Investigative Journalism

ایک وقت تھا جب صحافت کو ایک مقدس پیشہ اور فرض سمجھ کر ادا کیا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں مولانا ظفر علی خان کی ڈالی ہوئی داغ بیل ان کے بعد بھی جاری رہی اور حمید نظامی، چراغ حسن حسرت اور شورش کاشمیری جیسے اعلی درجے کے لکھنے والے اور ،سچ کے لئے ڈٹ جانے والے اکابرین  مشعلِ حق تھامے رہے۔ ان اکابرین کے بعد بھی ارشاد احمد حقانی، مجید نظامی، عباس اطہر اور بے شمار قابل لوگ موجود رہے جو اپنی انسانی کمزوریوں کے باوجود حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے سے کبھی نہ چوکتے چاہے کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔ ہمارے یہ قابل فخر اکابرین خبر کی صداقت جانچنے کیلیے کسی بھی حد تک جاتے اور خبر کے غلط ہونے کی صورت میں نہ صرف بر ملا معذرت شائع کرتے بلکہ متاثرہ فرد سے بھی معافی کے طلب گار ہوتے۔ یہ تھے وہ بنیادی معیارات جن میں ہماری اعلی صحافتی روایات پروان چڑھیں اور بڑے بڑے ڈکٹیٹر کو جھکنے پر مجبور کرتی رہیں۔
افسوس کا مقام ہے کہ دور حاضر میں صحافت ایک مقدس پیشے کی بجائے ایک پراپیگنڈہ مشین کا رخ اختیار کر گئی اور چند نوواردئیے اپنے نام کے ساتھ سینئیر کا لاحقہ لگا کر اپنے اپنے سیٹھوں کے بغل بچے بنے نہایت دیانت داری سے پروپیگنڈہ کرنے اور عوام الناس کی گمراہی کا فریضہ انجام دینے لگے۔
اس سلسلے میں اپنی چورن بیچنے کیلیئے نام کی ساتھ سنیئیر کے ساتھ ساتھ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ انویسٹیگیٹو جرنلسٹ یعنی تحقیقاتی صحافی لکھتے ہیں تا کہ بھولے بھا لے عوام ان کی بات پر آنکھ بند کر کے یقین کر لے اس ضمن میں حقیقت یہ ہے کہ یہ نام نہاد صحافی اور معاشرے میں اصلاح کے علم بردار تحقیق اور تفتیش کرنا تو در کنار تحقیق اور تفتیش کے بنیادی اصولوں سے بھی نا واقف ہیں۔اس بات کی مزید تصدیق کیلیے ہم نے رواں سال کے ماہ فروری میں ایک کیس سٹڈی کی، اس کیس سٹڈی کے سلسلے میں ہم نے جو اقدامات اٹھائے وہ درجہ بہ درجہ ذیل میں درج ہیں

فرورئ 27, 2016
۔ ایک فرضی نام عبدالحئی بابر تخلیق کیا۔ اور اس کردار کے ارد گرد اس کا پیشہ ورانہ ماحول اور وال سٹریٹ جنرل کے طرز پر وال سٹریٹ مرر کے نام سے فرضی جریدہ تخلیق کیا۔
loadimage2

۔ گوگل پر ایک عدد مناسب تصویر کی تلاش میں ایک بھارتی احتجاجی صحافی کی تصویر اٹھائی۔

۔ ایک کہانی کا پلاٹ تیار کیا۔ کہانی کے جزئیات مکمل کئیے۔ اس بات کا خیال رکھا گیا کہ کہانی میں سنسنی ہو اور حکومت پر بالخصوص سنگین الزامات عاید ہوسکیں. ذکر کیا کہ کس طرح چائینہ پاکستان کی اکانومی تباہ کرنے کے درپے ہے. کہانی میں دو عدد فرضی تمغے ہلال بسالت اور  تمغہ حسن پاکستان کا بالخصوص ذکر کیا۔
۔ ورڈ پریس پر درج ذیل اکاونٹ بنایا
ahbabar.wordpress.com

Wordpress1

کہانی کا عنوان ’اونج ٹرین ۔ پس پردہ محرکات ’ رکھا اور کہانی  مکمل  کرکے اردو اور انگلش تراجم کے ساتھ اپ لوڈ کر دی۔ اکاونٹ اب بھی ایکٹو ہے۔ تحریر کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔

twitteracc1
۔ ٹویئٹر پر عبدالحئی بابر چیف رپورٹر وال سٹریٹ مرر کا درج ذیل فرضی اکاونٹ بنایا۔ اکاونٹ اب بھی ایکٹو ہے۔
@ahbabar_wsm
۔ ورڈ پریس اکاونٹ کی کہانی کا لنک شامل کر کے اور مختلف اینکرز کو ٹیگ کر کے ٹویٹس کرنا شروع کر دیا۔

فروری 28, 2016
۔ دوستوں کے ایک گروپ کو درخواست کی کہ مذکورہ ٹوئیٹر اکاونٹ اور اس پر ذکر کی گئی کہانی کو زیر بحث لائیں۔
۔ میری ٹویٹس اور اس پر دوستوں کی بحث چند گھنٹے جاری رہی۔
نتیجہ
۔ساٹھ فیصد عوام نے دیکھتے ہی ہنسی میں اڑا دیا۔
۔بیس فیصد عوام نے اسکو ایک سیریس مسئلہ قرار دیا اور مختلف اینکر حضرات کو ٹیگ کر کے حکومت کے خلاف فوج کی طرف سے سیریس ایکشن پر زور دیا۔
۔ دس فیصد لوگوں نے بات کی تصدیق کئیے بغیر کوئی ری ایکشن دینے سے انکار کیا۔
۔دس فیصد عوام نے کسی قسم کا کوئی ری ایکشن نہیں دیا۔
۔ ایک سینئیر صحافی نے بغیر کسی تحقیق اور تصدیق کے میری کہانی کو حوالہ بنا کر ٹویٹ کر دی کہ حکومت کا ایک میگا کرپشن سکینڈل بے نقاب ہو گیا ہے اور انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بھی لکھ ڈالا کہ چائینیز پاکستان کی اکانومی تباہ  کرنے کے درپے ہیں۔ در حقیقت ان سینیئر صحافی صاحب کا واحد ’ذرائع’ میری من گھڑت کہانی تھی۔ سینئیر صحافی صاحب نے میرے بارہا رابطہ کرنے کی کوششوں کے باوجود تصدیق کیلئیےمجھ سے قطعًا کوئی رابطہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
۔ یہ سب کچھ فروری میں انجام دیا گیا۔ تین ماہ سے زائد وقت گزرنے کے باوجود سینئیر صحافی صاحب کی مذکورہ ٹویٹ کی کبھی تردید نہیں کی گئی اور نہ ہی ٹویٹ ڈیلیٹ کی گئی۔ ٹویٹ آج کے دن تک موجود تھی۔

Asadkharal1

آ خر میں عبدالحئی بابر کی طرف سے مذکورہ سینئیر کا شکریہ ادا کیا۔

AsadKharal2

یہ ہے احوال وطن عزیز میں جاری انویسٹی گیٹو جرنلزم اور سیٹھوں کے بغل بچے نام نہاد صحافیوں کا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *