Paraishan Kun Nataij

پریشان کن نتائج

السلام و علیکم
تمام دوستوں کا تھوڑا سا وقت لیکر جہلم این اے 63 الیکشن کے پریشان کن نتائج کے حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں. اک دیہی علاقے کا رہائشی، اک ووٹر اور پی ایم ایل این کی سوشل میڈیا کا اک ادنی سا رکن ھونے کی حیثیت سے میرے لئے تو یہ نتائج لمحہ فکریہ ہیں، شاید آپ لوگ بھی اس سے متفق ہوں اور پارٹی قائدین کی توجہ اس جانب مبذول کروا سکیں. ویسے تو گاہے بگاہے میں اور میرے چند دوست دیہی علاقوں کے مسائل اور ضمنی انتخاب کے حوالے سے لوگوں کی رائے اور مزاج کے بارے میں آگاہ کرتے رہے ہیں. الیکشن سے قبل چند دوستوں کو یہ باتیں ناگوار گزریں کہ جہلم تو شیر کا گڑھ ہے کوئی پریشانی والی بات نہیں. چونکہ میں جہلم کے اس پسماندہ علاقے کا باسی ہوں اس لئے تمام حقائق سے بخوبی واقف تھا کہ اس بار کتنی مشکلات ن لیگ کیلئے منہ کھولے کھڑی ہیں اور مسائل میں گھرے لوگ کس قدر غصے سے بھرے پڑے ہیں. لیکن تب کسی نے ان باتوں پر توجہ نہ دی اور کچھ الیکشن کی نازک صورتحال کے پیش نظر اسوقت اپنا چپ رہنا ہی مناسب سمجھا. لیکن اب وقت آگیا ھے کہ میں وہ تمام باتیں کروں، اپنی خامیوں و کوتاہیوں کا ذکر پھر سے دہراؤں کہ شاید اب میری باتیں کسی کی سمجھ میں آ جائیں اور ہمیں پھر ایسی شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے. اگر ہم 2018 کے الیکشن کو مدنظر رکھیں تو بھی اب اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا جائزہ لینا اور ان پر قابو پانا بہت ضروری ہے
آخر کیا وجہ ہے کہ جہلم این اے 63 جو 1988 سے نواز شریف کا گڑھ اور ناقابل تسخیر قلعہ رہا ہے اس بار ہم بمشکل جیت پائے ہیں. پی ٹی آئی کو ملنے والے اتنے کثیر ووٹ دراصل انکی مقبولیت یا کمال نہیں بلکہ پچھلے 25 سالوں سے جہلم کیساتھ روا رکھی جانے والی زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا احساس محرومی ہے جسکا بھرپور اظہار اس بار ووٹرز نے لیگی حکومت اور نمائندوں کے خلاف ووٹ کے ذریعے کیا ہے، مخالفین نے جہلم این اے 63 کے اس احساس محرومی کو ایک موثر ہتھیار کے طور پر بھرپور طریقے سے استعمال کیا ہے. اکثر لوگوں کی یہ رائے تھی کہ پچھلے 25 سالوں سے تو ہم پہلے ہی بنیادی سہولتوں سے محروم چلے آ رھے ہیں تو یہ بقیہ ڈیڑھ سال بھی یوں ہی سہی. لیکن اس بار ن مخالف ووٹ ڈال کر یا انتخابی عمل سے دور رہ کر ہم یہ احتجاج ضرور ریکارڈ کرائیں گے اور اس میں جہلم کے لوگ کامیاب بھی رہے. نتیجہ ن لیگ جنرل الیکشن میں 70000 کی برتری سے جیتی ھوئی سیٹ اب صرف 7800 کے فرق سے جیت پائی. یہی احساس محرومی اس بار جہلم الیکشن کا سب سے گرم اور حساس موضوع تھا. کیا پی ایم ایل این کا کوئی تھنک ٹینک یا رہنما ان وجوہات کو جاننے اور قائدین تک انہیں پہنچانے کی فکر کرے گا. اس بری کارکردگی بلکہ شرمندگی پر خود احتسابی کا کوئی عمل شروع ھوگا یا بس جیت گئے ہیں تو سب اچھا کی رپورٹ دے دی جائے اور چین کی بنسی بجائی جائے
جہلم میں اس بدلی ھوئی اور پریشان کن صورتحال کے حوالے سے چند نکات پر مفکرین پی ایم ایل این کی توجہ دلانا اشد ضروری ہے

(1) حکومت اور اسکی ترجیحات
ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے CPEC، بجلی کے نئے منصوبوں، موٹر ویز، میٹروز اور ان جیسے لاتعداد منصوبوں کی اہمیت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے. تیز رفتار ترقی کیلئے ایسے منصوبے ملک کیلئے اشد ضروری ہیں
لیکن 60 سے 70 % دیہی علاقوں میں رہنے والوں کی ترجیحات، انکی دیہی سوچ، محدود علم اور جدید تقاضوں سے عدم واقفیت کی بدولت یکسر مختلف ہیں. ان کیلئے علاج کی بہتر اور خصوصا” ہنگامی طبعی امداد کی سہولیات، معیاری تعلیم، پینے کا صاف پانی اور رابطہ سڑکیں زیادہ اہم ہیں. ان دیہی غریب لوگوں کے اتنے وسائل نہیں کہ وہ ان کے حل کیلئے شہروں کا رخ کر سکیں. معیاری تعلیم و بہتر طبعی سہولت کیلئے اب ان کے پاس بیچنے کیلئے بھی کچھ نہیں. پچھلے 25 سالوں سے اس حلقے میں حکومت نہ تو کوئی نیا معیاری تعلیمی ادارہ اور ہسپتال بنا سکی ہے نہ موجودہ اداروں میں کوئی جدت یا انکی استعداد میں اضافہ کر سکی ھے اور اس کوتاہی میں یہاں کے عوامی نمائندے بھی برابر کے ذمہ دار ہیں . کیا وجہ ہے کہ حکومت ان کاموں کی طرف بالکل بھی توجہ نہیں دے پا رہی اور دیہی علاقوں کے مسائل جوں کے توں پڑے ہیں. تو پھر مسائل کے بوجھ تلے دبی ہوئی عوام اپنے نمائندوں اور حکومتی کارکردگی سے کیوں نہ دل برداشتہ ہوں

(2) عوامی نمائندے اور انکی کارکردگی
ایک اور قابل تشویش بات ضلع اور تحصیل کی سطح پر نااہل اور کم تعلیم یافتہ عوامی نمائندوں کا براجمان ھونا ہے. جہلم جیسے لاتعداد حلقے ایسے ہوں گے جہاں لوگ نواز شریف سے بےپناہ محبت و عقیدت کی بدولت کھمبے کو بھی ووٹ دیتے آئے ہیں. اس پیار اور عقیدت کی بنا پر انکے نزدیک امیدوار کی اہلیت صرف شیر کا نشان ھے تعلیم قابلیت و خاندان نہیں. یہی وجہ ھے کہ پچھلے 25 سالوں سے ہر حلقے میں صرف یہ چند خاندان ہی عوام کو میسر ہیں. جنکا مقصد عوام کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ صرف اپنا نام و مرتبہ اونچا کرنا اور اپنے مقاصد کا حصول ہوتا ھے. مہینوں نہیں بلکہ سالوں تو یہ اپنے حلقہ نیابت کا دورہ تک نہیں کرتے تو عوام سے کئے گئے وعدے اور انکے مسائل کیا حل کریں گے. کم تعلیم کی وجہ سے یہ لوگ نہ اسمبلی امور میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں نہ علاقائی مسائل پر قائدین یا متعلقہ ادراوں تک بات پہنچانے کی اہلیت رکھتے ہیں حتی کہ کسی بھی فورم پر علاقے کے حقوق کیلئے آواز بلند نہیں کرسکتے. اسی لئے انکی نااہلی کا خمیازہ جہلم بھگت رھا ھے بلکہ اب اس کے اثرات پارٹی پر بھی پڑ رہے ہیں. کیا پی ایم ایل این میں ایسا کوئی تھنک ٹینک نہیں جو ان ناہل لوگوں سے عوام کی جان چھڑا سکے اور انکی جگہ پڑھے لکھے اور نیک نام لوگوں کو آگے لایا جائے جو اپنی کارکردگی سے پارٹی کیلئے کوئی نام کما سکیں

(3) ضلعی پارٹی عہدیدار اور انکی ذمہ داریاں
جہلم الیکشن کے نتائج ضلعی عہدیداروں کی کارکردگی کا پول کھولنے کیلئے کافی ہیں. اول تو انکی نامزدگی کس قابلیت یا کارکردگی کی بنا پر ہوتی ھے وہ کوئی نہیں جانتا دوسرا ان کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں. یہاں سب تنظیمی عہدے صرف تعلق واسطے کی بنیاد پر تقسیم کئے جاتے ہیں. نہ کبھی کسی عہدیدار نے پارٹی کو منظم کرنے کی کوشش کی ہے نہ کسی سطح پر پارٹی کیلئے کسی کا کوئی کام نظر آتا ہے، نہ تنظیمی کاموں میں انکی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی یہ لوگ عوامی نمائندگان کی توجہ علاقائی مسائل پر دلانے کی کوشش کرتے ہیں. بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ھو گا کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے عہدے کے کیا تقاضے ہیں کیا فرائض ہیں. انہیں غرض ھے تو صرف اتنی کہ تھانہ کچہری میں انکی بات سنی جائے یا ضلعی و تحصیل کے سرکاری دفاتر میں اسکی پہنچ ہو. یہی وجہ ہے کہ ضمنی الیکشن میں انکی کارکردگی سوالیہ نشان ہے. جبکہ پی ٹی آئی کے نہ صرف تمام تنظیمی عہدیدار بلکہ معمولی سے معمولی کارکن بھی اس الیکشن کیلئے فواد چودھری کے شانہ بشانہ تھے. جنہوں نے گاوں کے ایک ایک محلے گلی گھر دکان پر ہر ایک ووٹ کیلئے تگ و دو کی، اور دن رات بھرپور محنت کی. جبکہ ہمارے امیدوار روایتی طریقہ کار کے تحت گاوں کے راجے ملک چودھری کے ڈیرے تک محدود رہے اور تنظیمی عہدیدار انکی خوشامد میں مصروف رھے. کیا پارٹی میں ایسا کوئی نظام نہیں کہ ہم ضلعی و تحصیل، سٹی کی سطح پر قابل اور کام کرنے والے لوگوں کی ٹیم تشکیل دے سکیں

(4) بلدیاتی اداروں کا غیر موثر ہونا
لوگوں کے زیادہ تر مسائل اس نوعیت کے تھے کہ اگر بلدیاتی نظام موثر ہوتا تو شاید حالات اتنے برے نہ ہوتے جتنے اب ہوئے ہیں. پینے کا صاف پانی، چھوٹی رابطہ سڑکیں، پختہ گلیوں و نالیوں اور صفائی جیسے مسائل اگر بلدیاتی ادارے موثر ھوتے تو حل کئے جا سکتے تھے. لیکن اب ان مسائل کا بوجھ بھی صوبائی حکومت کو اٹھانا پڑ رھا ھے اور لوگ تو انہیں ہی مورد الزام ٹھہرائیں گے کیونکہ بلدیاتی نظام کی غیر موجودگی میں اس وقت حکومت کی نمائندگی ایم این اے اور ایم پی اے ہی کر رھا ہے

(5). خود احتسابی یا جوابدہی کا عمل
خود احتسابی یا جوابدہی کا عمل نہ ہونے کی بدولت صاحب اختیار لوگ چاہے وہ عوامی نمائندے ہوں یا تنظیمی عہدیدار، سب شتر بے مہار ہو چکے ہیں. جب انہیں پتا ہو کہ انہیں پوچھنے، روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں تو ان لوگوں کے لہجے تکبرانہ اور مزاج میں فرعونیت آ جاتی ہے اور حلقہ نیابت انکی جاگیر بن جاتا ھے. اور یہ ایسا نشہ ھے جو عہدے کی مدت تک انہیں مدھوش کئے رکھتا ہے. ایسے میں بیچاری عوام تو ذلیل و خوار ہی ہو گی اور اپنے جائز حقوق کیلئے بھی ترستی سسکتی رہے گی. ان نمائندوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور ان کا جوابدہ ہونا بہت ضروری ھے. احتسابی عمل عوامی نمائندوں کی کارکردگی میں بہتری کے ساتھ ساتھ حکومت کی مجموعی کارکردگی میں بھی اضافے کا سبب بنے گا اور اس سے پارٹی کو نچلی سطح پر مضبوط کرنے میں بھی مدد ملے گی

یہ تھیں وہ چند گزارشات جو آپ سب کے سامنے اور پارٹی قائدین کے خدمت میں رکھنا چاہتا ہوں کہ خدارا اب بھی ہوش کیجیے اور قومی نوعیت کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقے کے بنیادی مسائل کی طرف بھی توجہ کریں. یہ تو صرف جہلم، شیر کا ناقابل تسخیر قلعہ سمجھا جانے والے حلقے کا حال ہے. باقی دیہی حلقوں کی حالت بھی اس سے ملتی جلتی ہی ہوگی

ابھی ڈیڑھ سال کا عرصہ باقی ھے اور یہ ایسے مسائل ہیں جو ضلعی سطح پر ذرا سی توجہ سے با آسانی حل کئے جا سکتے ہیں. ورنہ دیہی علاقوں میں احساس محرومی کے آتش فشاں میں آہستہ آہستہ پکنے والا پسماندگی و محرومی کا لاوا جب غصہ اور بغاوت کی صورت پھٹا تو پھر بہت دیر ہو جائیگی. اس ابلتے لاوے کا ہلکا سا نمونہ اس بار ہم جہلم و وہاڑی میں دیکھ چکے ہیں. اس لئے اس سے پہلے کہ یہ لاوا سب کچھ جلا دے اسے ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہے. ذرا سی توجہ اور رہنمائی کی ضرورت ہے

نواز شریف کا اک ادنی، مخلص مگر فکرمند کارکن
عادل کنول
الریاض. سعودی عرب

2 thoughts on “Paraishan Kun Nataij

  • September 14, 2016 at 11:47 am
    Permalink

    بہت اعلی عادل بھائی
    قائدین کے لیے بہت ہی عمدہ میسج

    Reply
  • September 14, 2016 at 7:31 pm
    Permalink

    کنول صاحب میں بھی آپکی طرح ایک عدنا سا کارکن ہوں آپ یقین کریں میرے شہر کھیوڑہ جس کی ابادی 80سے 90 ہزار افراد سے زیادہ ہے اور کم از کم 30 ہزار سے زیادہ ووٹ بینک ہے کا حال صوبہ سندھ کے کسی گنجان آباد علاقہ سے کم نہیں ایک سیول ہسپتال ہے نام کا جس میں ایک ڈاکٹر ہے وہ بھی ہاوس جاب والا جیسے ہی ہاوس مکمل ہو گی یہ صاحب بھی ہلے والےڈاکٹروں کی رح کسی بڑے ہسپتال میں چلے جائیں گے باقی میرے شہر کی یا میرے علاقے کی ترقی کا آپ اندزہ کر سکتے ہیں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.