Cyber Crime Bill, Haan Ya Nahin

سائبر کرائم بل.. ہاں یا نہیں

انٹرنیٹ.. جو آج ہماری ذاتی زندگی، ہمارے کاروبار، جابز، تعلیم، معاشی اور معاشرتی تعلقات کا ایک اہم حصہ ہے
جس نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کرکے فاصلے اور بہت سے مسائل دور کر دیے

 مارشل لاء لگانے کی کوشش کی گئی لیکن ترک عوام نے اس بغاوت کی کوشش کو ناکام بنا کر تاریخ رقم کی
اس رات سوشل میڈیا نے ترک حکومت کی عوام تک رسائی اور ان کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا
لوگ صدر کے انٹرنیٹ کے ذریعے پیغام کے جواب میں سڑکوں پر نکلے اور جمہوریت کا دفاع کیا

سوشل میڈیا ہو، پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا… یہ سب مل کر کسی بھی کوشش یا تحریک کو کامیاب یا ناکام بنانے کی طاقت رکھتے ہیں

 مجھے یاد ہےکہ پاکستان میں جب ایک ڈکٹیٹر کی حکومت تھی اور اس ڈکٹیٹر  کی حمایت شدہ حکومت کا آخری سال تھا تب وکلاء تحریک شروع ہوئی تھی جس کی کامیابی میں میڈیا کا اہم کردار  تھا

لیکن جہاں ہم کسی بھی چیز کا مثبت استعمال کرکے آپ بہترین نتائج حاصل کر سکتے ہیں، وہیں اس چیز کا منفی استعمال  کرکے ہم منفی نتائج بھی حاصل کر سکتے ہیں

انٹرنیٹ یا Cyber Space کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے.. مثبت نتائج اور فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے ذریعے انتشار، شدت پسندی اور نفرت کی فضا کو  فروخت بھی دیا جا سکتا ہے اور جرائم پیشہ افراد کی مدد بھی

‏زیادہ دور نہیں جاتے ابھی پاکستان کے شہر کوئٹہ میں جو سانحہ ہوا اس کے بعد جہاں ایک طرف پوری قوم سوگوار تھی وہیں دوسری طرف ایک مخصوص طبقے نے جس طرح اپنے ذاتی مقاصد کی خاطر پروپیگنڈہ کرکے انتشار پھیلانے  کی کوشش کی وہ سب کے سامنے ہے

کچھ نامور صحافیوں نے وکلاء تحریک کے نمایاں چہرے عاصمہ جہانگیر کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا

تو دوسری طرف وزیراعظم پاکستان کی صاحبزادی کا فیک اکاؤنٹ بنا کر انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی
وزیراعظم کی پرانی تصاویر پوسٹ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ میاں نواز شریف اس دکھ کے ماحول میں اپنے وزیر کی سالگرہ منا رہے ہیں

جب ہم سب کو بحیثیت قوم متحد ہونا تھا، سوشل میڈیا کے فسادی عناصر جھوٹ کے ذریعے انتشار پھیلانے لگے

کچھ ایسا ہی حال الیکٹرانک میڈیا کا بھی ہے جو ریٹنگز کی خاطر بنا ثبوت یا تصدیق کے کسی کی کردار کشی یا جھوٹی باتوں کو پھیلانے سے گریز نہیں کرتے

آپ کو یاد ہوگا کہ اگست 2014 کا دھرنا جس میں ریاست اور معیشت کو چار مہینے  تک 35 پنکچر جیسی کہانیوں اور دھاندلی کے جھوٹے الزامات کی بناء پر یر غمال بنا کر رکھا گیا تھا
اور الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ناکام دھرنے میں جان ڈالنے کی کوشش کی جاتی تھی

پاکستان کے روشن مستقبل کے لئے ناگزیر پاک چین اقتصادی راہداری کو بھی پروپیگنڈا کے ذریعے متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی

اس سارے جھوٹے پروپیگنڈے اور منفی رویوں سے پریشان لوگ اکثر یہ شکایت کرتے تھے کہ حکومت ایسے عناصر کے خلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں کرتی؟

اے پی ایس سکول حملے کے بعد حکومت نے شدت پسندی اور دہشت گردی کے تدارک کے لئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ناممکن کو ممکن کر دکھاتے ہوئے پاکستان میں کروڑوں موبائل سمز کو رجسٹرکرنے کا عمل مکمل کیا
اور اس کے ساتھ انٹرنیٹ جرائم کے تدارک کا بل پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ کیا

اس بل کا نام سنتے ہی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ آزادی اظہار رائے پر پابندی لگانا چاہ رہی ہے

آزادی اظہار رائے آخر ہے کیا؟؟

کیا ‏آزادی اظہار رائے یہ ہے کہ آپ کو ہر طرح کی آزادی ہو کہ جھوٹ بول کر کسی کے بھی  کردار پر انگلی اٹھاؤ اور پروپیگنڈہ کرو؟

یا یہ کہ کسی کا اکاونٹ ہیک کر کے یا فیک اکاؤنٹ بنا کر انفرادی طور  پر کسی شخص  کو یا پوری ریاست کو نقصان پہنچاؤ؟

یا یہ کہ اپنی حیوانی جبلتوں کی تسکین کے لیے کسی کو بھی ہراساں کرو؟
کیا خواتین کی تصاویر بغیر اجازت پوسٹ کرکے کمنٹس اور تبصرہ کرنا بھی ہمارا حق ہے؟

کیا کسی کے بینک اکاؤنٹ، تعلیمی ادارے یا کمپنی ریکارڈز سے معلومات چرا کر کرمنل مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھی ہمارا حق ہے؟

تحقیقاتی صحافت Investigative Journalism کے نام پر جھوٹی خبریں، پرانی/جعلی تصاویر پھیلانا اور پروپیگنڈہ کے لیے سپیشل ویب سائٹس بنانا.. کیا یہ بھی ہمارا حق ہے؟؟

‏ہمارا سب سے  بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اگر کسی طرح کی کاروائی کی جائے تو بھی ہم اسے غلط کہتے ہیں اور نہ کی جائے تب بھی غلط کہتے ہیں

ہم سب تبدیلی چاہتے ہیں تو ہیں.. مگر تبدیلی کے عمل کا حصہ بننا نہیں چاہتے

‏‏‏‏‏چونکہ یہ بل مسلم لیگ حکومت کا تجویز شدہ تھا اسی لئے تحریک انصاف یا پیپلزپارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم نے اس کی مخالفت اور مسلم لیگی سوشل میڈیا ٹیم نے اس بل کی حمایت  میں  کافی ٹرینڈ کیے

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دونوں ہی فریقین کو اس بل کے نکات، اس کے فوائد یا نقصانات کے بارے میں کچھ زیادہ انفارمیشن نہیں تھی

اس بل کی مخالفت کی ایک وجہ یہ ہے کہ عام عوام کے لئے اس بل میں موجود الفاظ اور شقیں کچھ غیر واضح اور مبہم ہیں

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ لوگوں  کی یہ سوچ اور ڈر حکومت کی ناکامی ہے کہ وہ لوگ  کے شکوک و شبہات دور کرنے  میں  ناکام رہے
یہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذمہ داری تھی کہ وہ عوام کو اعتماد میں لیتی اور ان کے سوالات کا جواب دیتی

سائبر بل ہے کیا اور اس بل کا اطلاق کن لوگوں  پر پر ہوگا اس کے کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں

کسی فرد یا ادارے کے ڈیٹا اور معلومات تک رسائی یا اس کا غلط استعمال

انٹرنیٹ کے ذریعے دہشتگردی یا شدت پسندی کا فروغ یا مدد

کسی بھی قسم کی جعلی دستاویزات بنانا یا پھیلانا

الیکٹرانک ڈیوائسز کا غلط استعمال

کسی کی شناخت چرانا یا اس پر ذاتی حملے

ہیکنگ، سٹالکنگ یا سپیمنگ

ان تمام جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہو گی اور  سزا کے طور پر ان کو جرمانہ یا جیل یا پھر دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں

حکومت  نے سائبر بل لا کر ایک مثبت تبدیلی کے لئے پہلا قدم اٹھایا ہے
اب حکومت کو چاہئے کہ اس بل کو اور موثر بنانے کے لیے اقدامات کرے تاکہ کوئی بھی اس بل کا غلط استعمال نہ کرے

اس بل کا مقصد عوام کو سائبر کرائمز سے محفوظ رکھنا ہے. نہ کہ کسی کی آزادی اظہار رائے یا کسی جائز تنقید پر پابندی لگانا
عوام کو پریشان کرنا نہیں بلکہ پروپیگینڈہ اور انتشار پھیلانے والوں کو سزا دینا ہے

ہمیں چاہیے کہ اس بل سے گھبرانے کی بجائے اس بل کو سمجھیں

یہ بل تبدیلی کی طرف ایک قدم ہے
پہلے مرحلے میں یقیناً پرفیکٹ نہیں ہو گا، اس نئے قدم کو سنبھلنے کے لیے تھوڑا وقت دیں

تنقید برائے تنقید کی بجائے بل کی جن شقوں پر اعتراض ہے ان کی نشاندہی کر کے ان کی اصلاع کروانے میں اپنا کردار کریں

2 thoughts on “Cyber Crime Bill, Haan Ya Nahin

  • August 16, 2016 at 8:06 am
    Permalink

    Positive and Informative as always :))
    Keep it up!

    Reply
  • August 16, 2016 at 3:06 pm
    Permalink

    اچھی کاوش ہے. اگر بل کی clauses کا حوالہ بھی ہوتا تو اور بہتر ہو تا.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *