Gul-e-Sumbul Aur Amarbail

پری رخ جو  واقعتا پری رخ تھی شٌریف کے انتقال کے بعد جنگل سی بیابان اور صحرا سی اجڑی اجڑی رہنے لگی تھی اداسی ایک چڑیل کیطرح اس پر سوار رہتی،  ہجر نے اسکے وجود میں اپنے گہرے پنجے گاڑ رکھے تھے۔اس کے دل کی زمین برفاب ہو چکی تھی جیسے کوئی حس کام ہی نہ کرتی ہو۔۔۔شٌریف کی موت نے پہلے پہل تو اسے اتنا بے چین و برباد کیا کہ سانس ہی نہ آتی اور وجود سسکیوں کی نظر ہو جاتا۔ آہستہ آہستہ  بے چینی ، بےقراری، تڑپ، کسک کم ہوتی چلی گئیں۔ وقت سے بڑا مرہم شاید ہی آج تک کسی نے دیکھا ہ لیکن اداسی، کرب، درد آج بھی اسکے گرد اپنا گھیرا تنگ کئے رکھتے۔ ایک روز اماں بیگم جھنجھلا کر اسکے کمرے میں آئیں۔۔۔۔پری باہر نکلو دیکھو سدیس سے کھیلو کچھ بات کرو یوں خود کو ختم نہ کرو جانے والے واپس نہیں لوٹتے بیٹا انکی راہ تکنا بے سود ہے۔۔۔اماں بیگم کی اس بات پر پری سسک اٹھی ۔۔۔۔اماں بیگم وہ کہتے تھے پری ہم زندگی کے ساتھی نہیں بلکہ soulmate ہیں ہماری روحیں اللہ کریم نے پہلے سے کہیں ملا رکھیں تھیں اماں بیگم وہ آج بھی میری روح سے ملنے آتے ہیں۔ ارے بٹیا اس نے کہا اور تم نے مان لیا ایسا نہیں ہوتا جو چلا گیا بس چلا گیا۔۔۔۔ہاں خالہ بیگم میں نے مان لیا اس نے کہا اور میرا ایمان ہو گیا۔۔۔۔پری میرا بچہ یہ ہجر بڑی ظالم شے ہے میں نے کاٹا ہے تم اس سے نہ الجھو اس سے باہر آ جاؤ زندگی بہت خوبصورت ہے اسے جیو خود کو روگ نہ لگاؤ۔۔۔۔کیسی ماں ہیں آپ مجھے حکم دے رہی ہیں کہ آپکے مرحوم بیٹے کو بھول جاؤں ہجر سے جان چھڑا لوں زندگی کے رنگوں سے اپنا حسن سجاؤں۔۔۔۔۔۔ہاں میرا بچہ یہی کہا میں نے اماں بیگم نے پری کو چمکارتے و سہلاتے ہوئے اپنے ساتھ لگایا تو وہ اور تڑپ تڑپ کر رو اٹھی۔جب ذرا دل کا غبار نکلا من ہلکا ہوا تو پتھر جیسی آواز میں بولی اماں بیگم ۔۔۔۔۔جی پری رخ  (وہ اماں بیگم کے اس انداز پر چونک گئی شٌریف بھی تو اسکے نام کے پکارے جانے پر اسے بالکل ایسے ہی جواب دیا کرتا تھا (“جی پری رخ”) اماں بیگم ! ہجر جھیلنا کوئی معمولی بات نہیں ۔۔۔۔۔۔ہجر ایک ایسی امر بیل ہے کہ جس دل کے گرد چڑھ جائے اسے نیست و نابود کر کے رکھ دیتا ہے۔ اماں بیگم خاموشی سے اسکا دھواں دھواں چہرہ تک رہی تھیں وہ پھر بولی اماں بیگم میرے دل میں روز چھوٹے چھوٹے ہائی سنتھ کے مخملی  پھول کھلتے ہیں لیکن ہجر کی امر بیل انکو ہڑپ جاتی ہے ایک ایک پتی کے منہ سے شروع ہو کر جڑوں تک ہر خوشی ہر امید چوس جاتا ہے یہ امر بیل کا سلسلہ، میں روز اسے اپنی طاقت سے بڑا کر رہی ہوں یہ روز مجھے اپنی فطرت سے ختم کر رہا ہے۔۔۔۔۔اماں بیگم اسکی دیوانگی پر حزیں و ملول اس پر سورہ ملک دم کئے چلی جاتیں اور اسکے سونے کا انتظار کرتے کرتے خود سو جایا کرتیں۔

شٌریف بن عٌبید سید اسم بامسمی ایک شریف النفس اور نیک طبع نوجوان تھے ایک چارٹرڈ اکاؤٹنٹس فرم میں بطور internee کام کر رہے تھےابھی CA کا آخری برس چل رہا تھا کہ ایک روز دفترسے لوٹتے ہوئےانکی موٹر سائیکل کو ٹرک نے ایسی ٹکر ماری کہ وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔وہ اماں بیگم کے اکلوتے بیٹے تھےانکی بیوگی کا سہارا تھے اماں بیگم جو ایک گورنمنٹ سکول کی پرنسپل تھیں اس حادثے کے بعد پری میچیور ریٹائیرمنٹ لیکر تاریک الدنیا ہو گئیں البتہ انکی یتیم بھانجی اور اکلوتی بہو پری رخ جو اسوقت محض بائیس برس کی تھی اور ایم ایس فائین آرٹس کےپیپرز دیکر رزلٹ کے انتظار میں بیٹھی تھی اس نا گہانی پر نیم پاگل سی ہو گئی۔ جنازہ جب گھر کے صحن میں رکھا تو اماں بیگم نے المار ی کے اوپری خانے سے مصحف اٹھایا بیٹے کے سرہانے مونڈھا(موڑھا) رکھوا خاموشی سے سورہ البقرہ اور سورہ العمران کی تلاوت کرنےمیں مشغول ہو گئیں البتہ پری کی دل دوز چیخوں نے محلے کے ان در و دیوار کو بھی ہلا دیا جنہوں نے کبھی اسکی ہنسی کی آواز تک نہ سنی تھی۔اٹھائیس سالہ شریف بن عبید سید کا جنازہ اٹھا تو کوئی آنکھ نہ تھی جو اشکبار نہ ہو بمشکل ایک برس پہلے تو انہیں در و دیوار نے اسے دلہا بنے گھوڑی چڑھے دیکھا تھا اور آج وہ چار کاندھوں پر لدھ کر اپنی آخری منزل کیطرف رواں دواں تھا۔اماں بیگم کی آنکھیں غم سے پتھرا چکی تھیں اور پری رخ تو مانو اپنے ہوش گنوا بیٹھی تھی محلے کی بیبیاں اسے پکڑ پکڑ برآمدے میں لگی مسہری پر لٹاتیں اور وہ پاگلوں کیطرح اٹھ اٹھ کر باہر کے دروازے تک دورڑتی اور پوری قوت سے چلاتی شٌرِیف مت جاؤ مجھے بھی ساتھ لے جاؤ میں کیسے رہوں گی تمہارے بغیر۔۔۔۔پھر اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتی اورکہتی دیکھو بے بی تمہارے بابا ہمیں چھوڑ کر جارہے ہیں اسکی ایسی باتیں سنکر سبھی کے دل بھر بھر آتے لیکن اسکی جان کو قرار نہ آتا۔آہستہ آہستہ دن گزرتے رہے چالیسویں والے روز شٌریف کا بیٹا پیدا ہوا تو اماں بیگم نے اسکا نام اسکے باپ اور دادا کے نام کے وزن پر سٌدیس رکھا ۔۔۔بچہ دنیا میں آیاتو اس دن اماں بیگم نے اپنی چپ توڑ دی اور اس ننھی جان کو گود میں لیکر سسک اٹھیں۔

وقت سبک رفتاری سے کچھ اس ڈھنگ سے گزرا کہ کہ چار برس تک کوئی ہلچل تو کیا جنبش تک نہ ہوئی۔ ہوتے ہوتے سدیس چار برس کا ہوا تو اسے سکول داخل کروانے کا مرحلہ آیا۔اماں بیگم کسی طور پر اسے تنہا بھیجنے کو راضی نہ تھیں تو پری نےسدیس کے ساتھ ہی سکول جوائین کیاوہ فائین آرٹس کی ایک بہترین طالبہ رہی تھی اسکے آرٹ ورک کے پیش نظر اسکو فورا ہی نوکری مل گئی۔ نوکری کیا تھی سمجھو پری کے اندر چھپی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ تھی ۔پرنسپل ایک شفیق خاتون تھیں اور فائین آرٹس ان کا بھی مضمون تھا شاید اسی لیئے وہ پری کے اندر چھپے ٹیلنٹ کی قدردان بھی تھیں انہوں نے اپنی ایک آرٹ گیلری بنا رکھی تھی جہاں شام میں ہر روز چار گھنٹے وہ amateur artists کو کلاسز دیتیں۔ پری تم شام میں آرٹ گیلری آرہی ہو؟ ایک دن مسز مشتاق نے عینک کے اوپر سے پری کو دیکھتے ہوئے کہا۔ لیکن میڈم پری نے منمناتے ہوئے انکار کا ارادہ کیا۔لیکن ویکن کچھ نہیں پری میںں چاہتی ہوں تم زندگی کیطرف لوٹ آؤ اپنے اور اپنے سدیس کیلیئے زندگی کو اسکے پورے حق کیساتھ جیو اور خاص کر جو ٹیلنٹ تمہارے اندر موجود ہے اس کا اظہار کرو اسے اپنے اندر قید نہ کرو اس سے مزید گھٹن بڑھتی ہے۔ میڈم رنگ میرے لیئے اجنبی و نامحرم بن چکے ہیں مجھے انکو چھونے سے خوف آتا ہے پری نے بے ساختہ امڈ آنے والے آنسؤں کو روک کر گھٹتی ہوئی آواز میں اپنی بات بمشکل مکمل کی۔۔۔۔۔سنو پری! میڈم نے اسکی آنکھوں میں شفقت سے جھانکتے ہوئے کہا۔۔۔ان رنگوں اور اسی خوف کو اپنی طاقت اپنی strength بنا لو اور وہ جوکچھ تمہیں سالوں سے بوجھل کئے دے رہا ہےاپنے رنگوں سے اسے زبان دو ۔ پری! اظہار کائینات کی سب سے بڑی سچائی ہے اس کائینات کا ایک ایک منظر اس کے خالق کے اظہار کی صورت اپنے ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔

Pari this whole universe is sheer an expression, and we as an artist are mere imitating it while expressing whatever we have inside or have been inspired by… We are blessed souls as this inspiration comes naturally and instinctively we have no power or control to seize it or to repel it so let it be……..

پری نے باقاعدگی سے آرٹ گیلری جانا شروع کیا تو اسے زندگی پھر سے خوب صورت لگنے لگی تھی ۔۔ مسز مشتاق ہمیشہ اس کا حوصلہ بندھاتیں اسکی بنائیں تصاویر کو اپنے احباب اور اور شاگردوں کو دکھاتیں۔ جب اسکی پہلی تصویر مکمل ہوئی تو وہ ہواؤں میں اڑ رہی تھی جیسے ایک ماں بچہ جن کر خود کو مکمل سمجھتی ہے فخر و انبساط سے جھوم جھوم جاتی ہیں اسے اپنے گرد موسیقی سنائی دیتی اور مسرت محو رقص ہوتی، وہ پھولوں کی چٹک پٹک اور کلیوں کی ادائیں سمجھنے لگتی ۔ ۔۔۔۔۔

پری تمہاری پینٹنگز کیسی چل رہی ہیں کیا تمہیں لگتا ہے کہ تم اپنا خیال بخوبی کینوس پر اتار پاتی ہو؟ مسز مشتاق نے ایک روز پری کو اپنے کمرے میں بلا کر اسے پوچھا تو پری نے چونک کر ان کو  دیکھا اور بہت آہستگی سے گویا ہوئی_پہلے پہل تو رنگ ان کا امتزاج سکیچنگ سوچ ،اسکا اظہار سبھی کچھ بہت مشکل سا لگاکبھی تو سکیچ بنا کر پھاڑتی اور کبھی رنگوں کو ہی مسترد کر دیتی۔۔۔اور کبھی اندر ہی اندر ڈر جاتی کہ کہیں یہ خیال کسی نے دیکھ لیئے تو میری پاکیزگی اور بیوگی پر سوال نہ اٹھ جائیں کہ میری ہر تصویر کا موضوع ایک نامکمل عوت ہی ہوتی ہے۔۔میں نے کئی بار اس خیال سے اپنی جان چھڑائی لیکن یہ کسی نہ کسی روپ میں میری تصویروں میں دکھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔پری تم وہی پینٹ کرو جو تمہارے من میں ہے تم دنیا کو کبھی خوش نہیں کر سکتیں تو ایک ناممکن کام کیلیئے اپنے اندر کی آواز کا گلا گھونٹنا بھی دانشمندی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔وقت کے ساتھ ساتھ اسکے برش اور خیال دونوں میں نکھار آتا گیا اسکی روح جو ایک آسیب زدہ مکان کی طرح اس خیال و خوف کی چنگل میں پھنسی تھی کہ لوگ کیا کہیں گے اسے بھی کسی حد تک قرار آ چلا تھا ایسا لگتا تھا کہ وہ خوف و ڈر کے سبھی بھوت آہستہ آہستہ اسکی روح سے نقل مکانی کرتے چلے جارہے ہوں اور ہر نئی تصویر ایک مرہم کی طرح اسکے زخموں کا مداوا بنتی جا رہی ہو۔

ایک سال بعدجب یہ تصاویر نمائش کیلیئے رکھی گئیں تو مسز مشتاق نے وہاں میڈیا اور آرٹ سکول کے بڑے نام بھی مدعو کئے۔شٌریف کے انتقال سے آج تک پانچ سال میں یہ پہلا موقعہ تھا جب پری کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ اس نے چار سال خود کو اپنے خول میں قلعہ بند کئے رکھا اپنے ہنر اپنے فن کو سات پرودوں چھپا ئےرکھا لیکن آج اس کی سوچ اس کی فکر اس کے خواب اس کے خیال سبھی رنگوں کا لبادہ پہنے کسی نہ کسی تصویر کی صورت اس گیلری کے چہار جانب سجے تھے۔پری نے اپنا دل،روح جان غرض ہر جذبہ کھول کر ان تصویروں میں رکھ دیا تھاوہ محض رنگوں کا مجموعہ یا چند لکیریں نہ تھیں بلکہ یہ تو اسکی ہڈ بیتیاں تھیں۔اس کےحسن خیال و فنِ جمال کی تعریفیں اسےمسحور کئے دے رہی تھیں۔یہ پری کی پہلی آرٹ ایگزیبیشن تھی اور ہال لوگوں سے بھراہواتھا، سبھی مہمانوں نے پری کے فن پاروں کی دل کھول کر تعریف کی احساسِ تشکر و مسرت سے اسکی آنکھیں بھیگ بھیگ جاتی تھیں۔تعریف کسی بھی فنکار کیلیئے ایسے ہی کام کرتی ہے جیسےوینٹی لیٹر پر لگےمریض کو آکسیجن سلنڈر بروقت کمک پہنچایا کرتا ہے۔یہ دن پری کیلیئے بہت بڑا دن ثابت ہوا اگلے روز شہر کے بڑے ااخبارات میں اس آرٹ ایگزیبیشن کی کوریج اور تصاویر چھپیں تو جن چند نئے آرٹسٹس کو سراہا گیا ان میں ایک نام پری کا بھی تھا۔

اگلے روز سکول سے واپسی پر وہی بہت فرحاں و شاداں گھر کیطرف لوٹ رہی تھی سدیس کا ہاتھ تھامے سڑک پر چل رہی تھی کہ اچانک دو موٹر سائیکل سوار پیچھے سے آئے اور اسکے ارد گرد منڈلانے لگے۔وہ یکدم گھبرائی اور سدیس کو اسکے بستے سمیت گود میں اٹھا لیا جنوری کی سردی کے باجود اسکے پسینے چھوٹ گئے۔۔۔۔۔۔وہ دونوں لڑکے اپنی مکروہ آواز میں قہقے لگاتے اس پر جملے کستے جارہے تھے۔

پری باجی اپنے بھائیوں کی۔۔۔۔بلکہ سارے کے سارے محلے کی ۔۔۔۔آئیے ہم آپکو چھوڑ دیں –

اوہ اچھا تو اب ہمارے ساتھ بیٹھنا بھی گوارا نہیں اور وہ جو کل اپنے کچھ لگتے سگتوں کے ساتھ چپک چپک کر تصویریں اتروائیں وہ کیا تھا۔۔۔۔تب کہاں گئی تھی یہ شرافت جو آج بہت ٹپک رہی ہے –

نہیں یار انکے ساتھ جو مزا ہے وہ ہم میں کہاں باجی تو انکے ساتھ ہی جائیں گی کیوں باجی دوسرے لڑکے نے بالکل اسکے پیر کی قریب موٹر سائیکل روک کر کہا۔۔۔۔ –

اف شٌریف مجھے چھوڑ کے نہ جاؤ میں مر جاؤں گی ہاہاہاہا ۔۔۔دیکھ سالی مری تو نہیں اس نے تو ایک بدلے دس شریف ڈھونڈ لیے۔۔۔ –

سنا ہے آجکل آپ پینٹنگز بنانے لگی ہیں اور وہ بھی بہت بولڈ بیوٹیفل نیوڈ اینڈ نیکڈ پھر اسے اپنے نام نہاد شاگردوں اور منہ بولے لاڈلے بھائیوں کو بھی دکھاتی ہیں –

بیغیرت عورت تجھے شرم نہیں آتی عورتوں کے جسم کو تراش کر مردوں کو دکھاتی ہے تجھے اللہ کا ڈر نہیں ۔۔۔۔ –

تجھے چاہے جانے ، سراہے جانے اور غیر مردوں کے منہ سے اپنی تعریفیں سننے کا نشہ ہو چلا ہے مردود عورت –

ایک چپ ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا ۔اب وہ باقاعدہ کھڑے ہو کر اسکی گوشمالی کر رہے تھے وہ دونوں بائیکس کے درمیان پھنسی کھڑی تھی سدیس خوف سے سہم چکا تھااور وہ بھی بری طرح ہراساں ہو چکی تھی۔ –

 میں اپنی  بنائی تصاویر میرے سب سٹوڈنس کو دکھاتی ہوں صرف لڑکوں کو ہی نہیں پری نے ڈرتے ڈرتے اپنی صفائی پیش کی۔ –

سالی تو صرف  لڑکے نہیں لڑکیاں بھی خراب کر رہی ہے۔۔۔ –

جس وقت تجھے جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا تب تجھے سمجھ آئے گا ۔۔۔ –

تجھے تو ذلیل کر کے اس محلے سے نکالنا ہو گا دانت کچکچاتے ہوئے اس پہلے لڑکے نے اسے مزید سہما دیا۔ –

بھائی یہ ذلیل عورت بیوہ ہوکر سرخی پوڈر تھوپ کر جاتی ہے۔ –

ہاں بتا کس باپ کو دکھانے جاتی ہےاپنا حسن یہ تیرے بھیگے ہونٹ ، گورا چٹا دمکتا چہرہ ، یہ کاجل بھری آنکھیں  –

بھائی دیکھ سالی کپڑے کیسے پہننے لگی ہے۔۔۔۔ –

ہاں بول یہ چست پاجامے یہ چھوٹی قمیضیں اور یہ دکھاوے کی چادریہ کیاگندگی پھیلا رکھی ہے تو نے –

خدا کیلیئے چپ کر جاؤ۔۔۔مجھ پر بلاوجہ ایسے جھوٹے الزام مت لگاؤ –

 بے شرم عورت آج ہم تجھے تیری اوقات بتا کر اور آئینہ دکھا کر ہی جائیں گے –

اس سے پہلے کہ پری وہاں بے ہوش ہو کر گرتی مسز مشتاق کی گاڑی وہاں سے گزری تو اسے دیکھ کر وہ لڑکے وہاں سے فرا ہو گئے۔۔۔وہ پری کو کسی نہ کسی طرح گھر لائیں گھر پہنچتے پہنچتے اسکی حالت دگرگوں ہو چکی تھی کئی روز وہ بستر میں منہ چھپائے ذلت اور شرم کے ملے جلے احساسات کے باعث کمرے میں ہی چپکی پڑی رہی کہ ایک روز اماں بیگم نے سدیس کو سلا کر اس سے پوچھ ہی لیا کہ اس روز کیا ہوا تھا۔۔۔وہ آہستہ آہستہ اماں بیگم کو اپنے سر عام رسوا ہونے کی کہانی سناتی گئی اور اسکی سسکیاں بتدریج بڑھتی گئیں۔جب وہ رو رو کر تھک گئی تو اماں بیگم اسکے قریب آئیں اسکی پیشانی کو چوما اور وہیں بستر پر بیٹھکر اسکا سر اپنی گود میں رکھااور بہت آہستگی سے بولنا شروع ہوئیں۔

“پری! تمہیں یاد ہے پانچ برس پہلے جب شٌریف ہمیں اچانک بنا بتائے اکیلے چھوڑ کر اگلے دیس سدھارا اور تم پورا پورا دناسکےہجر میں جلے پاؤں کی بلی کیطرح بے کس و لاچار پھرتی تھیں۔۔۔۔تبھی ایک روز تم نے کہا تھا کہ اماں بیگم ہجر ایک ایسی آکاس بیل (امر بیل) ہے جو سنبل کے مخملی پھولوں کا رس انکے سروں سے جڑوں تک چوس جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔پری نے اپنا سر اٹھا کر انکی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔وہ پھر گویا ہوئیں انکی آواز ایسا لگتا تھا کسی کنویں سے آ رہی ہے ۔۔۔۔۔پری یہ جو عورت ذات ہے ناں یہ تمہارے ان سنبلی مخملی پھولوں جیسی ہےاس کی فطرت میں لکھا ہےاس کی گھٹی میں پڑا ہےکہ وہ اپنے سے وابستہ ہر رشتے کو اپنی طاقت و قربانی سے پروان چڑھائے اسکے گرد چڑھی ہر رشتے کی امر بیلیں اسکے رس کو چوستی رہتی ہیں وہ مسلسل شکست و ریخت کی زد میں رہ کر بھی اپنے رشتوں کو ٹوٹنے نہیں دیتی۔۔۔اماں بیگم آج اتنا زیادہ بول رہیں تھیں کہ پچھلے پانچ برس میں کسی نے انکو اتنا بولتے ہوئے سنا نہ تھاپری سکتے کی کیفیت میں انہیں سنتی چلی جارہی تھی۔۔۔۔۔۔۔پری رخ! سنبل کا یہ مخملی پودا عورت کی فطرت کے عین مطابق ہے اس پودے کی تحقیق میں نے اپنی جوانی میں بانو قدسیہ کا ناول امر بیل پڑھکر کی میں اسے جتنا پڑھتی گئی اور جانتی گئی یہ اتنا ہی مجھے اپنی ذات کا تعارف لگتا چلا گیا۔

فارسی میں اسےسنبل کہتے ہیں یہ بنا اپنے تنےیا ناڑ کے پروان نہیں چڑھتا یعنی پیٹھ بھاری نہ ہو تو ڈھ جاتا ہے ایسے ہی جیسے ایک عورت بنا باپ، بھائی اور شوہر کے ڈھے سی جاتی ہے۔ سنبل کا یہ پودا خزاں میں بو دو تو بہار تک جوانی پہ آ جاتا ہے جیسے عورت ذات جلد ہی سمجھداری کے دور میں داخل ہو جاتی ہےاسے سخت دھوپ اور حرارت مرجھا کر بلکہ ختم کر کے رکھ دیتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے کوئی بھی نازک عورت زمانے کے تھپیڑے سہنے سے اندر تک مر جاتی ہے۔۔جب یہ جوبن پر آتا ہے تو اسکی دلفریب اور تیز مہک دور دور تک پھیلتی ہے اور سبھی کو مسحور کر دیتی ہےبالکل ویسے ہی جیسے عورت کا جوبن اور شباب ہر نظر اور ہر دل پر اثر کرتا ہے۔۔۔اس کی اچھی خوبی یہ ہے کہ اسے گملے میں رکھو یا پانی میں چھوڑ دو تالاب میں ڈالو یا کیاری میں سجاؤ یہ ہر جگہ ہر ماحول میں بہت آسانی سے رچ بس جاتا ہے اور رب کائینات نے عورت کے مزاج میں بھی ایسی ہی تابعداری اور شکرگزاری رکھدی ہے کہ وہ خود کو ہر رنگ میں رنگ لیتی ہے ہر سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔ اسکی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اسکی قمقمے نما گانٹھیں جن سے اسکی شناخت پھوٹتی ہے اپنے اندر کچھ ایسا ہلکا سا زہر نما مادہ رکھتیں ہیں کہ اسے چھونے سے لوگ اجتناب کرتےہیں اور بیٹا یہ وہ خوبی جو ہم سب عوتوں کو سیکھنی چاہئیے یعنی اپنی حفاظت خود کرنا ، اپنی عزت خود کرنا، اپنے کردار کو خود بچانا اپنا رویہ ایسا رکھنا کہ اسکے ڈر سے کوئی چھونا یا بات کرنا تو دور ہمارے بارے میں غلط سوچنے سے پہلے بھی دس بار سوچے۔۔میری بچی تم نے اپنی حفاظت خود کرنی ہے تم اپنی تکریم کی علمدار خود ہو تم نے اپنے تقدس کی مورچہ بندی بھی خود ہی کرنی ہے تم ایک بنفشی مخملی نازک گلِ سنبل مگر اپنے اندر حیا، وفا، صبر،قربانی اور وقار کا مادہ سمیٹے، سجائے اور بسائے ہوئے ۔۔۔۔۔تم  ہمت و عزم کا استعارہ ہو پاکیزگی اور شرافت کا ستارہ ہو۔۔۔۔۔اٹھو اور ایسے اٹھو کہ تمہاری عظمت مثال بن جائے ،سنگ میل بن جائے ، روشنی کا مینار بن جائے

اماں بیگم اس کی پیشانی چوم کر جا چکی تھیں اور اسے ایسا لگ رہا تھا کہ جاتے جاتے وہ اسے ایک علم تھما گئی ہیں ایک ورثے ایک میراث کا امین بنا گئی ہیں جس کے نوادرات اور باقیات اسے آنے والی نسلوں کو منتقل کرنا ہیں۔۔۔اس نے مسکرا کر اپنی اس نئی ذمہ داری کے بارے میں سوچا اور تکیے پر سر رکھ کر سکون سے سو گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *