Chain Se Soti Ho Naa

چین سے سوتی ہو نا
جوں جوں اکتوبر قریب آ رہا ہے تمھاری یاد اک بار پھر سے میری آنکھیں نم کرنے لگی ہے وہ اک عام سا دن تھا پر تم سے ملنے کے بعد خاص ہو گیا پیاری لڑکی_ پہلی ملاقات نے کچھ خاص تاثر نہیں چھوڑا پر تمھاری چمکتی آنکھیں جو تمہارے چہرے سے میل نہیں کھاتی تھیں مقابل کو اپنی گرفت میں لینے کا ہنر جانتی تھیں_ گزرتے وقت نے ہمیں اک دوسرے کے قریب کر دیا تم اور میں پہروں ڈھیر باتیں کرتے کتنے درد اپنے اندر چھپا رکھے تھے تم نے_ لوگ کتنی عجیب باتیں کرتے تھے تمہارے بارے میں اور تم نے کبھی گلہ بھی نہیں کیا سب سے ہنس کے ملتی رہیں مہربان پری جیسی_اتنی چھوٹی سی عمر میں تم نے ایک ماں کی طرح گھر اور بہن بھائیوں کو سنبھال لیا_ بیاہی بہنوں کو میکے کا مان دیا_ لیکن دینے والوں کی جھولی ہمیشہ خالی رہتی ہے نا میرا دل چاہتا کہ میں تمہیں کہیں دور لے جاؤں جہاں سکھ ہوں جہاں تمہارا بھی کوئی خیال رکھے جہاں تمہاری بے خواب آنکھوں میں نیند کی پریاں اتریں لیکن چندا دل کے چاہنے سے تلخ حقیقتیں بدل نہیں جایا کرتیں_ میرا تم سے کیا رشتہ تھا جو میں یہ سب کر پاتی_ میرے پاس دعائیں تھیں اور پیار تھا وہ جی بھر لٹایا پھر وقت نے ہمیں دور کر دیا بس اک آواز کا رشتہ باقی رہا_ یاد ہے جب ہم سالوں بعد ملے تمہاری مسکراہٹوں کھلکھلاہٹوں کے باوجود میں نے جان لیا کہ اک نیا دکھ بے وفائی کا دکھ دیمک کی طرح اندر ہی اندر کیسے کھا رہا ہے تمہیں_ پیاری لڑکی تمہاری تھکن کا خیال کسی اور کو تو نہیں آیا لیکن ماں شاید خدا کے پاس جاتے ہوئے اپنی آنکھیں اولاد کے آس پاس کہیں چھوڑ جاتی ہے تمہاری امی نے اللہ سے کہا ہوگا کہ اب میری بیٹی بہت تھک گئی ہے اسے میری گود میں سونا ہے پتا ہے بجے جب زلزلے کے بعد رابطے بحال ہوئے تو میں نے پہلا فون تمہیں کیا تمہارے بھائی نے بتایا تم چلی گئی ہو پر کہاں….. امی کے پاس…. میں نہیں روئ بھلا کیوں روتی… میرے بچے اک بات تو بتاؤ اب تم چین سے سوتی ہو نا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *