Hungama hay Kyoon Barpa

پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈ یا کے دور میں داخل ھم بھی باقی دنیا کی طرح ھوئے لیکن ھمارے معاشرےمیں صحافت

دوسرے معاشروں سےذیادہ پھل پھول گئی ھے اور اس کے نتائج بھی سامنے آنا شروع ھوگئے ھیں دفاع سے معیشت اور اندرونی سیاست سے خارجی امور پر کلی عبورکھنے والےبھانت بھانت کے صحافی نما اینکرز قوم کا ضمیر جھنجھوڑنے میں ایک لمحہ بھی ضایع کرنے کو تیار نہیں ھیں۔

ھم سانحات سے سیکھتے اور نہ ھی حالات کی نزاکت سمجھنے کو تیار ھیں۔ سن شعوری سے ھی ایسے صحافیوں کو پڑھا ھے جن کے ایک ایک لفظ کو سونے میں تولا جاسکتا ھے لیکن اب کوئی صحافت ریٹنگ کے لئے کر رھا ھے اور کوئی انقلاب لانے والوں کی مداح سرائی کرنےکےلئے۔ پہلے پہل جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا جاتا رھا لیکن اب ڈھٹائی کے ساتھ مضحکہ خیز بات کو مخالفین بارے خبر بنا کر نشر یا شایع کیا جاتا ھے اور جھوٹ پکڑے جانے پر معافی کے دو الفاظ ادا کرنے کی بجائے اگلے جھوٹ کا پرچار کیا جانے لگتا ھے۔یہاں تک کہ اعلی عدالتوں کے منصفوں تک کو نہیں بخشا گیاایک حادثاتی طورپر صحافی بننے والے موصوف نے تو ایسا جھوٹ کا پلندہ سندھ ھائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بارے میں اپنے پروگرام میں کہہ ڈالا کہ عدالت کو چاروناچار پیمرا کو کہہ کر ان موصوف کے خلاف سخت کاروائی کروانا پڑی۔ ملک میں جاری دھشتگردی کے خلاف جنگ میں بہترحکمت عملی سے اندرونی وبیرونی دشمن کو قابو میں لایا گیا ھے اور دشمن چونکہ دو محاذوں پر تھا اس لئے ایسے اقدامات بھی لئے جارھے ھیں کہ دوبارہ ایسے عوامل سر نہ اٹھا سکیں ایسے میں میڈیا ھر دوسرے دن بعد سول ملٹری تعلقات کی بحث کھول کر بیٹھ جاتے ھیں جس کا مقصد صرف ایسے حالات پیدا کرناھیں جس سے سول ملٹری تعلقات میں تناو بنا رھے۔ ملک کے حالات پر تجزیہ دینے کےلئے جولوگ بیٹھے ھیں ان میں سے کوئی فلم پروڈیوسر ھے یا کوئی رپورٹر جس کا صحافتی کیریر خبر ڈھونڈتے نہیں خبر بناتے گذری ھو۔ ریٹنگ کی دوڑ میں صبح سے جو یہ لوگ شروع ھوتے ھیں تو رات گئے تک بریکنگ نیوز کی تعداد گنتی سے باھر جا چکی ھوتی ھے اب اس پر سر پیٹا جائے یا ھدایت مانگی جائے۔ مغربی معاشرے میں ایک خبر شایع یا نشر کرنے سے پہلے خبر کی سچائی کی تصدیق کی جاتی ھے پھر بھی کوئی خبر غلط نشر ھو جائے تو نہ صرف اس کی معافی مانگی جاتی ھے بلکہ جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ھے اور ھمارے یہاں اس کے الٹ ۔ تجزئیے کے نام پر خبر دی جاتی ھے اور خبر کے جھوٹ ھونے کے بارےمیں معلوم بھی ھوتا ھے پھر بھی بغض کے مارے صحافی معافی مانگنا تو درکنار پوری ڈھٹائی سے کہتے ھیں خبر کے جھوٹے ھونے کا ثبوت آپ لائیں یہ کام ھمارا نہیں اور اگر ثبوت مہیا بھی کر دئیے جائیں تب بھی میں نہ مانو کے مصداق اپنی بات پر قائم رھتے ھیں، رھی سہی کثر بےلگام سوشل میڈیا نے خرابی پھیلا کر پوری کی ھوئی ھے آپ کسی کے بھی متعلق جھوٹ لکھ دیجئے کوئی پوچھنے والا نہیں ھے انقلاب اور تبدیلی کے مینارے سارا دن مخالفین بارے ایسا ایسا جھوٹ لکھتے ھیں کہ شیطان بھی پناہ مانگے۔ ایسے ھی ایک موصوف نے پنجاب میں حالیہ سال اغوا ھونے والے بچوں کی تعداد انتہائی بھیانک لکھ کر نہ صرف والدین کو پریشانی میں مبتلا کیا بلکہ بہت سے ایسے واقعات کا موجب بنے جہاں لوگوں نے شک کی بنیاد پر بے گناھوں کو اغواکار سمجھ کر تشدد کا نشانہ بناڈالا۔اور جب سرکار نے غلط خبر پھیلانے والے اس سماجی خدمتگار سے معافی کا مطالبہ کیا تو داعی انقلاب تلملا اٹھے اور سختی سے منع کردیا کسی بھی قسم کی معافی مانگنے سے۔مختصر یہ کہ بے لگام میڈیا کو لگام ڈالئے اس سےپہلے کہ مزید کوئی سانحہ ھو۔

تمھید لمبی ھوگئی اور میں بھی اصل موضوع سے بھٹک گیا جو کہ پانامہ پیپرزکے بعد ملک میں جاری طلاطم خیز حالات سےمتعلق تھا۔اس ھی پانامہ پیپرز میں وزیراعظم کے بچوں کے نام آنے پر ڈیڑھ اینٹ کی مساجد بنائے اپوزیشن کی تمام پارٹیاں کلی یا علامتی طور پر سڑکوں پر ھے یا نیوز چینلز کی زینت بنے ھوئے ھیں۔ عددی لحاظ سےاپوزیشن کی حالت نہ سڑکوں پر اچھی ھے نہ پارلیمنٹ میں۔اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی کچھ لواور کچھ دو کی بنیاد پر سودا کرنا چاھتی تھی جو کہ حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کو قبول نہیں جبکہ پارلیمنٹ میں تیسری بڑی جماعت تحریک انصاف وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ریفرنس لانا چاھتی ھے اور وہ بھی اپنی مرضی کے ٹرم آف ریفرنس پر۔ جب مقاصد کا حصول نہ ھوا تو تحریک انصاف سابقہ روش پر چلتی ھوئی سڑکوں پر نکل آئی اور اس بار بھی انہیں کینڈوی بابائے انقلاب طاھرالقادری اور خود کو اسٹیبلشمنٹ کا گھوڑا بتانے والے نام نہاد سیاسی پنڈت شیخ رشید کی رفاقت حاصل ھے لیکن شومئی قسمت مطلوبہ تعداد میں عوام کو گھروں سےباھر نکالنے میں ناکام رھے اور چاروناچار پارلیمنٹ میں تشریف لائے جہاں تحریک انصاف کے چیئرمین نے خطاب کیا اور قوم کو باور کروانے کی کوشش کی کہ موصوف تو عوام کی خاطر سڑکوں پر ھیں۔عوام جو اس روز روز کے احتجاج سے تنگ آچکی ھے حالیہ ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت کی پالیسیوں سے مطمئن نظر آئے اس لئے مستقبل قریب میں حکمران جماعت کو ان کے احتجاج سے کوئی خطرہ نہیں کے انتخابات تک اپنی حکومت بچا گئی تو جاری منصوبوں کی تکمیل کی وجہ 2018 ھے۔اور اگر مسلم لیگ نواز کسی طرح سے عوام کا اعتماد لینےمیں دوبارہ کامیاب ھو جائے گی اور موجودہ اپوزیشن کے لئے سب سے بڑا سر درد یہی ھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *