Lahoo Lahoo Inquilaab

لہو لہو انقلاب

پاکستان کے سوشل میڈیا پر شام کے جنگ زدہ علاقوں اور جنگ سے متاثرہ لوگوں کی حالت زار کو آشکار کرتی تصاویر کا ایک ڈھیر روزانہ شیئر کیا جاتا ہے – پھر حسب منشا اپنے اپنے ممدوح کی تعریف اور مخالف پر تبرا کیا جاتا ہے – مگر ایک بات جو ہر ایک بہت ہی آسانی کے ساتھ نظر انداز کر جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس صورت حال میں سب سے زیادہ نقصان میں صرف اور صرف شام کی عام عوام ہے – اس بلا کی گرمی میں اپنے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر سوشل میڈیائی محاذ گرمانا شاید دورحاضر کا سب سے آسان اور دلچسپ مشغلہ بن چکا ہے – خونی انقلاب کی بات کرنا ، نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر نئے سرے سے بہتر نظام کو نافذ کرنا ، آر یا پار ہو جانے کی باتیں کرنا ، جذباتی نعرے ، مسلح جدوجہد سے رومانویت کشید کرنا ، معاشرتی برائیوں کا رونا روتے روتے معاشرے کے باغی بننے کا عزم کرنا ، ریاستی اداروں کا باغی بن جانے کا نعرہ بلند کرنا ، یہ سب باتیں سوشل میڈیا پر عام لوگوں کو اپنی طرف بہت زیادہ کھینچتی ہیں – ایسی باتیں کہنے اور لکھنے سے آپ کی واہ واہ ہوتی ہے ، داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں ، آپ کی بہادری اور آہنی عزم کو سراہا بھی جاتا ہے – مگر ان باتوں کا سرور کسی بھی نشہ آور شئے کے استعمال سے مختلف نہیں ہوتا ، کیونکہ جب نشہ اترتا ہے تو گرد و پیش کے حالات اور اپنی حالت زار کا اندازہ ہوتا ہے – یہی حال ایسی جذباتی باتوں پر عمل کرنے والوں کا بھی ہوتا ہے

پچھلے ماہ ترکی جانا ہوا ، زیادہ دن قیام ترکی کے دارالحکومت استنبول میں رہا – استنبول کا یورپی حصہ تقریباً پورا سال دنیا بھر کے سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا رہتا ہے – استنبول کے یورپی حصے میں ہی تقسیم اسکوائر ہے ، جس کے ارد گرد بےتحاشا ہوٹل ہیں اور یہیں استنبول کا شانزے لیزے استقلال سٹریٹ بھی ہے – میرا قیام بھی تقسیم اسکوائر کے پاس ہی تھا – پہلے دن ہوٹل سے نکلتے ہی دو کم عمر بچوں سے واسطہ پڑا ، عمر یہی کوئی بارہ سے پندرہ سال کے درمیان ہو گی – دونوں بچے عربی میں بولتے ہوئے کچھ کہہ رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ اشارے بھی کر رہے تھے ، انکی زبان سمجھنا کچھ مشکل تھا مگر اشاروں کی زبان سے یہ سمجھنا چنداں مشکل نہ تھا کہ وہ کم عمر بھکاری تھے – جیسے ہی ان بچوں کو بھگتا کر تھوڑا آگے آیا تو ایک ترک بھاگتا ہوا میرے پاس آیا اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ بچے ترک نہیں ہیں بلکہ یہ شامی پناہ گزین ہیں جو کہ شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے ترکی میں آ گئے ہیں – یہ میرا شامی پناہ گزینوں سے پہلا انٹر ایکشن تھا – اسکے بعد تو جب بھی ہوٹل سے باہر نکلتے ، انھی بچوں اور کچھ شامی خواتین سے سامنا ہوتا – یہ بچے مین روڈز سے پرے ذیلی سڑکوں پر موجود ہوتے تھے اور سیاحوں سے ہی مانگتے تھے – لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے مگر ان گنہگار آنکھوں نے یہ بھی دیکھا کہ کئی جواں سال شامی لڑکیاں استنبول کی گلیوں میں اپنی عصمت چند یوروز کے عوض بیچنے پر مجبور ہو چکی ہیں – یہ سب دیکھ کر ایک لحظے کو دل کانپ گیا تھا کہ یا الہی ان بیچاروں کا کیا قصور تھا کہ یہ سزا ملی – نہ زمین اپنی نہ آسمان اپنا ، تن پر موجود کپڑوں کے علاوہ کچھ ملکیت نہیں ، سر پر چھت نہیں، دو وقت کی روٹی کے لیے بھیک مانگنے اور عزت نیلام کرنے پر مجبور ہیں – اس لمحے میں اپنے سوشل میڈیائی انقلابی بہت یاد آئے ، جو ہر وقت خونی انقلاب کی باتیں کرتے ہیں ، ریاستی اداروں کو مفلوج کرنے کی باتیں کرتے ہیں – ایسی باتوں میں بہت رومانس ہے ، مگر یہ سب رومانس صرف باتوں تک ہی محدود ہوتا ہے ، جیسے ہی انقلاب کے ان نعروں پر عمل درآمد شروع کیا جائے ، نسلیں برباد ہو جاتی ہیں – شہر کے شہر تخت و تاراج ہو جاتے ہیں – بچے دوسرے ملکوں میں بھیک مانگتے اور عورتیں عصمت فروشی کرتی نظر آتی ہیں – افغانستان سے لے کر شام تک یہی ایک کہانی بار بار دوہرائی گئی ہے اور نجانے کتنی بار دوہرائی جائے گی

میرا سوال ہمارے جذباتی انقلاب پسندوں سے صرف یہ ہے کہ کیا وہ انقلاب کی یہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں ؟ اور انقلاب بھی ایسا جو محض ایک سراب ہے ، جس کا کچھ حاصل وصول نہیں – کیا ایسے شارٹ ٹرم خونی انقلاب کی ناکام کوشش جو حالات کو پہلے سے بھی کئی گنا خراب کر دے ، جو نسلیں برباد کر دے ، جو ملک کے ملک تاراج کر دے – کیا اس سے بہتر نہیں کہ خاموشی کے ساتھ موجودہ نظام میں رہتے ہوئے ذہن سازی کی جائے ، لوگوں کو تعلیم دی جائے – اس طریقے سے شاید نظام بدلتے ہوئے سو سال لگ جایئں مگر آپ کے بچے کسی ہمسایہ ملک میں بھیک نہیں مانگیں گے ، آپ کی عورتوں کو چوراہوں پر اپنی عزتیں نیلام نہیں کرنی پڑیں گی – کیا ایسا کچھوے کی رفتار سے آتا ہوا خاموش کامیاب انقلاب کسی خرگوش کی سی تیزی سے آتے ہوئے شور شرابے سے بھرپور ناکام انقلاب سے ہزار گنا بہتر نہیں ؟

4 thoughts on “Lahoo Lahoo Inquilaab

  • September 26, 2016 at 10:19 pm
    Permalink

    Brilliant piece Shuaib bhai like always

    Reply
  • September 27, 2016 at 12:43 pm
    Permalink

    تاریخ سے نابلد اور تیزرفتاری کی دنیا سے متاءثر آج کا انسان بس ہر چیز, تیزی سے بدلنا چاہتا ہے لیکن نہی جانتا کہ قوموں کی زندگی میں انقلاب ایک مسلسل تبدیلی کا عمل ہے. خونی انقلاب قوم کو تباہ تو کرسکتا, ہے تعمیر نہیں.بہت زبردست لکھا ہے صاحب.

    Reply
  • September 27, 2016 at 1:37 pm
    Permalink

    بہت خوب شعیب بهائی
    قلم کا حق ادا کر دیا
    سلامت رہیے

    Reply
  • September 30, 2016 at 2:20 pm
    Permalink

    بہت ہی اثر انگیز تحریر

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.