Pakistan Ka Elon Musk

پاکستان کا ایلون مسک

‏سلام کے بعد گفتگو شروع کرنے سے پیشتر ہی وہ ایک لحظے کو رکا، اپنے سفید کاٹن کے کلف شدہ سوٹ کی آستینیں جو کہنیوں تک اوپر چڑھائی ہوئی تھیں، کھول کر برابر کیا، بٹن بند کیے اور میری طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا۔ میں نے تشریف رکھنے کا کہا تو ایک دم چونکڑی مار کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ پھر اُس نے زور سے اپنا ناک سُنڑکا اور ناک سے نکلنے والے مواد کو آستین سے صاف کیا، آستین کو قمیض کے دامن سے پونچھا اور دامن کو شلوار سے رگڑ کر صاف کرتے ہوئے بولا، “چودری ساب! آپ کو پتہ ہے، میری ترقی کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟” پھر میرے جواب کا انتظار کیے بغیر بولنے لگا، “میری ترقی کی سب سے بڑی وجہ ریشہ اور آپ ہیں۔”

یہ شخص جو میرے سامنے بیٹھا تھا، اس کے وزٹینگ کارڈ کہ مطابق یہ ہمارے ملک کا ایلون مسک ہے۔ یہ لکڑی کی ریڑھی میں آگ جلا کر چھلیاں بھوننے کی تکنیک کا موجد ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے گٹر کے پانی سے چکنائی اکٹھی کر کے صابن بنانے کا طریقہ نکالا۔ یہ اُلٹیوں کو سیدھا کرنے کی دوائی بنانے والی کمپنی کا بانی ہے۔ یہ وہ ذہین شخص ہے جس نے قدرتی طریقے سے خالص لال مرچوں کے استعمال سے سفر کی جدید ترین ترکیب نکالی ہے جس نے صرف گاڑی اور پٹرول کا خرچ بچتا ہے بلکہ وقت کی بچت بھی بےاندازہ ہوتی ہے۔ آجکل یہ جن منصوبوں پر کام کر رہا ہے اگر وہ منصوبے مکمل ہو گئے تو انسانیت کی تقدیر بدل جائے گی۔
یہ فطرت کو تسخیر کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ اس کا جدید پلان *سٹیم سیل سسٹم پر تحقیق کر کے جینز میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرنا ہیں، جن سے منفی جذبات دب جائیں اور مثبت جذبات ابھر کر سامنے آئیں۔ یہ تحقیق کافی پیشرفت کر چکی ہے۔ اس سلسلے میں ابھی چوہوں اور بلیوں پر تجربات جاری ہیں۔ یہ شخص میرے سامنے بیٹھ کر بھی اپنی تحقیق جاری رکھے ہوئے تھا اور مسلسل آنکھ کی بلیوں کو ناک کے چوہوں کے ساتھ مکس کر کے تجزیہ کر رہا تھا۔
یہ بائیو کیمیکل سائینس میں اعلٰی درجے کا ماہر ہے۔ اس نے سو فیصد قدرتی طریقے سے گیس کی تیاری کا منصوبہ حکومت کو پیش کیا مگر وہ نوکر شاہی کے سرخ فیتوں کی نظر ہو گیا۔ اس طریقے کی بنیاد عوام میں شعور پیدا کرنا تھا کہ اگر وہ مولی والے پراٹھے اور چنے کی دال بکثرت استعمال کریں تو ملک سے گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو سکتی ہے۔ یہ اتنا جینئیس ہے کہ اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ اگر اس طریقے میں سبز مرچ کو شامل کر لیا جائے تو ملک میں ایل پی جی کی قلت بھی دور ہو سکتی ہے۔
یہ اپنی بات جاری رکھتے ہوا بولا، “چودری ساب! چاء منگوائیں۔ آپ کے دفتر کی چاء سے جو عِلَم ملتا ہے، اس سے میرے دماغ کی بتیاں بَل پڑتی ہیں۔” چائے آئی تو اس نے بہت سلیقے سے چائے بنائی۔ پہلا گھونٹ لینے لگا تو اس کے ناک سے ریشہ بہہ کر کپ میں گر گیا۔ اس نے کپ رکھا، تحمل سے کپ سے ریشہ نکالا اور میرے کپ میں ڈال دیا اور بولا، چودری ساب، میری ترقی کی وجہ یہی ریشہ ہے۔ آپ بھی ٹرائے کریں۔ میں نے پہلا سپ لیا تو مجھے ایک دم بچپن یاد آ گیا۔ وہی دیسی ذائقے۔ ایک دم شدید کھانسی آئی، ساتھ پڑی ٹوکری میں کھنگار پھینکنے لگا تو یہ فوراً مجھے کہنے لگا، چودری ساب! **ڈونٹ سپِٹ، سویلو میں نے دل کڑا کر کھنگار نگلا تو اس نمکو کا ذائقہ آیا، جو پرسوں رات ایک بڑے بزنس مین کا انٹرویو کرنے کے بعد اس کی پارٹی میں مشروب کے ساتھ کھائی تھی۔
اچانک اس کے فون کی گھنٹی بجی، اس نے نمبر دیکھا اور اٹھتے ہوئے بولا، چودری ساب میں پھر حاضر ہوں گا۔
اس کے جانے کے بعد میرے ذہن میں فوراً ایک بزنس آئیڈیا آیا اور میں واش روم کی طرف بڑھ گیا۔

*Stem Cell System
**Don’t Spit, Swallow.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *