Insafi Syasat se Nafrat Kyoon?

کچھ دن پہلے وٹس ایپ پر کسی نے ایک جذباتی بیانیہ فارورڈ کیا جس میں کسی نے نہایت محنت سے عمران خان کے اس قوم پر احسانات گنوائے جو کہ وہ تمام کام تھے جو خان صاحب بیس سال پہلے کر سکتے تھے مگر انہوں نے اس قوم پر ترس کھاتے ہوئے کرنے سے ‘بوجوہ’ گریز کیا۔
پڑھ کر دل جذبات سے بوجھل ہو گیا اس سے پہلے کہ آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑتے، عقل نے دماغ پر دستک دی اور یاد دلایا کہ ہماری عمران خان نیازی سے الفت یا اسکی سیاست سے نفرت کا تعلق ماضی سے ہے ہی نہیں. بلکہ ہمارا شعور ہمیں وہ تمام حرکات دیکھتے ہوئے انکی حمایت سے گریز پر مجبور کرتا ہے جو یہ پچھلے آٹھ نو سال سے مسلسل کرتے آ رہے ہیں۔
مگر اس سے پہلے کہ میں ان اعتراضات کا ذکر کروں، پہلے ان عظیم احسانات پر ایک نظر ہو جائے جن کی محرومی کی وجہ سے ایک محدود طبقے کا خیال ہے کہ اسکے عوض خان صاحب کو وزارتِ عظمٰی تھالی میں رکھ کر پیش کر دی جائے۔
فنانشل کرپشن – یہ وہ تمغہ ہے جسے ہر انصافی اپنے بیس انچ کے سینے کو پھلا کر چالیس انچ تک لا کر سجانے کی کوشش کرتا ہے. مگر ہمارا کہنا یہ ہے کہ کسی بھی انسان کے کردار کو پرکھنے کا بہترین وقت وہ ہوتا ہے جب وہ سب کچھ کر گزرنے کا ملکہ رکھتا ہو اور اس وقت وہ نہ کرے. جب شہرت حاصل ہوئی تو کیا خان صاحب نے اس شہرت کا دبا کر ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا؟ ایما سارجنٹ، پروین بابی سے لے کر سیٹا وہائیٹ اور جمائمہ خان تک کیا ان سکینڈلز کی زد میں نہیں رہیں؟ کیا اسی ناجائز فائدہ اٹھانے کا ایک نتیجہ ٹیرن وہائیٹ نہیں؟ کیا یہ ایک حقیقت نہیں کہ خان صاحب کو جب موقع ملا آپ نے جائز و ناجائز فائدہ اٹھایا؟
کیا یہ حقیقت نہیں کہ خان صاحب کو اب تک پبلک فنڈز صرف شوکت خانم کی صورت میں ہینڈل کرنے کا موقع ملا یا جیو کی سیلاب زدگان کیلئے کی گئی لائیو میراتھان میں، کیا شوکت خانم کے فنانشل معاملات پر سوالات نہیں ہیں؟ کیا شوکت خانم کی آڈٹ رپورٹ کلئیر آ ئی ہے؟

کیا خان صاحب آج تک بتا پائے کہ جیو کی لائیو ٹرانسمشن میں اکٹھا کیا گیا اربوں روپیہ کہاں گیا؟
کیا خان صاحب آج تک امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے اکٹھا کیا گیا تین ملین ڈالر کا حساب دینے پر رضامند ہوئے؟
خان صاحب کی ہمشیرہ محترمہ علیمہ خان کا خان صاحب ہی کی طرح بظاہر کوئی ذریعہ روزگار نہیں مگر انکے دبئی میں اکاؤنٹس کیوں اور کیسے بن گئے؟
کیا خان صاحب نے مشرف دور میں بلیک منی کو وہائیٹ کرنے کیلئیے ایمینسٹی سکیم کا سہارا نہیں لیا؟
اگر آپ عقیدت میں اندھے نہیں ہیں تو ان سوالات کا جواب ملنے تک فنانشل کلئیرنس کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے گریز کریں گے۔

تعلیم– خان صاحب کو ہمیشہ آکسفورڈ گریجوایٹ کہا جاتا ہے، مگر یہ تو خان صاحب بھی مانتے ہیں کہ آپکو آکسفورڈ میں داخلہ کرکٹ کی بنیاد پر ملا تھا، اس دوران آپ نے کیا تعلیمی کارنامے انجام دئیے یا کیا ریسرچ کی؟ مؤرخ اس بارے میں خاموش ہے۔

کرکٹ – تیسرا سب سے بڑا کارنامہ کرکٹ گردانا جاتا ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کرکٹ کے حوالے سے خدا نے آپکو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے. مگر کیا جتنا عرصہ آپ نے کرکٹ کھیلی کیا وہ صاف ستھرے طریقے سے کھیلی؟ کیا آپ کے انتہائی باصلاحیت کزن ماجد خان جو کہ آپ کو ٹیم میں لے کر بھی آئے ان سے احسان فراموشی کرتے ہوئے انکو ٹیم سے باہر کرنے کا باعث نہیں بنے؟

کیا آپ نے اپنی سوانح حیات میں بال کو کھرچ کر ٹیمپرنگ کرنے کا اعتراف نہیں کیا؟

کیا آپ ہی کے ٹیم کے ساتھی قاسم عمر نے حلفاً آپ پر منشیات کو کرکٹ پیڈز میں چھپا کر لیجانے کا الزام نہیں لگایا جس کی آپ نے کبھی تحقیقات کا سامنا نہیں کیا بلکہ قاسم عمر کا کرکٹ کیرئیر ختم کر ڈالا؟

کیا بانوے کا ورلڈ کپ آپ کا ذاتی کارنامہ تھا؟ اگر یہ آپکی لیڈرشپ کا شاخسانہ تھا تو شروع کے تمام کے تمام گروپ میچ کیوں ہارے گئے؟ اگر یہ ٹیم ورک تھا تو آج چوبیس سال بعد بھی اسکا کریڈٹ تنہا کیوں کلیم کرتے ہیں؟

پیسے اور عیش و عشرت سے بے رغبتی – یہ وہ خصوصیت ہے جس کا اکثر انصافی خواتین و حضرات بڑی رقت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں کہ پیسے کا لالچ ہوتا تو آپ یہ کر سکتے تھے وہ کر سکتے تھے وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے یہاں بھی چند بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات دے کر ہمیں مطمئن کر سکتے ہیں. انیس سو چھیانوے میں جب آپکی شادی ہوئی تو پاکستان کی آبادی تقریباً بارہ کروڑ تھی، اس بارہ کروڑ آبادی میں سے آپکو اپنے لئیے شریک حیات نہ مل سکی اور آپکو والدہ کی وصیت کے برخلاف مجبوراً ایک یہودی لارڈ جیمز گولڈ سمتھ کی برخوداری میں جانا پڑا، آخر کیوں؟
نوے کی دہائی کے آخر تک اخبارات میں آپکی لارڈ جیمز گولڈ سمتھ سے خصوصی ملاقاتیں اور دولت کے منتقل ہونے کی خبریں آتی رہیں جس کی آپ نے کبھی تردید نہیں فرمائی، کیوں؟
اگر آپ واقعی پیسے اور دولت سے بے نیاز ہیں تو جہانگیر ترین اور علیم خان کی جگہ سوات کا درزی آپ کی مصاحبتی میں کیوں نہیں؟

آج کے دور میں کوئی کسی کو مفت لقمہ تک نہیں دیتا، جن لوگوں کے اربوں روپے آپ اپنی سیاست کی نذر کر رہے ہیں انکو کیسے جسٹیفائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

اگر پیسے کا لالچ نہیں ہے تو کیا وجہ ہے کہ جسٹس وجیہہ الدین، جاوید ہاشمی اور برگیڈئیر جاوید اقبال جیسے بے داغ ماضی کے لوگ آپ نے باہر نکال کر علیم خان، جہانگیر ترین اور زلفی بخاری جیسے لوگ بھرتی کر لئیے؟

حب الوطنی– باوجود اسکے اور آپکی عادت کے بر خلاف ہم آپکی حب الوطنی پر شک نہیں کرتے مگر کیا آپ ٹیکس نہ دینے کی اپیل کر کے اور ہنڈی کے استعمال کی تلقین کر کے اسی وطن کو نقصان پہنچانے کے زمہ دار نہیں؟

کیا تمام تر حب الوطنی کے دعوے کے باوجود آپ اسی ملک کے اداروں کے ٹکراو کے خواہاں نہیں ہیں جس کا آپ برملا اظہار بھی کرتے ہیں؟

کیا آپ بھارت جیسی جگہ جا کر اپنے ہی ملک کی فوج کے خلاف بولنے اور اسے قتل عام کا ذمہ دار قرار دینے کے مرتکب نہیں ہوئے جس کی ویڈیوز یو ٹیوب اور محب وطن عوام کے موبائلز اور کمپیوٹرز میں ہمیشہ کیلئیے محفوظ ہیں؟

کیا شہرون کو بند کرنے کی کوششوں سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کا باعث نہیں بن رہے، جس کا نقصان کسی کی ذات سے زیادہ ملک کو ہو رہا ہے؟

کیا آپ نے نئی نسل کے نوجوانوں کی سیاسی تربیت سے جان بوجھ کر صرف نظر کر کے انہیں صرف اور صرف ذاتی مقاصد کیلئیے پر تشدد سوچ اورغلیظ زبان سے بہرہ ور نہیں کیا؟ کیا فاشزم کی یہی کتابی تعریف نہیں ہے؟

کیا آپ ملکی اداروں کو مسلسل اور جان بوجھ کر بے توقیر کرنے اور عوام میں شعور کے نام پر ان اداروں پر بے اعتمادی نہیں پیدا کر رہے جبکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کے پاس ان اداروں کا کچھ متبادل نہیں ہے؟

یہ تھے چیدہ چیدہ سوالات جن کے جوابات ضروری ہیں اب اس سوال کا جواب کہ ہم عمران خان صاحب کے تبدیلی انقلاب مہم کے ہم رکاب کیوں نہیں ہیں؟ ہم تہہ دل سے سمجھتے ہیں کہ خان صاحب بالخصوص عمر کے اس حصے میں آ کر ایک کمزور زہن، غیر مستقل مزاج، فیصلہ سازی کی اہلیت سے عاری، ضدی بچے، اکھڑ مزاج بُڈھے، غیر ضروری خود اعتمادی کا شکار، خود پسند، عقلِ کُل، منفی زہن کے حامل، غیر حقیقت پسندی اور ناسٹیلجیا کا شکار ایک ایسے فرسٹریٹڈ انسان ہیں جس کو اپنے آپ کا گڑھے میں گرنے کا احساس تک نہیں ہے۔
عقیدت کی عینک اتار کر دیکھئیے تو آپ کو احساس ہو جائے گا کہ ملک کی باگ دوڑ ایسی بچگانہ طبیعت کے مالک کے سپرد نہیں کی جا سکتی. خیال ہے کہ یہ بات ان کو بھی باور ہو چکی ہے جو خان صاحب کو اس حالت تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔

7 thoughts on “Insafi Syasat se Nafrat Kyoon?

  • October 3, 2016 at 10:45 am
    Permalink

    بہت شاندار سوالنامہ ہے – مسئلہ مگر یہ ہے کہ خان صاحب دیوتا ہیں اور ووٹر انکے داس ہیں – جب معاملہ عقیدت کا ہو تو عقل پچھلے دروازے سے رخصت لے لیتی ہے

    Reply
  • October 3, 2016 at 11:06 am
    Permalink

    بہت شاندار سوالنامہ ہے ایک ایسا ہی سوالنامہ میاں ساب کے بارے میں بھی لکھ دیجیے میں بڑا مشکور ہوں گا

    Reply
  • October 3, 2016 at 11:29 am
    Permalink

    نہایت شاندار ایک سچی تحریر

    Reply
  • October 3, 2016 at 4:23 pm
    Permalink

    بھائی صاحب بہت خوبصورت انداز میں اس دیوتا نما لیڈر کا آپ ظاہر و باطن سلیقے سے کھول کر رکھ دیا ھے۔

    Reply
  • October 3, 2016 at 7:53 pm
    Permalink

    kamal kie tehreer ha ……good work

    Reply
  • October 3, 2016 at 9:55 pm
    Permalink

    Insight and vision are the traits which are very rare.I have now come to know that even education doesn’t give you these qualities.I never understand how an educated person could be a cult follower of any political leader.Actually it’s very hard for most of us to find fault within ourselves &those whom we love.Human is genetically built to justify his/her wrongdoing and keep throwing stones on others

    Reply
  • October 5, 2016 at 2:21 am
    Permalink

    عقیدت کی عینک اتار کر دیکھئیے تو آپ کو احساس ہو جائے گا کہ ملک کی باگ دوڑ ایسی بچگانہ طبیعت کے مالک کے سپرد نہیں کی جا سکتی. خیال ہے کہ یہ بات ان کو بھی باور ہو چکی ہے جو خان صاحب کو
    اس حالت تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں

    اعلی تحریر اور اعلی اختتام

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *