Social Media Ke Doraemon

سوشل میڈیا کے ڈوریمون

سوشل میڈیا کی اہمیت سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کر سکتا اور آج کل کے جدید دور میں مردوخواتین اپنے دن کا کچھ حصہ سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں اور حالات حاضرہ کی آگاہی کے ساتھ ساتھ اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ حقیقت میں سوشل میڈیا خصوصا ٹویٹر ایک انٹرنیشنل ڈبیٹنگ کلب کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر نوجوانوں سمیت تقریبا ہر عمر کے لوگ موجود ہیں۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر سیاسی سماجی معاشرتی، ادبی نیز ہر طرح کے مسائل ڈسکس کئے جاتے ہیں۔ کچھ عرصے سے تو سیاسی جماعتوں نے باقاعدہ سوشل میڈیا ٹیمز تشکیل دے رکھی ہیں۔ ان سوشل میڈیا ٹیمز کو سیاسی پروپیگنڈے اور پارٹی پالیسی تشہیر کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ تو یہ سیاسی ٹیمز جذبات کی رو میں بہہ کر حقائق کو پس پشت ڈال دیتی ہیں اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر موجود خواتین بھی سیاسی جماعتوں کے میڈیا سیلز کا حصہ بن چکی ہیں اور اپنی اپنی سیاسی جماعت کی پالیسی کے مطابق پارٹی کی حمایت میں لکھتی نظر آتی ہیں ویسے زیادہ تر لوگ رضاکارانہ طور پر سیاسی پارٹیوں کے میڈیا سیل کا حصہ بنتے ہیں اور بہت ہی قلیل تعداد میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو باقاعدہ سے سیاسی جماعتوں کے پے رول پر موجود ہیں۔ پاکستان میں آپ کو سیاسی جماعتوں سے وابستہ سوشل میڈیا کے کچھ لوگ شدید تعصب کا شکار بھی نظر آتے ہیں جو پارٹی کی ہر جائز و ناجائز پالیسی کا دفاع اپنا فرض عین تصور کرتے ہیں۔ تعصب کی ان زنجیروں میں جکڑے ایسے ناعاقبت اندیش اشخاص بحث و مباحثے کے دوران خواتین سے الجھ کر توہین آمیز رویہ اختیار کرتے اور گھٹیا انداز گفتگو پر اتر آتے ہیں۔ بھلا ہو ٹویٹر اور فیس بک کا جس نیایسے جہلاء کیلئے بلاک ,میوٹ کا آپشن متعارف کروایا ہے۔ خیر سے پوری پاکستانی قوم آجکل عدم رواداری اور برداشت کے وائرس کا شکار ہے اور یہی وائرس سوشل میڈیا کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ہم سب جانے کیوں دوسروں پر اپنی مرضی اور سوچ کیوں تھوپنا چاہتے ہیں، کیوں یہ چاہتے ہیں ہر شخص ہماری نظر سے دیکھے، ہمارے ذہن سے سوچے اور اپنی سوچ کو ہماری سوچ کے تابع کردے۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے پورے معاشرے کو ایک عجیب ہذیان میں مبتلا کر رکھا ہے۔
ٹویٹر پرایسے بھی ٹوئیپس پائے جاتے ہیں جن کو میں سوشل میڈیا کے ڈورے مون کہوں تو زیادہ مناسب ہو گاجو کہ اپنے زیادہ فالورز ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو سلیبرٹیز تصور کرتے ہیں اور ایسے ایسے بلند و بانگ دعوٰے کرتے ہیں کہ بندے کی عقل دنگ رہ جاتی اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا کہ اگر ان صاحب یا صاحبہ کو پاکستان کی حکومت دے دی جائے تو یہ ڈوریمون کے گیجٹس کو استمعال کرتے ہوئے ملک کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیں گے کیونکہ بلند و بانگ دعوٰں کا عملی زندگی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اور شیخ چلی بننا دنیا کا آسان ترین کام ہے کہ نہ ہینگ لگی نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے عملی زندگی میں بھلے سے پتا لگ رہا ہو کتنے بیس کا سو ہوتا ہے لیکن ٹویٹر اور سوشل میڈیا پر ایک پرفیکٹ آئیڈل دنیا کے مشورے دے رہے ہوتے جیسے ڈورے مون کارٹون کے گیجٹس میں ہر مسلئے کا حل موجود ہوتاہے ایسے ہی ان کے پاس بھی مسائل کے حل کی گیجٹس ہمہ وقت دستیاب ہوتیں اور ٹوئیپس کو درپیش مسائل کا حل بتاتے۔ان سوشل میڈیا کے ڈورے مون کی ٹویٹس ان کے ذاتی کردارکی عکاس نظر آتی ہے اور اگروہ ایک خالی ٹویٹ بھی کر دیں توان کے فالورز اس پر بھی پذیرائی دیتےپائے جاتےہیں
