Cyril

معاملے کا سرا کہاں سے شروع ہوتا ہے یہ الجھن سلجھانے میں مکمل ناکامی کے بعد گڈ مڈ یاداشت کو کھنگالنے بیٹھوں تو دسمبر 1981ء میں آمریت کے دور میں لایا گیا آرڈیننس بتاتا ہے کہ کون سی وجوہات کی بنا پر آپ ایگزٹ فرام پاکستان (کنٹرول) لسٹ میں نام درج کروا سکتے ہیں 1: کرپشن ، طاقت کا غلط استعمال ،حکومتی فنڈز یا پراپرٹی کو نقصان پہنچانے والا 2: حکومتی ملازم جو معاشی بدعنوانی میں ملوث ہو 3: دھشتگردی یا سازش میں ملوث مجرم 4: دس ملین یا اس سے زیادہ کے ٹیکس نادھندگان 5:وہ لوگ جن کے بارے رجسٹرار، ہائی کورٹ /سپریم کورٹ اور بینکنگ کورٹس حکم دیں 6: منشیات فروش اب ڈان نیوز سے وابستہ سئرل المیڈا ان میں سے کون سے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں وہ سمجھنے کے لیے اس ہفتے میں پیش آنے والے واقعات وحالات کے علاوہ ان کی نیوز اسٹوریز کو جانچنا پڑے گا۔لیکن اس سے پہلے رواں برس ستمبر کے درمیانی ہفتے میں وزیرِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ای۔سی۔ایل کی نئی پالیسی کا بیان بھی یاد کرلیجیےگا۔ جِس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئیندہ صرف عسکری و انٹیلیجنس اداروں اور عدلیہ کے احکامات پر کسی شخص کو ای۔سی۔ایل میں ڈالا جائے گا اور مذکورہ شخص کو باقاعدہ نوٹس کے ذریعے اطلاع دی جائے گی۔لیکن اس سے پہلے 18 اگست 2016ء کو جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ ہم سب کیوں بھول رہے ہیں ؟ گابا پروپرائٹرز و دیگر بنام حکومتِ پاکستان ۔۔۔ فیصلے میں وفاق، وفاقی حکومت اور اس کی ایگزیکٹو اتھارٹی کی توضیح کی گئی۔ وفاقی حکومت کو کیبنٹ کے اجتماعی وجود کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔جو کہ وزیرِاعظم اور وفاقی وزراء کے ساتھ قیام میں آتی ہے۔ کیبنٹ کی مشاورت کے بنا جاری کیا گیا کوئی بھی آرڈینینس غیرقانونی ہوگا۔اس سلسلے میں کوئی ایک وزیر یا صرف وزیرِ اعظم انفرادی حیثیت میں کسی قسم کا ایکشن لیں گے تو وہ اختیارات سے تجاوز قرار دیا جائے گا۔

سئرل کے کیس میں وزیرِ داخلہ نے (مبینہ طور پر) اکیلے ہی فیصلہ کیا جو کہ ایگزٹ فرام پاکستان (کنٹرول) آرڈینینس 1981ء کے سیکشن 2 کے مطابق وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔۔۔ جی ہاں وفاقی حکومت جِس کی تشریح سپریم کورٹ نے رواں برس اگست کے مہینے میں کی ہے۔ گستاخی معاف جنابِ والا آپ نے یہ حکم انفرادی حیثیت میں صادر فرما کر نہ صرف غیر قانونی کام کیا ہے بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔یا پھر بتایے کہ کِس انٹیلیجنس ادارے نے سفارش کی ہے ای۔سی۔ایل کی اور کونسی بنیادوں پر؟ 6 اکتوبر کی صبح ڈان اخبار میں محترم سئرل ا لمیڈا کی ایک نیوز سٹوری نے ایسا پریشان کیا ہے کہ اب تک چار دفعہ تردید اور “سخت نوٹس” کے منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر اس خبر میں ایسا کیا نیا تھا جو اتنا شور ہے؟ دو ملاقاتیں ؟ بین الاقوامی سطح پر بڑھتی تنہائی نئی خبر تھی ؟ صوبائی ایپکس کمیٹیوں اور آئی۔ایس۔آئی سیکٹر کمانڈرز کے لیے پیغام لے کر جانا ؟ اگر انکار ہے تو کیا ڈی۔جی رضوان اختر صاحب نے بین الصوبائی دوروں کے پہلے مرحلے پر رپورٹ کے مطابق لاہور کا دورہ نہیں کیا؟ ہم کیا واقعی اتنے معصوم ہیں کہ ایک زمانے تک اثاثوں کے نام پر پالے جانے والوں کے نام اور ریاستی پالیسی کے نام پر کفالت کرنے والوں کو نہیں جانتے؟ فارن سیکرٹری کی پریزنٹیشن کے دونوں نکات سے انکار ہے جو امریکہ سے تعلقات میں بگاڑ کی وجہ حقانی نیٹ ورک اور بھارت سے معاملات کے متعلق پٹھانکوٹ حملہ کی تحقیقات میں جیشِ محمد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ؟ کون نہیں جانتا کہ بین الاقوامی سطح سے پاکستان پر مسعود اظہر ، حافظ سعید، جیش محمد، لشکرِ طیبہ اور حقانی نیٹ کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کا کِس قدر دباؤ ہے۔اچھا تو پھر ایسا کیا انوکھا بیان کر بیٹھا سئرل جو کہ بقول محبانِ وطن سول-ملٹری قیادت کو لڑوانے کی سازش ہے ؟ جب ڈی۔جی آئی۔ایس۔آئی نے کہا کہ جِس کے خلاف مرضی کاروائی کیجیے۔تو شاید طبعِ نازک پر گراں گزرنے والی سطور وہ ہیں جن میں وزیرِاعلیٰ پنجاب کی تلخ لہجہ بیان کیا گیا ہے۔یا پھر وہ الفاظ کہ سول ادارے جب کاروائی کرتے ہیں تو سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ان کی رہائی میں کردار ادا کردیتی ہے۔

ویسے شہباز شریف صاحب کا ٹریک ریکارڈ دیکھا جائے تو ان کی شعلہ بیانی عوامی اجتماعات ہی کی رونق ہوا کرتی ہے۔بوائز سے تعلقات کی خرابی وہ اور ہمارے چوہدری نثار صاحب ایک حد سے زیادہ بڑھنے نہیں دیتے۔تو پھر اعتراض یا تردید کِس بات کی ہے ؟ اس کاروائی کے مطالبے اور عمل کی ٹائمنگ کا مسئلہ درپیش ہے کیا ؟ جی ہاں یہ امپریشن اچھا نہیں جاتا۔اس کی تو ٹھیک ٹھاک تردید بلکہ درگت بننی چاہیے۔ سوال تو اب یہ بھی ہے کہ چین کو مسعود اظہر میں کیا جانثاری بھا رہی ہے ؟ اس بارے سوال کی اجازت ہوگی اور نہ ہی مستقبل میں ریاستی پالیسی بتائے جانے کا امکان ہے۔ جبکہ سوچنا تو یہ بھی چاہتی ہوں کہ کچھ روز حکومتی ایم۔این۔اے رانا محمد افضل نے جو الفاظ حافظ سعید کے لیے استعمال کیے ان پر کوئی اظہارِ لاتعلقی یا تردید کیوں نہیں آئی۔ کیا وہ بیان انفرادی حیثیت میں دے دیا گیا؟ نا کریں جناب۔یہ 2016ء ہے اور آپ کا دعویٰ ہے کہ وطنِ عزیز میں اب جمہوریت ہوا کرتی ہے۔ ایک رپورٹر یا صحافی کا کام خبر نکلوانا اور مؤثر اسلوب سے عوام تک پہنچانا ہوتا ہے۔ذرائع اس کی اولاد کی مانند ہوتے ہیں۔وہ اس کی حفاظت آخری دم تک کرے گا۔آپ لاکھ پوچھتے رہیے پتہ نہیں بتائے گا۔یا تو کہہ دیجیے کہ گُڈ طالبان بیڈ طالبان کی طرح اب حلال سورسز ، حرام سورسز کا رواج ہے عسکری ادارے اور حکومت کیا چاہتے ہں کہ جو وہ بتائیں بس وہی خبر بنا کر لگادی جائے ؟ صحافی اور صحافت ان کے تعینات کردہ ڈاکیے ہیں کہ عوام تک ان کا من بھاتا پیغام پہنچاتے رہیں ؟ کبھی لادن کے انٹرویوز کے لیے صحافیوں کا انتخاب کیا گیا تو کبھی ایبٹ آباد ہوجائے تو پرائم ٹائم میں ہونے والے کچھ شوز حلال سورسز کی ٹِپ پر اجتماعی ذہن سازی کرتے رہے۔بھارتی رپورٹر کو ریاستی مقصد کے تحت ڈاکٹر قدیر کا انٹرویو بھی جائز۔دھرنا 2014ء کے دوران ٹی۔وی سکرینوں پر وٹس ایپ ذرائع صحافت کی ہیجان خیزی آزادئ اظہار۔آیان علی پر حاملہ ہونے کی تہمت اور اس سلسلے میں سابق صدر پر کیچڑ اچھالنے پر بھی کوئی کاروائی نہیں۔اقتصادی راہداری کو متنازعہ بنا کر اجتماعی ذہن سازی کرنے والے بھی آزاد۔ حیرت تو یہ بھی ہے کہ نو اکتوبر کو ڈان اخبار میں سئرل المیڈا کی دوسری تحریر پر قطعاً خاموشی اختیار کی گئی ہے۔جب کہ وہ گستاخیوں سے بھری سٹوری تھی۔ جس میں خارجہ پالیسی کو چھیننے سے لے کر افغانستان،ایران اور بھارت کے ساتھ محاذ کھول کر “شاندار” کامیابیاں سمیٹنے کا تذکرہ بھی تھا۔

سئرل المیڈا ہماری مانیں تو چھوڑیں اس بحث کو بھی اور بس پرویز مشرف سے فوری رابطہ کرکے ای۔سی۔ایل سے جُڑے رموز و اوقاف سمجھ لیں کیونکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ نطر بندی بھی پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔ واللہ العلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *