Mazdoor

مزدور

ٹرن ٹرن ٹرن
وعلیکم السلام بیٹا، کیسے ہو؟
الحمدللہ ہم سب بالکل ٹھیک ہیں تم سناؤ کیسی گزر رہی ہے
نہیں بیٹا کسی چیز کی ضرورت نہیں
ہاں ہاں وہ بھی ٹھیک ہیں بس تمہیں یاد کر رہی تھیں میں ابھی بات کرواتا ہوں
بس بیٹا شکر ہے اب تو انتظار ہے تمہاری چھٹیوں کا یہ لو اپنی امی سے بات کرو

وعلیکم السلام بیٹا کیا حال ہیں؟
شکر ہے خدا کا سب ٹھیک ٹھاک، تم سناؤ؟
نہیں بیٹا ہم دونوں بالکل ٹھیک ہیں کوئی مسئلہ نہیں، بس تمہارا انتظار ہے کہ کب تمہاری چھٹی شروع ہو اور کب تمہیں دیکھیں
اور کھانا وغیرہ وقت پہ کھا رہے ہو یا اسی طرح لاپرواہی کرتے ہو؟
نہیں میرے بچے کچھ نہیں چاہیے بس تم خیر خیریت سے رہو اور چھٹی ملتے ہی آجاؤ اب تو ویسے بھی اے سی ہیں، یو پی ایس اور جنریٹر بھی ہے اسلیئے گرمی کا تو پتہ بھی نہیں چلتا گھر میں رہتے ہوئے
بیٹا اب تو کوشش کر کے اس دفعہ واپس ہی آجاؤ ویسے بھی سنا ہے اب وہاں بھی حالات برے ہی ہیں تو کیا ضرورت ہے پردیس کاٹنے کی اللہ کا شکر ہے کافی کچھ جمع جوڑ ہےاب یہیں پر ہی کچھ کام شروع کر لو، اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہو، ہماری آنکھوں کے سامنے رہو، بہن بھائیوں کے پاس رہو
اچھا یہ لو اپنی بیگم سے بات کرو میں کمرے میں بھجواتی ہوں فون

وعلیکم السلام کیسے ہیں آپ؟
میں بھی ٹھیک ٹھاک، بیٹا کھیل رہا ہے لاؤنج میں
بالکل ٹھیک ٹھاک اور سنائیں نوکری پہ سب ٹھیک ٹھاک ہے، آجکل تو بہت خبریں آرہی ہیں کہ بہت بندوں کو نکال رہے ہیں، میں تو بہت پریشان ہوں کہ اب جب کہ ہمارا کچھ تھوڑا بہت بننا شروع ہوا تو یہ مسئلے مسائل شروع ہو گئے ہیں، ابھی تو ہم نے اپنا بحریہ والا گھر بھی شروع کرنا ہے، بس آپ کوشش کر کے جڑے رہیں اور ہاں اس دفعہ چھٹیوں میں مت آئیے گا، سنا ہے چھٹی پہ گئے لوگوں کے کنٹریکٹ ختم کر دیتے ہیں، اس دفعہ ہم آپ کے پاس آجاتے ہیں، واپسی پہ دوبئی سے شادی کی شاپنگ بھی ہوجائے گی اب ظاہر ہے ہر کسی کو توقع ہوگی کہ امپورٹڈ چیزیں ہی ہونگی سب، یہاں تو گرمی اور لوڈشیڈنگ میں خوار ہی ہونا ہے اور پیسے تحفے علیحدہ میں، امی ابو نے تو بعد میں حج پہ آنا ہی ہے تب ملاقات ہوجائے گی
اور ہاں اس دفعہ آپکے سالا صاحب کو بھی آئی فون چاہیے کسی کے ہاتھ بھجوادیں،
اور ہاں وٹس ایپ تو چل ہی رہا ہوتا ہے اب کال پہ کارڈ نہ ضائع کیا کریں
ایک منٹ ٹھہریں اس سے بھی بات کروادیتی ہوں

السلام علیکم ابو
کیسے ہیں آپ؟
میں ٹھیک، پڑھائی بھی بالکل ٹھیک
جی ابو بالکل بھی تنگ نہیں کرتا
اس دفعہ آپ نے پلے سٹیشن فور لیکر آنا ہے
اللہ حافظ میں کرواتا ہوں بات

جی بھائی السلام علیکم
میں بالکل ٹھیک ٹھاک آپ سنائیں
جی شکر ہے اللہ کا سب اے ون
جی جی وہ بھی ٹھیک ہے، لیکن بھائی مجھے بوڑھوں والی کرولا پسند نہیں مجھے تو ہیوی بائیک لے دیں بس
اتنی مہنگی نہیں مہران سے بھی سستی ہے اب آپ کو بھی پتہ ہے آپکا سی ڈی سیونٹی والا دور تو ہے نہیں
اچھا، کب آنا ہے؟
پھر ایک نوٹ سیون بھی بھجوادیں انکے ہاتھ نیا نیا ہے ٹور بن جائیگی
یہ تو ہے آخر بھائیوں پہ ہی مان ہوتا ہے
نہیں اور کچھ نہیں
گارمنٹس تو میں صرف برینڈ کے پہنتا ہوں وہ سب یہاں سے بھی مل جاتے ہیں اور ویسے بھی فٹنگز وغیرہ کا مسئلہ نہیں ہوتا
دیکھ لیں ویسے گرمی تو ٹھیک ٹھاک ہوتی ہے اور لوڈشیڈنگ بھی وہاں تو اے سی بند ہی نہیں ہونے موج ہے آپ کی
امی کی فکر نہ کریں ہم سب ہیں نہ اور اب تو انٹرنیٹ نے سب فاصلے ختم کر دئیے ہیں
بس بالکل ٹھیک ٹھہریں میں کرواتا ہوں بہنا سے بات

السلام علیکم بھائی
کیسے ہیں؟
جی میں بالکل ٹھیک، پڑھائی بھی ٹھیک جارہی ہے
شکر ہے سب کچھ بالکل ٹھیک
کچھ خاص نہیں لیکن اگر کوئی آرہا ہے تو ایک آئی فون بھجوا دیں گولڈن والا
نہیں نہیں اور کچھ نہیں بس تھوڑی چاکلیٹس مگر ترکی والی نہیں سوئس
نہیں سب کچھ مل جاتا ہے یہاں سے وہاں سے تو ویسے بھی رضائیوں اور پردوں والے ڈیزائن ہی ملتے ہیں
نہیں نہیں اور کچھ نہیں
اپنا خیال رکھیے گا اللہ حافظ

6 thoughts on “Mazdoor

  • August 20, 2016 at 7:13 pm
    Permalink

    بہت خوب منصور بهائی
    کہانی اپنی اپنی لگی
    پہلے والے دو پیرا گراف چهوڑ کے
    خواہش ہے کہ کبهی ایسا بهی سننے کو ملے
    سلامتی کی دعا

    Reply
  • August 20, 2016 at 8:45 pm
    Permalink

    تشنگی ابھی باقی ھے حضور کہ مزدور کے دُکھ بھی لکھئیے۔
    یہ تو افسر شاہوں کے حالات ہیں ۔ جو گلف میں کافی بہتر ہیں ۔ وللہ روح کانپ جائے گی یہاں کے مزدور کے حالات سُن کر 55 ڈگری گرمی میں سات سُو سے نو سُو بیسک اور دو ڈھائی سُو ماہانہ اُورر ٹائم کا ڈال کے۔ تقریباً بارہ سُو۔ ایک وقت کی کھاتے ہیں دو وقت بھوکے۔ خود سوچیں جہاں پانی بھی مفت نہیں ملتا۔ چھٹی پر جانا ہو تو تین تین ماہ ترلے۔ ۔ وللہ

    Reply
  • August 20, 2016 at 10:58 pm
    Permalink

    talkh haqeeqat ….. subah ka aik chaay ka cup pia howa rat kay 8 baj gaay ye hay predes ki life 🙁

    Reply
  • August 21, 2016 at 12:12 am
    Permalink

    دکھ پردیسیوں کے

    Reply
  • August 21, 2016 at 3:28 am
    Permalink

    بیرون مُلک مقیم پاکستانی اپنے گھر والوں کے لئے پیسہ کمانے کی مشین ہوتے ہیں. باہر کی کمائی کا پیسہ ان کے لئے ” مال مفت” ہوتا ہے باہر کمانے والوں کے مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ ان کا احاطہ ایک مضمون میں نہیں ہو سکتا

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *