Qabr

محمدؐ ہی نام اور محمد ؐ ہی کام۔ علیک الصلوٰۃ ،علیک السلام
قبر۔۳
ڈاکٹر محمد داود مجوکہ۔جرمنی
انسان تو انسان عرب کے صحراء میں دن کو کسی چرند پرند کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی ۔وہ بھی شدید گرمی کے پیش نظر کوئی گوشہ عافیت وڈھونڈتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ایک دن تھا۔ ہر طرف ہو کا عالم ، ذرا دھیان دینے پر انسان کو اپنے دل کی دھڑکن تک سنائی دیتی تھی۔ اس سناٹے کے عالم میں وہ سر نیہوڑے اکیلا بیٹھا تھا۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ کیوں؟ بظاہر تو ہر طرف سکون اور خاموشی تھی اس کے دل میں مگر جذبات کا ایک سمندر موجزن تھا جس کی لہروں میں انتہا درجہ کا طلاطم برپا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ جذبات کی یہ موجزن لہریں اچھل اچھل کر اس کی آنکھوں سے چھلکنے لگیں۔ صحراء کے سناٹے میں بلا کے سکوت کو توڑنے والی سسکیاں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ دور بیٹھے اس کے ساتھیوں تک یہ آوازیں پہنچیں تو ایک انجانے اندیشے نے انہیں آن جکڑا۔ غم و خوف سے ان کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے۔ہر طرف سے آہ و بکاء کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔لیکن کوئی نہ جانتا تھا کہ وہ کیوں کر اشکبار تھا؟
بچن کی یادیں تازہ ہونے لگیں۔ ایک ایک بات یاداشت کی گہرائیوں سے اٹھ کر چشم تصور کے پر وہ پر ابھرنے لگی۔ وہ اپنی ماں اور خادمہ کے ساتھ باپ کی قبر پر آیا تھا جو کہ چند سال قبل غریب الوطنی کی حالت میں یہاں وفات پاچکا تھا۔ عدی بن نجار کے گھروں کے سامنےموجود صحن میں داخل ہوتے ہی بائیں جانب اس کی قبر بنائی گئی تھی۔ اس کی ماں کی خواہش تھی کہ وہ اپنے خاوند کی آخری آرام گاہ دیکھ نیز اپنے رشتہ داروں سے مل لے۔ اسی لئے یہ دور دراز کا سفر اختیار کیا گیا تھا۔ وہ نابغہ کے گھر اترے تھے۔ دوران قیام اس کی بنو نجار کے بچوں سے دوستی ہو گئی جن میں چھوٹی سی انیسہ اور دو بھولے بھالے لڑکے بھی شامل تھے ۔ وہ دن بھر کھیلتے اور بنی عدی کے حوض میں تیراکی کرتے۔ یا پھر پرندوں کو پکڑنے ان کے پیچھے بھاگتے۔ ایک ماہ قیام کے بعد ماں نے واپس جانے کو رخت سفر باندھا۔ تقدیر کے لکھے کو مگر کون روک سکتا ہے؟ چند روز بعد، دوران سفر ہی اچانک اس کی وفات ہو گئ۔
وہ بھی کیا کٹھن وقت تھا۔ وطن سے دور، دوران سفر ، پاس نہ کوئی رشتہ دار نہ مددگار ۔ اس کے سامنے ماں کی نعش رکھی تھی، خلاف معمول جو اس کی کسی پکار کا جواب نہ دیتی تھی۔ اس کے رونے پر اسے پیار سے چُپ کرانے کی کوشش نہ کرتی تھی۔ وفادار آیا کا دل یہ نظارہ دیکھ کر غم سے پھٹا جاتا تھا۔ اتنی چھوٹی سی عمر میں ہی باپ کے بعدوہ اب ماں کی شفقت سے بھی محروم ہو چکا تھا۔ ایک کے بعد ایک عزیز اس سے جدا کیا جا رہا تھا اور اس سلسلہ نے ابھی طول پکڑنا تھا۔ شائد اس لئے کہ وہ کسی اور کو پکارنے کے لئے تیار کیا جا رہا تھا۔ اُس کو پکارنے کے لئے جو ہمیشہ اور ہر پُر خلوص پکارنے والے کی پکار کو سنتا اور اس کا جواب دیتا ہے۔ اور اس منبع حیات کا جواب زندگی بخش ہوتا ہے۔ ایسا زندگی بخش کہ پھر صدیوں کے مُردے اس طرح کو پکارنے والے کے قدموں پر زندہ کئے جاتے ہیں۔ اس کا ساتھ ہمیشہ کا ساتھ ہے، کبھی نہ ٹوٹنے والا ۔ نہ خود اس کو فنا ہے نہ اپنے ساتھ تعلق جوڑنے والوں کو فنا ہونے دیتا ہے۔
اور اب؟ نصف صدی سے زائد بیت جانے کے بعد، ایک بار پھر آپ ﷺ اپنی والدہ ماجدہ کی قبر پر کھڑے تھے۔ باپ، ماں ، دادا، چچا، غمگسار بیوی، حضرت فاطمہ ؓ کے سوا تمام اولاد، متعدد جانی دوست، عزیز رشتہ دار، ایک کے بعد ایک غم مفارقت دے چکا تھا۔آپ ﷺ خود اپنے سفر واپسیں کو بھی بالکل قریب محسوس کر رہے تھے۔ چنانچہ والدہ صاحبہ کو الوداع کہنے کے لئے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے ان کی قبر پر جانے کی اجازت چاہی ۔ اجازت عطا ہونےپر آپ ﷺ نے صحابہ کو دور رُکنے کا حکم دیا اور خود اکیلے ہی قبر پر تشریف لائے۔ والدہ کے ساتھ بتے واقعات ، ان کی مہربانیاں اور شفقتیں، ان کی گرم آغوش میں سنی لوریاں ، پیار اور کھیل سب آنکھوں کے سامنے پھرنے لگے۔ حضرت آمنہ کی زندگی بہت سادہ اور غریبانہ تھی۔ عرب گوشت دیر تک استعمال کے قابل بنانے کے لئے دھوپ میں لٹکا کر خشک کر لیا کرتے تھے۔ اسے پکانے کے لئے تیل یا ایندھن نہ ہونے کی بنا پر آپ اسی خشک گوشت کو استعمال فرما لیا کرتی تھیں۔ وہ بھی کیسی خوشی کے دن تھے۔ شفیق و مہربان والدہ کے زیر سایہ گزرنے والے چند دن۔ تب ان یادوں کے جھرمٹ میں آپ ﷺ بے اختیار اشکبار ہو گئے۔ وفور محبت و غم سے جذبات آنکھوں سے اُمڈنے لگے ۔ اس قدر کہ ایسا کم ہی دیکھا گیا تھا۔ آواز دور بیٹھے صحابہ ؓ تک بھی پہنچی۔ وہ سمجھے کہ شائد آپ ﷺ کو کوئی ایسی خبر دی گئی ہے جس نے آپ ﷺ کو غم میں مبتلاء کر دیا ہے۔ آپ ﷺ کے واپس آنے پر حضرت عمر ؓ نے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ حضرت آمنہ بنت وہب کی قبر تھی۔ نیز فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے قبر پر جانے کی اجازت مانگی تھی جو کہ مجھے دے دی گئی۔ پھر میں نے والدہ کی مغفرت کے لئے دعا کرنے کی اجازت مانگی تو یہ اجازت نہیں دی گئی۔
حضرت والدہ صاحبہ سے شدید محبت اور ان کے شفقت کے سلوک کو یاد کر کے آپ ﷺ اشکبار تو ہو گئے لیکن خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی لامتناہی عنایات و شفقتوں ، جن کا سلسلہ ازل سے شروع ہو کر ابد تک آپ کے شامل حال رہنا ہے، کا یہی تقاضا تھا کہ پہلے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے قبر پر حاضری کے واسطے اجازت کی درخواست کی تا کہ نادانستہ بھی کوئی امر خلاف مرضی الٰہی واقع نہ ہو۔ اور پھر کمال اطاعت کا نمونہ دکھاتے ہوئے صرف قبر کی زیارت فرما کر واپس تشریف لے آئے۔ یہ موقع حضرت والدہ صاحبہ کے ساتھ گزرے ایام کی ذاتی یادوں کو ذہن میں دوہرانے کا تھا شائد اس لئے صحابہ کو دور ہی رکنے کا ارشاد فرمایا۔
آنحضور ﷺ کو والدہ کے زیر سایہ بہت کم رہنے کا موقع ملا۔ کم و بیش ۶ سال کی عمر میں والدہ کی وفات ہوئی ۔لیکن اس سے پہلے بھی بچپن میں قریبا دو سال حضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں بسر کئے۔ حضرت والدہ صاحبہ کے پاس گویا صرف چار سال رہے۔ والدہ کے ساتھ واقعات میں سے دو مشہور ہیں ۔ ایک یہ کہ آپ ﷺ کی پیدائش سے قبل حضرت والدہ صاحبہ نے دیکھا کہ ایک نور آپ کے وجود سے نکل کر دنیا میں پھیل رہا ہے اور اس نور سے شام میں بُصریٰ کے درو دیوار روشن ہو گئے ہیں۔ آنحضور ﷺ کے وجود سے تو سارا جہان ہی روشن ہونا تھا لیکن عرب کے علاوہ شام ہی وہ واحد ملک ہے جہاں آنحضور ﷺ بنفس نفیس تشریف لے گئے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سادہ طبع حضرت آمنہ ،جن کے لئے شائد بُصری ہی دور ترین معروف شہر تھا، کو خواب میں سے صرف بُصریٰ کا نام ہی باقی یاد رہا ہو۔ دوسرا واقعہ شق الصدر کا ہے۔ آپ ﷺ کے حضرت حلیمہ کے ہاں قیام کے آخر پر ایک کشفی نظارہ میں دو فرشتوں نے آپ ﷺ کا سینہ چاک کر کے دل نکال کر دھویا اور پھر واپس سینہ میں رکھ کر بند کر دیا۔ اس نظارہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے رضاعی بہن بھائی کو بھی شامل فرما دیا۔ ان کا بیان سننے پر ہی حضرت حلیمہ آپ ﷺ کو واپس چھوڑ آئیں اور یوں آپ ﷺ کو اپنی والدہ کے آخری ایام دیکھنے کا موقع ملا۔
حضرت آمنہ کی قبر ابواء میں بتائی جاتی اور کچھ لوگوں کو معلوم تھی۔ ایک جنگ پر جاتے ہوئے کفار نے یہ تجویز کی کہ آپ ﷺ کی والدہ کی قبر اکھیڑ دی جائے۔ تب انہی میں سے بعض معقول لوگوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مذموم حرکت سے باز رکھا۔ صحابہ کرام کو غالبا قبر کا علم نہیں تھا اسی لئے انہیں معلوم نہ ہو سکا کہ آپ ﷺ کہاں تشریف لے گئے ہیں۔ قبر سے واپسی پر حضرت عمر ؓ کے دریافت کرنے پر ہی آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ یہ حضرت والدہ صاحبہ کی قبر تھی۔ آپ ﷺ غالبا ایک مرتبہ ہی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئےچنانچہ مذکورہ بالا واقعہ کے علاوہ کسی دوسرے موقع کے متعلق روایات نہیں ملتیں۔
مدینہ کے سفر پر آپ ؐ کی آیا حضرت ام ایمن ؓ بھی ہمراہ تھیں اور آپ ﷺ کو یہی واپس مکہ لائی تھیں۔ حضرت ام ایمن ؓ کا نام برکۃ تھا ۔ آپ ؓ حبشہ سے تعلق کی وجہ سے برکۃ حبشیہ بھی کہلاتی تھیں۔ آپ ؓ نے نہ صرف ایمان لانے کی توفیق پائی بلکہ سارا زمانہ نبوت دیکھنے کے بعد وفات پائی۔ آنحضور ﷺ کا آپ ؓ کے ساتھ بہت ہی رفق و محبت کا تعلق تھا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ ام ایمن ماں کے بعد میری ماں ہیں ۔ آپ ؓ کے پہلے خاوند کی وفات کے بعد فرمایا کہ جو کسی جنتی عورت سے شادی کرنا چاہے وہ آپ ؓ سے شادی کر سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت زید ؓ بن حارثہ نے آپ ؓ کے ساتھ شادی کی۔ اسی شادی سے حضرت اسامہ ؓبن زید پیدا ہوئے جنہیں آنحضور ﷺ نے حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ جیسے کبار اور تجربہ کار صحابہ پر سپہ سالار مقرر فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی مقصد اور کام کے لئے کسی شخص کو مقرر کرنا مقصود ہو تو ،بڑے موانع کے موجود نہ ہونے پر ، اس کام سے متعلقہ صلاحیتوں کی بنیاد پر ہی فیصلہ کرنا چاہئے۔ بلا شبہ لشکر میں موجود کبار صحابہ تقویٰ اور علم اور خدمات دینیہ اور سپاہ گری کے تجربہ میں حضرت اسامہ ؓ پر فائق تھے لیکن جن مقاصد کی خاطر آنحضور ﷺ اس لشکر کو روانہ فرما رہے تھے ان مقاصد کے لئے اسامہ ؓ ہی سب سے ذیادہ موزوں تھے چنانچہ آپ ﷺ نے اسامہؓ کو سپہ سالار مقرر فرمایا۔

مآخذ:
مسلم، صحیح، کتاب الجنائز، باب استئذان النبی ﷺربہ عز و جل فی زیارۃ قبر امہ۔
ابن ماجہ، سنن، ابواب الاطعمۃ، باب القدید۔
الواحدی، اسباب النزول، صفحہ ۲۶۸، مطبوعہ دار الاصلاح، الدمام۔ سعودیہ ،۱۹۹۲۔
طبری، تفسیر ، جلد ۱۲ صفحہ ۲۲، مطبوعہ دار ھجر، القاھرۃ۔ مصر، ۲۰۰۱۔
البیھقی، دلائل النبوۃ، جلد ۱ صفحہ ۱۸۸، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت۔ لبنان، ۱۹۸۸۔
الفکہی، اخبار مکہ، جلد ۴، صفحہ ۵۲، مطبوعہ دار خضر، مکہ۔ سعودیہ، ۱۹۹۴۔
العسقلانی، الاصابۃ، جلد ۱۴، صفحہ ۲۹۱، مطبوعہ قاہرہ، ۲۰۰۸
ابن جوزی، المنتظم فی تاریخ الامم والملوک، صفحہ ۲۵۰، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت۔لبنان، ۱۹۹۲
البلاذری، انساب الاشراف، جلد ۱، صفحہ ۹۴، مطبوعہ دار المعارف بمصر، ۱۹۵۹
ابن سعد، طبقات الکبیر، جلد ۱، صفحہ ۹۵، مطبوعہ مکتبہ الخانجی، قاھرہ۔ مصر، ۲۰۰۱

One thought on “Qabr

  • August 1, 2016 at 8:35 am
    Permalink

    بہت عمدہ جناب، آپکی تحریر کا انتظار رہتا ہے۔ لکھتے رہیئے۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *