Taleem Hai Magar Shaur Kahan

تعلیم ہے مگر شعور کہاں ؟

ستمبر 2010 کی ایک شام تمام ممالک کے سربراہان یا نمائندے ایک جگہ موجود تھے، طے پا رہا تھا کہ سب اپنے اپنے ملک میں انتہائی غربت، شرح خواندگی، خواتین کو برابری کے حقوق، بچوں کی شرح اموات میں کمی، زچگی میں بہتری، ایڈز ملیریا، اور دوسری بیماریوں کے خلاف موثر اقدامات، بہتر ماحولیات اور ترقی کے لیے باہمی تعلقات کی بہتر بنایا جائے گا۔ ان سب میں تعلیم کے مسائل کو زیادہ اجاگر کیا جا رہا تھا اور یادداشت تیار کی جا رہی تھی جس پر تمام ممالک نے اپنے دستخط کر کے اس کی بھرپور حمایت اور اس پر عمل درآمد کا پیغام دینا تھا کہ 2015 تک ہم یہ تمام اہداف حاصل کر لیں گے۔ اس وقت موجود تمام 189 ممالک (جو اب 193 ہیں) نے اس کی تائید کی ہمراہ 22 بین الاقوامی تنظیموں کے۔

چند ایک ہی جانتے ہیں کہ اس دستاویز پر دو ممالک نے دستخط نہیں کیے تھے ایک امریکہ جس کا جواز تھا کہ وہ پہلے ہی 100 فیصد شرح خواندگی کا حدف حاصل کر چکے ہیں اور ایتھوپیا جس کا جواز تھا کہ ہمارے ہاں غربت و افلاس اتنی کہ ہم شرح خواندگی 2015 تک سو فیصد نہیں کر سکتے۔ اس دستاویز پر دستخط کرنے والا سب سے پہلا پاکستانی نمائندہ ہی تھا۔

آج ستمبر 2015 کو گُزرے پورا ایک سال گُزر گیا ایک سوال خود سے کیجیے کیا ہم نے سو فیصد شرح خواندگی کے ہدف کو حاصل کر لیا ؟ آپ کا ضمیر جاگ رہا ہوا تو جواب نفی میں ہوگا۔ اوپر دیے گئے اقوام متحدہ کے گلوبل گولز والے سمٹ کے بعد پاکستان سمیت بہت سے ممالک میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا ماسوائے تعلیمی بہتری پر کام کرنے والی ملکی اور غیر ملکی تنظیموں کے جن کے اپنے اور بھی بہت سے جھمیلے اور اہداف ہوتے ہیں ۔

سال 2010 پیپلز پارٹی کا دور تھا، پاکستان میں سیلاب اپنے پیچھے تباہی چھوڑتا ہوا سمندر میں جا گرا تھا، حکومت کے پاس خاطر خواہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر پاک فوج نے ریلیف ورک شروع کر دیا تھا اور بہت سے فلاحی ادارے بھی میدان میں اتر چُکے تھے۔ ایسے ہی ایک ادارے نے لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کا بیڑہ اٹھایا اور سیلاب زدہ علاقوں میں لڑکیوں کے سکولوں کی تعمیر اور بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جائے تاکہ بچیاں تعلیم سے محروم نہ رہیں۔ اس امر میں ضلع
مظفر گڑھ کے نواحی علاقوں کے سیلاب زدہ سکول منتخب کیے گئے اور ان کی تعمیرات اور تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا۔

جنوبی پنجاب میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 103 غیر مُلکی اور مُلکی فلاحی ادارے کام کر رہے تھے۔ جن میں سے کئی سکول کے انفراسٹرکچر پر کئی سکول میں تعلیمی مواد و کُتب فراہم کرنے میں مصروف عمل تھے، کئی ادارے سیلاب زدہ علاقوں میں کنٹینر نما گھر تقسیم کر رہے تھے، کئی کیمپ اور خشک خوراک پہنچا رہے تھے۔

مظفر گڑھ کے علاقے شاہ جمال کے نواحی علاقے عثمان کوریہ کا گرلز ایلیمنٹری سکول ہمارا انتخاب تھا کہ وہاں واشروم خستہ حال تھے چار دیواری کہیں تھی کہیں زمین بوس تھی۔ اس سکول کے سروے کے لیے جب ہم مظفر گڑھ پہنچے تو شاہ جمال سے گُزرتے ہوئے ہمیں ایک سکول کے باہر بچیوں اور والدین کی کثیر تعداد دکھائی دی۔ بڑی تعداد میں طالبات اور والدین کو جمع دیکھ کر تجسس ہُوا کہ آج شاید اس سکول میں کوئی فنکشن ہے یا کوئی ادارہ یہاں کام کر رہا ہے۔

سکول کے نزدیک پہنچنے پر معلوم پڑا کہ یہ علاقہ مکھن والا کہلاتا ہےا ور سکول کا نام گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول مکھن والا ہے، جنوبی پنجاب میں پرائمری سکول میں 2 اساتذہ اور قریب 150 طالبات کی تعداد ایوریج تعداد ہوتی ہے۔ مگر اس دن سکول کے اندر 300 کے قریب طالبات تھیں اور باہر بھی 100 کے قریب والدین اور طالبات کھڑے تھے۔ سکول میں پہنچنے سے پہلے ہمیں ایک ادھیڑعمر خاتون نے روکا اور کہا کہ بیٹا میری بیٹی کو سکول میں داخلہ نہیں دیا جا رہا ہے خدا کا واسطہ ہے میری بیٹی کو سکول میں داخل کروا دیں۔

حیرت اس بات پر ہوئی کہ ہم تو لوگوں کو راغب کرتے پھر رہے تھے کہ بچیوں کو تعلیم کے لیے سکول لازمی بھیجا کریں مگر یہاں ایک ماں اپنی بیٹی کو سکول داخل کروانے کے لیے بضد ہے مگر داخلہ نہیں ہورہا۔ رش کی وجہ سے ہمیں اندر جانے کاراستہ نہیں مل رہا تھا۔ اتنی دیر میں اس ادھیڑ عمر خاتون کو ایک اور خاتون ملنے آئیں اور وہ باتوں میں مشغول ہو گئیں۔ میں نے اپنے پاس موجود تعلیم جانچنےکا ٹُول نکالا اور لڑکی سے سوال پوچھنا چاہا۔ مگر اس نے جواب نہ دیا تو میں نے ٹول واپس بیگ میں رکھ کر دوستانہ ماحول میں اس سے اس کا نام پوچھا، لڑکی نے جھجکتے ہوئے سعدیہ نام بتایا، میں نے پوچھا کہ پہلے کہاں تک پڑھا ہے یا پہلی بار سکول داخل ہونا ہے تو اس کی اگلی بات سُن کر میں حیران ہو گیا۔ لڑکی نے کہا کہ وہ پچھلے سال اسی سکول سے پانچویں جماعت پاس کرچکی ہے مگر چونکہ اس سکول میں ایک این جی او داخل ہونے والی لڑکیون یا والدین کو ڈھائ سے تین کلو کُکنگ آئل دیتی ہے تو اس کی والدہ اسے دوبارہ اسی سکول میں تیسری جماعت میں داخل کروانے پر بضد ہے۔ میں نے اتنا سُن کر بیگ سے لرننگ ٹول نکالا اور اس سے کہا کہ کیا وہ پڑھ سکتی ہے تو اس لڑکی نے انگلش کے فقرے اور سٹوری کا ایک پیرا گراف فر فر پڑھ لیا۔

اتنی دیر میں ادھیڑ عمر خاتون باتوں سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئی اور پھر سے ضد کرنے لگی کی اس کی بیٹی کو سکول میں داخلہ دلوا دیں۔ میں نے جواب دیا کہ آپ کی بیٹی تو پانچویں پاس کر چکی ہے تو دوبارہ اسے تیسری میں کیوں داخل کروانا چاہتی ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ اس لڑکی کے سکول داخلے کی وجہ سے تیل ملتا ہے اور ہم غریب مزدور لوگ ہیں سیلاب سے گھر تباہ ہو گیا تو ایک ہی ذریعہ ہے کہ سکول سے امداد مل جاتی ہے۔

اس بچی کا داخلہ تو ہم نہ کروا سکے کیونکہ وہ اسی سکول میں پہلے داخل رہ چکی ہے مگر ایک سوچ جو دماغ میں اٹک گئی کہ اتنے سکول اور تعلیم کے فروغ کے لیے ادارے کام کر رہے ہیں سکول بھی موجود ہیں اساتذہ بھی مگر تعلیم کی اہمیت جاننے کے لیے شعور کہاں ہے ؟ سکولوں میں ایسی مراعات کہ کہیں کھانا مل رہا ہے کہیں تیل کہیں بسکٹ دیے جارہے تو ایسے سکول میں طالبات تعلیم کیا حاصل کریں گی جہاں ان کا داخلہ ہی اس سوچ میں کروایا گیا کہ کچھ ملے گا۔ ایسی ہی سوچ ہمیں ان علاقوں میں تعلیم کی ترغیب دیتے ہوئے ملی کہ آپ کی این جی او دے گی کیا ؟ ہمارا جواب ہوتا تھا کہ ہم آپ کی بچی کو تعلیم دیں گے شعور دیں گے اور کم و بیش ہر جگہ سے یہی جواب ملا کہ فلاں این جی او تو بچے داخل کروانے پر خشک خوراک دے رہی، یونیفارم دے رہی یا ککنگ آئل دے رہی۔

اس سارے واقعہ کو ذہن میں رکھ کر سوچیں کہ اتنے ادارے اتنے سکول موجود ہیں تعلیم نظر آرہی ہے مگر شعور کہاں ہے ؟؟؟ کیا تعلیم دے کر ہماری ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے ؟ کیا اس تعلیم کے ساتھ تعلیم کی اہمیت یا افادیت کا شعور بھی لوگوں تک پہنچایا جا رہا ہے کہ نہیں۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.