Turk Baghawat Aur Pakistani Chooran

تٌرک بغاوت اور پاکستانی چٌورن

نپولین نے کہا تھا “برطانیہ دکانداروں کی ایک قوم ہے” ۔ مجھے یقین ہے کہ آج وہ زندہ ہوتا تو پاکستان بارے بھی ایسا ہی کچھ کہتا ۔
ہمارے ملک کا کوئی بھی شعبہ ہو اس میں دکاندار بکثرت پائے جائے ہیں ۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں رونما ہونے والا کوئی بھی واقعہ ان دکانداروں کے لئے ایک “پراڈکٹ” سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا جس پر یہ اپنی مرضی کا چورن چڑھا کر عوام کو پیش کرتے ہیں ۔ سیاستدان اس پر حب الوطنی کا چورن چڑھاتا ہے اور مذہبی طبقہ اسکو اسلام کا لیپ کر کے پیش کرتا ہے اور کچھ دکاندار تو پھیری والے ثابت ہوتے ہیں کہ گاہکوں کا رجحان دیکھ کر چورن بدلتے رہتے ہیں ۔ غرض یہ کہ ہر طبقہ اس واقعے کی ایک تشریح اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کر دیتا ہے جسکے بعد اس پراڈکٹ کو عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے ۔ اور ہمارے عوام کی اکثریت ان میں سے حسب ذائقہ اس چورن کا انتخاب کر لیتے ہیں جس کو وہ اپنے تعصبات کے تغذیے کے لئے موزوں سمجھتے ہیں ۔ ایسا ہی کچھ گزشتہ ہفتے دیکھنے میں آیا جب ترک فوج کے ایک ٹولے کی حکومت کے خلاف بغاوت کو تٌرک عوام, میڈیا اور سیاستدانوں نے مل کر ناکام بنا دیا ۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان کے جمھوریت پسندوں نے جہاں ترک عوام کو اس عمل پر مبارکباد دی اور یکجہتی کا اظہار کیا تو وہیں غیر جمھوری قوتوں کی راہ تکتے چند “دکاندار” باہر نکلے اور اس واقعے پر پریشان غیر جمھوری قوتوں کو یہ حوصلہ دینے لگے کہ تم فکر نہ کرو, تم آؤ گے تو “مٹھائیاں بانٹیں گے”
وزیر اعظم بننے کے نشے میں دھت اور ایسا ممکن نہ ہو سکنے کے غم میں نڈھال ایک سیاستدان نے ترک عوام کی اپنے نظام کے لئے دی ہوئی اس قربانی کو ترک صدر اردوان کی محبت کا نتیجہ قرار دے دیا مگر ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول ہی گئے کہ ہر سال صرف پسند ناپسند کی بنیاد پر ہزاروں سرکاری ملازمین کو برطرف کردینے والے صدر اردوان کی کرپشن کے چرچے دنیا بھر میں ہیں ۔ تقریبا گیارہ سو کمروں پر محیط صدارتی محل کی تعمیر پر صدر اردوان نے سات سو پچاس ملین ڈالر حال ہی میں ملکی خزانے سے خرچ کئے ہیں۔ ترکی کی خاتون اول کی عوامی پیسے پر کی جانے والی “اندھا دھند” شاپنگ آئے روز اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہے ۔ اٹلی میں رہائش پذیر انکے بیٹے کو اٹلی سرکار نے کرپشن کے الزام میں کئی برس سے شامل تفتیش رکھا ہوا ہے ۔ اور پھر عوام, میڈیا, اور اپوزشن جماعتیں ایسے کسی حکمران کی حمایت میں باہر کیوں نکلیں گے جس نے ان سے انکی اظہار رائے کی آزادی چھین رکھی ہو ۔ سیاسی مقاصد کی خاطر حقائق کو مسخ کرنے کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ ملک کے مذہبی دکانداروں نے صدر اردوان کو حمیت ملی کے ایک عظیم مجسمے کے طور پر یوں پیش کیا کہ پاکستانی عوام کو وہ امت مسلمہ کا کوئی پاسبان معلوم ہونے لگا, اور ایسا کرتے ہوئے ان تیس ہزار سے زائد مسلمان شامی مہاجرین کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا جو پناہ کی غرض سے شدید سردی میں ترکی کے بارڈر پر پڑے رہے مگر صدر اردوان نے انکے لئے بارڈر نہ کھولا ۔ یہ تمام باتیں لکھنے کا مقصد صدر اردوان کے خلاف چارج شیٹ تیار کرنا نہیں ہے بلکہ یہ باور کرانا ہے کہ پانچ دفعہ مارشل لاء کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ترک عوام فوجی بغاوت کے خلاف نکلے تو کسی فرد کے لئے نہیں بلکہ نظام کو بچانے کے لئے ۔ مگر اس بات کا اعتراف کر لیا جائے تو پھر “دکانداروں” کا چورن نہیں بکتا اور چورن کا بکنا بہت ضروری ہے ۔
پاکستانی اور ترک معاشرے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ترک عوام اپنے جمھوری نظام پر بہت پختہ یقین رکھتے ہے ۔ وہ اپنے ملک اور نظام کے حوالے سے کسی احساس کمتری کا شکار نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ فوجی بغاوت ہوئی تو ترک عوام کی ایک بڑی تعداد اپنے گھروں سے قومی پرچم اوڑھ کر سڑکوں پر نکل آئے, ہمارے ملک میں کتنے گھروں میں اس وقت قومی پرچم موجود ہے؟ اپنے نظام سے نفرت کا اظہار “پاکستان میں سب ممکن ہے” اور “پاکستان ہے نا” جیسے حقارت بھرے جملوں کا ورد کر کے ہمارے ملک میں ہر روز کیا جاتا ہے ۔ ۔ ہمارے عوام کو چاہئے کہ اپنے نظام پر بھروسہ رکھیں اور اسکو گرانے کے لئے سرگرم لوگوں کو پہچانیں ۔ ۔ باقی رہی بات مٹھائیاں بانٹنے کی تو یہ بات درست ہے کہ فوج کے آنے پر مٹھائیاں بانٹی جائیں گی ۔ مگر یہ مٹھائیاں عوام نہیں بلکہ وہی چند سیاسی یتیم بانٹیں گے جو پچھلی بار نظام کے گرائے جانے پر مٹھائیاں بانٹ رہے تھے ۔ اور یہ مٹھائیاں وہ ٹھونسیں گے بھی ایک دوسرے کے ہی منہ
میں ۔ ۔ عوام کو پھر بھی کچھ نہیں ملنے والا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *