Well Done Nawaz Sharif

ویلڈن میاں نواز شریف
مورخ لکھے گا کہ جب نواز شریف نے حکومت سنبھالی تو وہ کانٹوں کے تاج کے مترادف تھی . ملک مسائل سے گھرا ہوا تھا . دہشت گردی کے نا سور نے ملک کو جکڑا ہوا تھا ۔ سیکورٹی کے حالات اتنے خراب تھے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینئر افسران با وردی باہر نکلنے سے کتراتے تھے ، وردی اپنے بیگز کے اندر رکھ کر سول کپڑوں میں نکلنے کو ترجیح دیتے تھے . کراچی میں روزانہ دس سے پندرہ لاشیں گر رہی تھیں ، کوئٹہ کی صورت حال انتہائی نازک تھی اور بلوچستان کے دوردراز کے علاقوں میں جانا تو جان ہتھیلی پر رکھ کر جانے کے برابر تھا . آئے روز دشت گردی اور فرقہ واریت کے واقعات ہو رہے تھے . ملک معاشی طور بر بد حال تھا .ظاہری سی بات ہے کہ اگر ملک میں امن و امان ہی نہیں ہو گا تو معاشی خوشحالی کیسے ممکن ہے؟ ہمسایہ ممالک میں سوائے چین کے سبھی پاکستان کو آنکھیں دکھا رہے تھے . افغانستان تو مکمل طور انڈیا کے رنگ میں رنگ چکا تھا اور ایران اندر ہی اندر پاکستان کے خلاف گیم کھیل رہا تھا . کلبھوشن یادو کا ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہونا جس کی واضح مثال ہے ، بھارت تو خیر ہے ہی پاکستانی کا ازلی دشمن. بنگلہ دیش کے بھی پاکستان کے ساتھ حالات کشیدہ تھے . دنیا کے زیادہ تر ممالک پاکستان سے خوش نہ تھے، بین الاقوامی مبصر پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی پیشن گوئیاں کر رہے تھے . مطلب ہر طرف مسائل ، پریشانیاں دکھ اور تکلیفیں ہی تکلیفیں تھیں .امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی تھی . ملک دن بدن پستی اور تنزلی کی طرف جا رہا تھا
عین اسی وقت پاکستانی قوم نے فیصلہ کیا کہ نواز شریف کو دوبارہ موقعہ دیا جائے کیوں کہ اس وقت نواز شریف کے علاوہ اور کوئی سنجیدہ شخصیت نہیں تھی جو ملکی مسائل کو میرٹ پر ایڈریس کرسکے .عوام نے نواز شریف پر اعتماد کیا اور نواز شریف نے اقتدار سنبھالا اور ہر معاملے اور مسلے کو ایک ایک کر کے دیکھنا شروع کیا . ہر ادارے میں میرٹ پر افراد کو تعینات کیا . یہ نواز شریف کی سیاسی بصیرت ہی تھی کہ جنرل راحیل شریف سے دو افسران زیادہ سینئر تھے لیکن نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف کے عھدے کے لئے چنا . کراچی میں ایم کیو ایم اور دوسری جماعتوں کے دہشت گرد بازوؤں کے خلاف آپریشن شروع کیا ،بلوچستان میں بلوچوں کی نمائندہ جماعت کو حکومت کرنے کا موقع دیا، جس سے روٹھے ہوئے بلوچ بھائی قومی دھارے میں دوبارہ شامل ہوئے. کے پی کے میں حکومت بنانے کی طاقت ہونے کے باوجود سپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع دیا. اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب کیا . چین کے ساتھ روایتی تعلقات کو نہایت ہی مضبوط کیا اور قوم کو سی پیک کی شکل میں چھیالیس بلین ڈالر کی سرمایا کاری کا تخفہ دیا. دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا ..جس کے نتائج الحمدللہ آپ سب کے سامنے ہیں .. دہشت گردی کے بعد دوسرا بڑا مسلہ توانائی کا بحران تھا . جس کو میاں نواز شریف نے بخوبی ایڈریس کیا . جس سے تین سال کی قلیل مدت میں لوڈ شیڈنگ اٹھارہ گھنٹے سے کم ہو کر چھ گھنٹے تک آ گئی ہے . اور اس وقت بیس ہزار میگا واٹس سے زائد کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے جس سے انشا الله 2018 تک لوڈ شیڈنگ صفر ہو جائے گی . قطر سے ایل این جی معاہدے سے گیس کی لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا گیا .. مواصلات کے شعبے میں بیک وقت تیرا موٹر ویز پر کام شروع ہے . نئے ایئر پورٹس اور یونیورسٹیوں کے متعدد منصوبے پائپ لائن میں ہیں . میاں صاحب نے پورے پاکستان میں انتالیس نئے ہسپتال بنانے کا اعلان کیا ہے . اس کے علاوہ وزیر اعظم صحت کارڈ کے منصوبے سے ہزاروں افراد مستفید ہوئے
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے میاں نواز شریف نے ہر پلیٹ فارم پر کشمیر کے مسلے کو اجاگر کیا . جب میاں نواز شریف کشمیر کا مسلہ اقوام متحدہ میں اٹھانے جا رہے تھے جس سے خائف ہو کر مودی سرکار نے مبینہ طور اڑی ہیڈ کواٹر والا ڈرامہ رچایا مگر نوازشریف نے مسلہ کشمیر کو جس مدلل طریقے سے اٹھایا وہ انہی کا خاصہ ہے .. غرض یہ کہ ہر شعبے اور ہر پلیٹ فارم پر الله تبارک و تعالی نواز شریف کی مدد اور عزت میں اضافہ کر رہے ہیں ، آپ میں سے کچھ افراد میری باتوں سے اتفاق نہیں کریں گے مگر ایک دفعہ اپنی سیاسی وابستگی سے قطع نظر آج کے حالات اور تین سال پہلے کے حالات کا موازنہ کریں .. آپ فرق جان جائیں گے
الله پاکستان کا حامی و ناصر ہو پاکستان زندہ باد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.