Amraz e Zanaana

امراضِ زنانہ

عنوان سے ہرگز یہ مراد نہ لی جائے کہ اس قسم کی بیماریوں کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو دیواروں پر لکھی ہوتی ہیں نہ ہی یہ مکمل طور پر خواتین سے منسوب ہیں، بلکہ زیر تبصرہ بیماریوں پر غالب زنانہ رنگ عنوان کی بنیاد ہے اور یہ کہ کئی دفعہ ان کا استعمال ایموشنل بلیک میلنگ کے لئے بهی کیا جاتا ہے یا جا سکتا ہے
اب اگر آغاز قدیمی نوعیت کے امراض سے کیا جائے تو سب سے پہلے سر درد جو کسی بھی وقت کسی کو بھی ہو سکتا ہے- زنانہ حوالہ اس کا وہ پس منظر جو بچپن سے لیکر ایک زمانے تک تواتر کے ساتھ دکھائی دیتا رہا کہ رشتہ دار یا جاننے والوں میں سے کوئی نہ کوئی خاتون کسی پٹی ، دوپٹے یا کپڑے وغیرہ سے سر باندھے لیٹی وقتاً فوقتاً ہائے کی آواز بلند کر رہی ہے- اوردوسروں کے ساتھ رویہ کہ گویا بیماری کے ذمہ دار وہی ہوں – آجکل شاید یہ ٹرینڈ کچھ کم ہو گیا ہے -اس کیفیت میں مبتلا البتہ کوئی مرد نظر سے نہیں گزرا
دوسرا مرض چکر آن ایک فقرہ جو خواتین سے اکثر سننے میں آتا رہا مردوں سے کبھی سننے میں نہیں آیا کہ ” مینوں چکر پئے آندے نیں ” یہ فقرہ بجائے خود زنانہ سی ساخت اختیار کر چکا ہے اور مرد اگر کہیں بهی تو اس میں ہیجڑانہ پن کا تاثر ملے گا
ہاں البتہ ایک مرض خالص زنانہ ہی سننے میں آتا رہا ہے اور وہ ہسٹیریا ہے سنتے تو اسکے متعلق یہ آئے ہیں کہ شادی (غالب امکان ہے کہ پہلی) کے ہونے پہ ٹھیک ہو جاتا ہے- اگر مرض مردوں کو ہوتا تو کبهی بهی پہلی شادی کے بعد ٹھیک نہ ہوتا بلکہ انہیں آخری دموں تک اس کے دورے پڑتے رہتے بشمول خان صاحب وغیرہ وغیرہ
اب دور جدید کا وہ مرض جس نے اس موضوع پر قلم اٹھانے پر مجبور کیا اور جس پر میرے مشاہدات سالوں پر محیط ہیں فشارِ خون (بلڈ پریشر) کم یا زیادہ ہونے کا ہے- حالات واقعات کے پیش نظر مرض کو بہت ملٹی پرپز پایا- اگرچہ یہ مرض سنجیدہ نوعیت اور زندگی سے متعلق خطرات کا حامل ہے لیکن میں نے لوگوں اور بالخصوص عورتوں کو بغیر تشخیص کے اس میں مبتلا ہوتے اور مبتلا ہونے کے بعد اس سے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے دیکھا- مثلاً اکثر لوگوں کو مختلف تفکرات (ڈپریشن یا ٹینشن) وغیرہ کی صورت میں خود سے ہی اندازہ ہونے لگتا ہے کہ انکا بلڈ پریشر بڑھ کر ان کے دل ودماغ کو متاثر کر رہا ہے- ایسے میں مرض کی نوعیت فرد جرم کی ہو جاتی ہے جسے مطلوبہ لوگوں پر عائد کر دیا جاتا ہے
لیکن اہم چیز جو میں نے نوٹ کی وہ یہ کہ کم لوگوں کو ہی پتا ہوتا ہے کہ نارمل بلڈ پریشر کتنا کم ہونے پہ کتنا اور زیادہ ہونے پہ کتنا ہوتا ہے – بہت سی خواتین عطائی ڈاکٹروں کے پاس جاتی ہیں جو اگر فشارِ خون کی پیمائش ٹھیک سے نہ بھی کر سکتے ہوں تو بهی وہ انکی کیفیات اور نفسیات بھانپتے ہوئے ان کی تشفی اس انداز سے کروا دیتے ہیں کہ وہ گھر جا کر بتا سکیں کہ ڈاکٹر نے ان سے کہا ہے کہ بلڈ پریشر بہت زیادہ ہے اور اسے آرام (بیڈ ریسٹ ٹائپ) اور ہر طرح کی ٹینشن سے دور رہنے کی بہت ضرورت ہے- یہ ہدایت یا تقاضہ بیوی کا خاوند، ساس کا بیٹوں اور بہووں اور بہووں کا سسرالیوں کے لیے ہو سکتا ہے- بلکہ کئی دفعہ نندوں کو ہدایت کرتے دیکھا ہے کہ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اماں یا ابا وغیرہ کو بالکل کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے ورنہ (کسی بھی حکم عدولی کی صورت میں) دل پر برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
بالکل حقیقی مشاہدہ ہے کہ گھروں میں کام کرنے والی بہت سی ماسیوں کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ خرابی صحت کی وہ تمام علامات جن کی بنا پر کام کرنے کو دل نہیں چاہتا “بلڈ” نامی بیماری کی وجہ سے ہوتی ہیں اس کے پریشر کو خاطر میں لائے بغیر ایک دن وہ یہ کہتے پائی جاتی ہیں کہ “اج تے میرا بلڈ بوت ودیا ہویا اے ” لیکن بالکل تھوڑے دن کے بعد انہی علامتوں کے ساتھ “کٹیا ہویا بلڈ “اسکی جگہ لے لیتا ہے جس کا علاج بعض اوقات عطائی ڈاکٹر سٹیرائیڈز سے بهی کرتے ہیں
بیماری لاحق ہونے سے لیکر اسکے اثرات اور ذہنی کیفیات کے ساتھ اسکا تعلق برحق مگر اس مرض کی وجہ بننے اور اضافہ کرنے والی اہم وجوہات پر توجہ ہی نہیں ہوتی جیسے کہ ورزش کی کمی یا خوراک اور رہن سہن کے دوسرے طریقوں میں خرابی وغیرہ
اب دیکھا جائے تو خواتین پر امراض کے خصوصی اثرات کی کچھ وجوہات ہیں – بچوں کی پیدائش اور پرورش وغیرہ کے مراحل میں پیدا ہونے والی غذائی کمیاں ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کرنے کا باعث بنتی ہیں-
نفسیاتی مسائل جنم لیتے اور چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے -اور ایک اہم بات یہ بهی کہ مردوں کی برابری کے عزم کے باوجود ہے تو صنف نازک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *