Bhook Nang Aur Atomy Jang

بھوک ننگ اور ایٹمی جنگ

برصغیر پاک و ہند ٹیلنٹ، زراعت و سیاحت کے لحاظ سے مالا مال خطہ ہے۔ جسے انگلستان نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے جال میں پھانس کر اپنا غلام بنائے رکھا اور ایک عرصہ حکومت کرنے کے بعد جب یہ خطہ یہاں کے رہنے والوں کے لیے آزاد کیا تو جاتے جاتے ایک ایسا ایشو چھوڑ گیا کہ جسے لے کر اس خطے میں ہمیشہ مسائل رہیں اور ترقی نہ ہو سکے۔

کسی ایک بھارتی وزیر اعظم یا حکمران کا دور حکومت اٹھا لیں اسکی دکانداری چلتی ہی کشمیر اور پاکستان مخالف ایجنڈے پر رہی ہے۔ اندرا گاندھی ہو یا راجیو گاندھی، واجپائی ہو یا مودی سب کے پاس اپنی سیاست چمکانے کو ایک ہی ایشو رہا کشمیر اور پاکستان کے خلاف جنگ و نفرت۔ جب جب بھارتی حکمران اپنے عوامی فلاحی ایجنڈے میں فیل ہوئے انہیں پاکستان کے خلاف جنگ کا لالی پاپ ہی ملا جو وہ اپنی عوام کو دے کر اپنی خفگی مٹاتے رہے۔

نریندر مودی کو گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے پوری دُنیا اچھے سے جانتی ہے وہ چاہے لاکھ میٹھی زبان استعمال کریں اسے کے پیچھے موجود دوغلا پن اور شرپسندی کسی سے ڈھکی چھُپی نہیں ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی کی الیکشن میں کامیابی کے بعد سے نریندر مودی کا وزیر اعظم بنایا جانا صاف نظر آرہا تھا اسی لیے بھارتی حلقوں میں بھی ایک تشویش کی لہر تھی اور بارہا ان کی مخالفت کی جاتی رہی۔ باقی تمام سیاستدانوں کی طرح مودی نے بھی عوام کو بہت سبز باغ دکھائے اور عوام کی کایا پلٹنے کے عہد و پیماں کیے گئے۔

پاکستان جو کہ دہشت گردی کے خلاف پرائی جنگ میں کود کر اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہا ہے کو چین کی طرف سے ایک خوشخبری ملتی ہے کہ گوادر کو فنکشنل کیا جائے اور ایک راہداری تعمیر کی جائے جس سے خطے میں اقتصادی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ اور تقویت ملے مگر اس کے لیے پاکستان میں موجود دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ناسور کا خاتمہ تھا کیوں کہ امن قائم کیے بغیر کوئی بھی سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہ تھا۔ اس امر میں سول حکومت اور افواج پاکستان نے ایک جامعہ حکمت عملی تیار کی۔ 40 ہزار شہریوں اور سکیوریٹی اہلکاروں کی قربانی کے باوجود دہشت گردی کا ناسور کسی طور تھمنے کا نام نہیں لے رہاتھا کہ ایسے میں وہ دلخراش واقعہ پیش آیا کہ جس نے 11 ستمبر کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر حملے سے بھی زیادہ تکلیف دہ اور خون آشام اثرات چھوڑے۔ جس کے بعد دہشت گردی کے اس ناسور سے چھٹکارا پانے کو سول اور فوجی قیادت نے کمر باندھ لی اور ضرب عضب باقاعدہ سے شروع کیا گیا۔

ضرب عضب میں شمالی علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کرنے میں وسائل اور مزید قربانیاں دینی پڑیں مگر پاکستان میں پائیدار امن کے لیے ہمارے فوجی جوانوں نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مُقابلہ کیا اور انہیں افغانستان کی طرف دھکیل دیا جہاں کئی دہائیوں سے طالبان اور افغان حکومت کی آپسی جنگ جاری ہے۔ غرض یہ کہ پاک چین اقتصادی راہداری پر کام شروع ہوا۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات کو یہ بات کسی طور گوارا نہ تھی کہ جس معیشت اور کاروبار پر ان کی اجارہ داری ہے اس میں کوئی حصہ دار بنے۔

بےشک اقتصادی راہداری کی تکمیل سے سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہو گا مگر اس کا بہت حد تک فائدہ اس خطے کو بھی ہونا ہے جس خطے میں یہ بنائی جا رہی ہے۔ بے روزگاری بھوک افلاس غرض بنیادی ضروریات کے لیے ترستے ایک ملک کے لیے ایسی راہداری بہت اہمیت کی حامل ہے اور اسی وجہ سے پہلی بار سول حکومت اور فوجی قیادت اس پر ایک ہی رائے رکھتی پائی گئیں۔

جیسے ہی اقتصادی راہداری پر کام شروع ہوا تو اس سے حسد رکھنے والے ممالک نے پراپگینڈا شروع کر دیا کبھی اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی تو کبھی بلوچستان میں دراندازی دہشت گردی اور زیارت حملے جیسے واقعات پیش آنے لگے۔ بھارت پچھلے بیس سال سے ایک ہی کوشش میں مصروف عمل ہے کہ پاکستان کو خطے میں کیا پوری دُنیامیں اکیلا کر دیا جائے مگریہ نہیں جانتا کہ پاکستان کو 3 سرحدیں لگتی ہیں کوئی ایک سرحد نہیں۔ اور خود اقرار بھی کرتا ہے کہ جب تک چین غیرجانبدار نہیں ہو جاتاپاکستان کو اکیلا نہیں کیا جاسکتا۔

اقتصادی راہداری کے ہی بغض میں بھارت نے افغانستان اور ایران کو ساتھ ملاتے ہوئے ایران میں چاہ بہار پورٹ کی تعمیر و ترقی کا عندیہ دیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ چاہ بہار پورٹ کا گوادر سے کوئی مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس شوشے کا بھی کوئی خاص اثر اقتصادی راہداری پر نہ پڑ سکا بلوچستان میں بھی پاک افواج کے کامبنگ آپریشن سے بھارت کے عزائم کلبھوشن یادیو کی صورت میں دُنیا کے سامنے آگئے۔

غرض کے بیرونی دراندازی سے لے کر پاکستان کے اندرونی سیاسی ماحول کو گرمانے میں بھی بھارت نے کوئی کسر نہ چھوڑی کہ کسی طرح اقتصادی راہداری کا کام رک جائے جیسے 2004 میں اس کی فیزیبیلیٹی اور پلاننگ کے دو سال بعد 2006 میں اس پر کام ٹھپ ہو گیا تھا۔ بھارت نے اپنے پُرانے حربے کو آزمانے کی کوشش کی اور کشمیر میں تشدد اور ظلم کی نئی کہانی شروع کر دی۔ اور آزادی کے لیے نبرد آزما بُرہان وانی کا بیہیمانہ قتل کیا گیا جس سے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو ایک نئی تقویت ملی جو در اصل بھارت نے ہی جان بوجھ کر پیدا کی اور ہمیشہ کی طرح الزام پاکستان پر عائد کیا کہ پاکستان یہ سب کروا رہا ہے۔

بھارت کی شاطرانہ چال کارگر ہوئی پاکستانی شہریوں اور حکمرانوں کے دل میں کشمیر کے لیے موجود ازلی محبت جاگی اور وزیر اعظم پاکستان نے اس ایشو کو اقوام عالم کے سامنے اٹھانے کا عندیہ دے دیا جو کہ بھارت بہت حد تک چاہتا تھا۔ وزیر اعظم پاکستان نے بُرد باری اور تحمل مزاجی سے کشمیر میں ہونے والے مظالم پر اقوام عالم کی توجہ دلائی اور ایک بار پھر دوستی اور مذاکرات کے دروازے کا راستہ دکھایا اور ایک لفظ بھی جنگ سے متعلق نہ کہا ہاں بھارتی جارحیت اور جنگی جنون کا دفاع کرنے اور منہ توڑ جواب دینے کی بات ضرور کی۔

وزیر اعظم کی تقریر جس کا بھارت منتظر تھا نے پہلے سے ہی ایک ڈرامہ تیار کیا ہوا تھا کہ اقوام عالم کے سامنے اپنی خفگی مٹانے کو اور مظلوم بننے کو اپنی ہی فوجی بیرک پر حملہ کرواکر اپنے فوجی شہید کروائے اور ہمیشہ کی طرح واقعہ کے ایک گھنٹے کے اندر اندر الزام پاکستان پر عائد کر دیا جب کہ ابھی علاقہ حملہ آوروں سے کلئیر بھی نہیں کروایا گیا تھا۔
وزیر اعظم پاکستان نے اقتصادی راہداری کو زہن میں رکھتےہوئے بہت متوازن تقریر کی اور کشمیر سمیت خطے میں بھارت کی در اندازای اور مجرمانہ حرکات کا ذکر بھی کیا مگر جنگ کی بات نہیں کی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے جنگ کا عندیہ دینے یا بھارت سے مقابلے بازی پر پاکستان میں اقتصادی راہداری کا کام کھٹائی میں پڑ سکتا ہے اور جو سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کی بات کر رہے ہیں وہ کبھی بھی اپنا پیسہ ایسی جگہ لگانے نوکہ تیار نہیں ہوں گے جہاں جنگ یا تناؤ کا ماحول ہو۔

وزیر اعظم کی تقریر کو لے کر جہاں بھارت میں تکلیف پیدا ہوئی وہیں پاکستان کے اندر موجود کئی عناصر (اینکرز، لنڈے کے دانشور و تجزیہ نگاروں) نے یہ واویلہ شروع کر دیا کہ بھارت اگر پاکستان کا کوئی جاسوس بھارت سے گرفتار کر لیتا تو وہ اسے پنجرے میں بند کر کے اپنے ساتھ اقوام متحدہ لاتا اور اپنی تقریر میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کرتا۔ تو جناب بھارت نے پہلے کب ایسا نہیں کیا بھارت تو پچھلے بیس سال سے اسی حکمت عملی پر کار فرما ہے کہ پاکستان کو دُںیا سے الگ کیا جاسکے اور پاکستان اکیلا رہ جائے۔ موجودہ حالات میں وزیر اعظم پاکستان کو اس ہی رویے کا اظہار کرنا چاہیے تھا کہ ہم خطے میں جنگ نہیں امن چاہتے ہین۔ کہ پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کمر دوہری ہو چکی ہے معاشی اعتبار سے بہت کمزور ہوچکے ہیں اور مزید جنگ کے خواہاں نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ میں مائیک کے آگے کھڑے ہو کر بھارت پر الزام تراشی کرنا اور جنگی عزائم کا منہ توڑ جواب دینا مشکل نہیں مگر اس کے بعد سرمایہ کاروں کے دل میں پیدا ہونے والے شکوک یقین میں بدل جانا ہمارے لیے معنی خیز ہے۔

نریندر مودی بہت حد تک اپنے عزائم اور پلان میں کامیاب ہے کہ وہ جو ایجنڈا لے کر الیکشن میں آئے تھے اس پر عمل نہ کر پانے کی وجہ سے اب یہ پرانا ایٹمی جنگ کا ٹوٹکہ استعمال کر کے عوام کی نظر میں ہمدردیاں سمیٹ رہے ہیں۔ کیونکہ جنگ کی پالیسی استعمال کرتے ہوئے ایک امریکی صدر اپنے ٹینیور کے دو سال نکال گیا اور اسی جنگ کو جاری رکھ کر موجودہ صدر باراک اوباما بھی دو ٹینیور نکال گیا ہے۔ اور اسی جنگی منترے پر نریندر مودی کارفرما ہیں اور بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ غربت اور افلاس کا جو حال اس وقت بھارت میں اس کے ہوتے کبھی بھی ایٹمی جنگ نہیں کی جاسکتی ۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ بات حرف عام ہوئی کہ 60 فیصد بھارتی عوام کے پاس بیت الخلا کی سہولت نہیں اور اس وجہ سے ہائجینک مسائل بڑھ رہے ہیں۔

میری پاکستانی میڈیا پرسنلیٹیز سے التماس ہے کہ وہ بھارتی جنگی جنون کے جواب میں پاکستانی حکمرانوں یا حکومت کی خاموشی یا اطمینان کو غلط رنگ دینے کے بجائے پاکستان کی حالت پر غور و فکر کریں اور بتائیں کہ کیا پاکستان جہاں آج بھی بچے اور عوام بنیادی ضروریات سے کوسوں دور ہیں ایٹمی جنگ کا متحمل ہو سکتا ہے ؟ گو کہ پاکستانی افواج بری ہو بحری یا ہوائی ہر طور تیار اور مستعد ہیں کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں مگر کیا ہم اندرونی جنگ کے ساتھ ساتھ بھارت سے جنگ کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں ؟ کیا اس وقت جب ہم معیشت کو بحال کرنے چلے ہیں اس وقت ہم بھارت کو للکار کر اسی کی ٹون میں جواب دے کر معیشت کو بحال کر پائیں گے یا سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر پائیں گے ؟ یا ایٹمی جنگ ہی پاک بھارت مسائل کا حل ہے کہ جس کے بعد صدیوں تک اس کے تابکاری اثرات نہیں جاتے۔ اگر کوئی نہیں جاتا تو ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں آج بھی پیدا ہونے والے کئی بچوں کو دیکھ لے جو اس وقت کے تابکاری اثرات کی وجہ سے آج تک بغیر بالوں کے پیدا ہوتے ہیں ؟؟ کیا جہاں بھوک ننگ کا راج ہو وہاں ایٹمی جنگ کار آمد ہے ؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *