہ اب ان سے ذیادہ وہ ان کی فکر کرے گا۔ وہ عجیب آقا تھا۔ رات کی تنہائیوں میں وہ سب سے چھپ کر، کبھی اپنے حجرے کا در بند کر کے، کبھی کسی قبرستان کے سناٹے میں، کبھی کسی خاموش ویرانے میں وہ اپنے رب کے سامنے حاضر ہوتا تھا۔ ہر رات محبت کی اس لازوال داستان کا ایک نیا باب رقم کیا جاتا ۔ ایک نئے انداز میں وہ بندگی و فدائیت کا اظہار کرتا اور ایک نئے انداز میں اسے قبول کیا جاتا۔ محبت و وفا کے پاک چشمے اس کے دل سے پھوٹنے لگتے اور وہ قصہ دل کو دراز کرتا چلا جاتا۔ راز و نیاز کے ان مقدس لمحات میں، جب وہ آرام کر رہے ہوتے تھے، وہ ان کے لئے تڑپا کرتا۔ اپنے رب کے حضور اس کی وہ عاجزانہ درخواستیں اور سفارشیں، ان کی خاطر اس کی دردناک آہ و زاریاں ،ان کے لئے اس کا یوں قطرہ قطرہ پگھلنا ، قبول کیا جاتا اور ان کی دینی و دنیاوی مشکلات کے دور ہونے کا موجب ہوتا۔

اس پریشانی اور تکلیف کی حالت میں وہ اِس شہنشاہ دو عالم کے دربار میں حاضر ہوا جس کا نہ تاج تھا نہ کوئی تخت، نہ محل نہ ہی کوئی دربان۔ بلا تکلف اور بے دھڑک غلام اس کے حضور آتے اور قرار دل و سکون جاں پاتے ۔ حضور ﷺ اس وقت مقدس صحابہ کے درمیان تشریف رکھتے تھے۔ نہ معلوم علم و حکمت کے کون سے موتی اس وقت بانٹے جا رہے تھے۔ اس کی پریشانی اور بے چینی اب حد سے سوا تھی۔ جاتے ہی درد ِدل و با صد افسوس عرض کیا حضور میں تو جل گیا۔ آپ ﷺ تو پرندوں اور جانوروں کی تکلیف پر بے چین ہو کر دادرسی فرمانے والے تھے وہ تو پھر ایک مخلص غلام تھا۔ فورا توجہ فرمائی اور دریافت فرمایا کیا ہوا؟ اس نے عرض کیا کہ روزہ توڑ بیٹھا ہوں۔ فرمایا کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ وہ غریب بھلا غلام کہاں سے آزاد کرتا؟ عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا کیا تم دو ماہ مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ کہنے لگا حضور پہلے روزہ ہی کا تقاضہ پورا نہ کر سکنے سے ہی تو یہ مصیبت مجھ پر آئی دو ماہ مسلسل روزے رکھنے کی طاقت نہیں پاتا۔ فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ عرض کیا نہیں اس کی بھی استطاعت نہیں۔ آپ ﷺ نے اب سکوت فرمایا۔ وہ ایک جانب بیٹھ کر اپنے معاملہ کے فیصلہ کا انتظار کرنے لگا۔ انتظار کی یہ گھڑیاں اس کے لئے کس قدر سخت تھیں، یہ تو وہ ہی جانتا تھا لیکن اس کی آواز میں موجود درد ،اس کے چہرے کے تائثرات ، صاف اس کے دل کی کتھا سنا رہے تھے۔ حضور ﷺ کی خاموشی بلا وجہ نہ تھی ۔ دعا ، جو تقدیروں کو بدل سکتی ہے، کا خاموش سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔

آنحضور ﷺ کی ہر حرکت و سکون میں ایک عجیب نورِ فراست پایا جاتا ہے۔ اسی لئے آپ کے فیصلے عام منصفوں اور قاضیوں سے یکسر مختلف واقع ہوئے ہیں۔ ان پر غور کرنے سے حکمت کے چشموں تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ شریعت کے آپ ﷺ ہی پاسبان تھے۔ شرعی تقاضہ کے مطابق ایک کے بعد ایک امر کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ دوسری طرف اس کی حالت آپ ﷺ خوب پہچانتے تھے، تب ہی تو سوالیہ انداز میںبار بار فرماتے جاتے کہ کیا اس بات کی استطاعت ہے؟ اس بات کی استطاعت ہے؟ یوں نہیں کہ آپﷺ فرماتے اس غلطی کی یہ سزا ہے اور پھر وہ عرض کرتا کہ حضور اس کی استطاعت نہیں تو آپ ﷺ دوسری سزا بیان فرماتے۔ شریعت اسلامی کی اصل غرض و غایت انسان کی اصلاح ہے نہ کہ ایذا دہی۔ شرعی قوانین کی پابندی تو بہر حال لازم ہے لیکن شریعت کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے اور اصلاح کو مد نظر رکھتے ہوئے جس حد تک نرمی کی گنجائش ہوتی، آپ ﷺ ہمیشہ اس کی جانب راغب ہوتے۔

غریب آدمی تواب اطمنان سے خاموش بیٹھا تھا جبکہ آپ ﷺ اس کے لئے فکر مند تھے۔اور کیوں نہ ہوتے؟ یہی آپ ﷺ کی سرشت تھی۔لعلک باخ نفسک کی گواہی آپ ﷺ ہی کے لئے تو دی گئی تھی۔ درحقیقت اگر قاضی مجرم کے لئے سچی اور دلی ہمدردی رکھتا ہو، جو اس کے لئے دعا میں بھی ڈھلے، تو یہ امر مجرم کی اصلاح کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ وگرنہ سزا کئی دفعہ اصلاح کی بجائے غصہ اور بغاوت پر اُکسانے کا موجب ہو جاتی ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ چھوٹے بچے ماں کی ڈانٹ سن کر پھر اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں کیونکہ ان کی فطرت پہچانتی ہے کہ اِس کی ڈانٹ درحقیقت پیار کا ایک سمندر اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

قانونی تقاضہ پورا کرنا لازم تھا اور یہ بھی ظاہر کہ اس غریب کو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی استطاعت نہیں۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ دعائیں رنگ لائیں اور ایک شخص گدھے پر کھجوروں کے دو ٹوکرے لئے حاضر ہوا۔آپ ﷺ نے فرمایا وہ جلنے والا کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا حضور حاضر ہوں۔ فرمایا جائو یہ کھجوریں مساکین کو کھلا دو۔ اب اس کے ہوش ٹھکانے آئے۔ خوف اور پریشانی کم ہوئے تو اسے اٹھکیلیاں کرنے کی سوجھی۔ عرض کیا کہ کیا اپنے سے بھی ذیادہ غریبوں کو کھلائوں؟ بخدا اِن پہاڑوں کے بیچ میرےگھر سے ذیادہ غریب گھر کوئی نہ ہو گا۔ کہاں تو وہ حالتِ ندامت و پشیمانی کہ آگ میں جلا جا رہا تھا اور کہاں یہ بےباکیاں۔ آپ ﷺ خوب جانتے تھے کہ یہ ناز و پیار آپ ﷺ کے ساتھ ہی مخصوص ہیں۔ مادر مہربان کی طرح اُس کی بات پر آپ ﷺ پیار سے مسکرانے لگے ۔ اِس قدر تبسم فرمایا کہ دندان مبارک ہویدا ہو گئے۔ فرمایا اچھا جائو اپنے اہل و عیال کو ہی کھلائو۔ آیا تو وہ اپنے گناہ کی سزا پانے تھا لیکن ساٹھ آدمیوں کا کھانا ساتھ لئے خوشی خوشی گھر سدھارا۔ الھم صلی علیٰ محمد و علیٰ آل محمد۔

اس واقعہ سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ گویا غرباء کو روزہ توڑنے کی چھوٹ مل گئی ہے۔ اس غریب شخص نے درحقیقت اپنی غلطی سے توبہ کر لی تھی۔ غلطی کا نتیجہ اس کے لئے اس طرح عیاں تھا کہ اُس نے عرض کیا تھا کہ حضور میں تو جل گیا۔یہ نہ کہا کہ مجھ سےغلطی یا گناہ سرزد ہو گیا ہے۔ عذر ، بہانے ترک کر کے وہ اپنے قصور کا اقراری تھا۔ اس پر ندامت اور پریشانی اتنی کہ خودکو آگ میں دیکھتا تھا۔ آپ ﷺ بھی اُس کی اس حالت کو جانتے تھے اسی لئے فرمایا وہ جلنے والا کہاں ہے؟ نہ یہ کہ روزہ توڑنے والا کہاں ہے؟ غربت کے باوجود ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی سزا شرعی قانون کے عین مطابق دی گئی۔ البتہ آپ ﷺ نے یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ اصلاح پذیر ہے اور امداد کا حق دار، اس سزا کے پورا کرنے میں اس کی مدد فرمائی۔

مآخذ

بخاری، صحیح، کتاب الصوم، باب اذا جامع فی رمضان، مطبوعہ دار ابن کثیر، دمشق، سوریا، ۲۰۰۲۔

ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، کتاب الصوم، جلد ۵ صفحہ ۳۰۹، مطبوعہ دار الطیبۃ،ریاض، سعودیہ، ۲۰۰۵۔

مسلم، صحیح، کتاب الصیام، باب تغلیظ تحریم الجماع فی نہار رمضان علیٰ الصائم، مطبوعہ دارالمغنی، ریاض، سعودیہ، ۱۹۹۸۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.