Meri Pehchaan Pakistan

اوائل عمری میں جب پاکستان چھوڑا تو وطن عزیز کو ضیائ مارشل لاہ اور روس افغان جنگ کا عفریت چاٹ رہا تھا، اس وقت اکثر لوگوں اور بزرگوں کو یہ زکر کرتے دیکھا کے پاکستان خدانخواستہ دیوالیہ ہو کر مزید ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اسی دوران میں کینیڈا ا گیا اپنی یونیورسٹی کے دور میں میرے پاکستانی کنیڈین بھارتی اور کئ اور ملکوں کے طالب علم کہا کرتے تھے کے پاکستان کا کوئ مستقبل نہیں تم پاکستان کے قصیدے پڑھنا چھوڑ دو۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے ساتھ منسلک ہو گیا کارپوریٹ ورلڈ کے اندر پاکستان کو بھی فلسطین جیسا کوئ ملک سمجھا جاتا تھا جو لوگ پاکستان کو جانتے تھے وہ غیر ملکی قرضوں کے تخمینوں معاشی پیشنگوئیوں کرنسی کے اتار چڑھاو سیاسی عدم استحکام اور دوسری کروڑہا وجوہات بیان کرنے کے بعد کہتے کہ پاکستان اپنے ہی بوجھ تلے دب کر ختم ہو جائے گا، ایک دوست کے بھائ اپنے امور خارجہ کے تجربے کے بیس پر اسکا واسطہ کئ پاکستانی سفارتکاروں سے پڑ چکا ہے اور اسکو یہ کہنے میں کوئ عار نہیں کہ پاکستان کی حالت اتنی پتلی ہے کہ یہ ملک بچ نہیں پائے گا، پھر دنیا نے ۱۹۹۹ کا مارشل لاہ پاکستان میں لگتے دیکھا اب دنیا میں یہ تبصرے چل رہے تھے کہ پاکستان میں مارشل لاہ کی وجہ سے کوئ ادارہ دنیا کا پاکستان کو قرض نہیں دے گا، اور اس مرتبہ لازمی پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا، میری نوجوانی سے لیکر تین دہائیاں گزر چکی ہیں اب میں اپکو بتاتا ہوں کون صفحہ ہستی سے مٹا، دنیا می دوسری بڑی طاقت سوویت یونین فنا ہوئ پرتگال کی معیشیت ڈوبی، یونان بھکاری بن گیا، یورپین یونین ٹوٹنے کے دہانے پر کھڑی ہے، تیل کی امدنی والا عراق اپنے زخم چاٹ رہا ہے، شام سسک رہا ہے، کانگو اپنی ہیروں کی کانوں کے باوجود گھٹنوں کے بل پر گر گیا، لائبیریا کو اپنے حکمرانوں کے کرتوتوں کی سزا بھگتنی پڑی، یمن خانہ جنگی کی نظر ہو گیا، تیل کے ذخیروں پر اکڑنے والے مشرق وسطی کے سب ممالک رسیشن کی نظر ہو رہے ہیں، امریکہ ۱۸ کھرب ڈالرز کے قرضے تلے دبا ہوا ہے تو وہ تمام جینئیس جو پچھلے کئ دہائیوں سے پاکستان کی تباہی کا انتظار کر رہے ہیں وہ انشاللہ قیامت تک انتظار ہی کریں گے پاکستان انشاللہ سرخرو ہو گا، ہمیں معاشی مشکلات، مارشل لاوں کا سامنا، دہشت گردی بیرونی مداخلت دشمن ہمساوں اور سب سے بڑھکر بین الاقوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اسکے باوجود ہم اگے بڑھے ہم انشاللہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں ہماری فی کس امدن میں اضافہ ہوا ہمارا معیار زندگی گزشتہ تیس سال سے بلند ہوا ہے اور اب ہمارے پاس پاک چین اقتصادی راہداری بھی ہے اور نواز شریف کی پر عزم قیادت بھی ہمارے ہاں حالات کے سانچے میں ڈھلنے کی صلاحیت بھی ہے اور سب سے بڑھکر اللہ کی زات ہمارے ساتھ ہے، ایک بات بتاتا چلوں لوگ دنیا میں ائے چلے گئے اور بھی ائیں گے اور چلے جائیں گے یے سلسلہ یونہی نسل در نسل چلتا رہے گا پاکستان قائم رہے گا پاکستان کا ایک بہترین مستقبل ہے کیوںکہ پاکستانی ہار نہیں مانتے اور ہمارا ایمان اللہ تعالی کی قوت پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.