سوشل میڈیا پر تنقید کا پہلو بہت اہم ہے تنقید ضرور ہونی چاہیے لیکن تنقید برائے اصلاح.نہ کہ تنقید برائے تنقید.شائد ان سوشل میڈیا کے ڈوریمونز کو ایسا لگتا ہے کہ اگر کوئی نیا آنے والا ہم سے آگے نکل گیا تو نجانے کونسا تمغہ حاصل کر لے گا جو ان کو نہیں مل سکا اس لئے میری رائے کیمطابق اس رحجان کو ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے اگر نیا لکھنے والا غلط لکھتا ہے یا اس کی تحریر میں بے ربطگی موجود ہے تو اس کی ضرور نشاندہی کریں لیکن اس کے لکھے کوسوشل میڈیا کے ڈوریمون یہ کہہ کر مسترد کردیتے ہیں کہ ہم یہاں چھ سال یا اس سے زائد عرصہ سے موجود ہیں تم کو چاردن ہوئے آئے کو تم کو کیا پتہ تھریڈ کیسے بنانا یا بلاگ کیسے لکھنا تم تو فیک آئی ڈی سے آئے ہویا پہلے کونسا اکاونٹ استمعال کرتے تھے اتنی جلدی ٹوئیٹر استمعال کرنا کیسے آگیا اس طرح کی ڈی گریڈ باتیں کر کے نئے آنے والے کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے کہ یہاں تو اور ہی مخلوق بیٹھی ہوئی ہے اور وہ بندہ احساس کمتری کا شکار ہواپنی صلاحیتوں کو زنگ لگوا لیتا کہ اگر میں نے کچھ بھی لکھا تو میرا مذاق اڑایا جائے گا ٹویٹر پر موجود ا کثر سینئر نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے جبکہ کچھ لوگ حوصلہ شکنی کرنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔یاد رکھیے سوشل میڈیا پر ہمارا حوالہ ہمارےا لفاظ ہیں اس لئے اپنا حوالہ معتبر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
ایک اور اہم مسلئہ جس کو لکھے بغیر میری اس تحریر کا مقصد مکمل نہیں ہو سکتا وہ یہ کہ سوشل میڈیا پر ہر عمر کی خواتین کی بہت بڑی تعداد بھی موجود ہے جن میں سے اکثر کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی بھی رکھتی ہیں لیکن ان کو کافی مسائل کا بھی سامنا ہے جبکہ کچھ سیاسی ٹویپس جن کا محبوب مشغلہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنا ہے سوشل میڈیا کے کچھ نام نہاد سلیبرٹیز اپنی چکنی چپڑی باتوں سے یا خواتین کی کسی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان سے دوستی یا تعلقات قائم کر لیتے کہ میرے فلاں پارٹی کے فلاں لیڈر کے ساتھ ذاتی مراسم ہیں یا میں تمہارا یہ مسلئہ حل کروا سکتا ہوں اس طرح باتیں کر کے ان کو اپنا گرویدہ بنالیتے اور بعدازاں ان خواتین کی ذاتی معلومات یا تصاویر کو ریکارڈ بنا کر یہ نام نہادسوشل میڈیا کے ڈورے مون اپنے مذموم مقاصد کے لیے استمعال کرتے ہیں اور کئی خواتین کو سوشل میڈیا ترک کرنا پڑتا یا پھر وہ کسی اور نام سے آ جاتیں ہیں اس کا تدارک بہت ضروری ہے میں سوشل میڈیا استمعال کرنے والی اپنی بہنوں سے بھی گزارش کروں گی کہ وہ بھی سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی معلومات کو عام کر نے سے گریز کریں تاکہ ان کو بھی کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑا اور وہ بھی اپنی پسندیدہ پارٹی کی پالیسیوں کا دفاع کرنے کے علاوہ خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس بارے اپنی آواز لیڈر شپ تک پہنچائیں.تاکہ ان خامیوں کی اصلاح ممکن ہو سکے
لہذٰا ہر سیاسی جماعت اپنے سوشل میڈیا پر موجود کارکنان کی سیاسی تربیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کا بھی بندو بست کریں تا کہ خواتین ٹویپس ایسے کچھ نام نہاد ڈورےمونزسے محفوظ رہ کر سوشل میڈیا کا آزادانہ استمعال کر سکیں ان تمام والینٹیرز کے ساتھ اپنی لاتعلقی کا اعلان کیا جائے جو گھٹیا زبان استعمال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے سیمینارز ہونے چاہئیں اور نئے آنے والوں کو اس کے قاعد و ضوابط کے متعلق بتایا جائے۔ نئے سائبر میڈیا بل کو حکومت مؤثر بنائے، اس کے کمپلینٹ سیل بنائے جائیں۔ آن لائن کمپلینٹ کے طریق کار کو مشتہر اور واضع کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *