Azad Kashmir Ke Intekhabat

آزاد کشمیرکے انتخابات
پانامہ ہنگاموں کے بعد اب آزاد کشمیر کے الیکشن ہو چکے ہیں۔ ان الیکشنز میں مسلم لیگ ن کی شاندار کامیابی کو اگر کلین سوئیپ نہ کہا جائے تو یہ زیادتی ہو گی۔ اس الیکشن کے نتائج مسلم لیگ ن کے مخالفین کے لئے نوشتہ دیوار ہیں جبکہ اس کے نتیجے میں وزیراعظم نوازشریف کے اعتماد میں خاصا اضافہ ہو چکا ہے۔ یہی اعتماد ہمیں گزشتہ روز مظفر آباد جلسے کے دوران دیکھنے کو ملا۔ وزیراعظم اپنے پاؤں کی تکلیف کو یکسر بھلاتے ہوئے فورا آزاد کشمیر کے ضلع مظفر آباد جا پہنچے، جہاں انہوں نے الیکشن نتائج کے ایک دن بعد عوام کی حمائیت کا شکریہ ادا کیا۔ یہاں انہوں نے ایک بار پھر مخالفین کا نام لینے سے گریز کرتے ہوئے ان کو صرف دو سیٹیں جیتنے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف انتہائی پرجوش اور نتائج سے مطمئن نظر آ رہے تھے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے اب الزام تراشی کی سیاست مسترد کر دی ہے۔
ان انتخابات کا اگر تقابلی جائزہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عوام نے اب الزامات اور دھمکیوں کی سیاست مسترد کر دی ہے۔ ان انتخابات کے مجموعی نتائج ملکی سیاست پر بھی پڑیں گے اور کپتان کو اب حکومت مخالف تحریک چلانے میں کافی دشواری ہو گی، اگر عمران خان اب بھی اپنے احتجاج پر ڈٹے رہے اور سولو فلائیٹ کرتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کر دی تو اس بار انہیں پچھلے دھرنوں سے زیادہ ہزیمت برداشت کرنی پڑے گی اور ملکی سیاست سے تحریک انصاف کی رسمی فاتحہ بھی پڑھ لی جائے گی۔ کپتان اور بلاول دونوں نے آزاد کشمیر میں بھرپور انتخابی مہم چلائی، انہوں نے خود اپنی اپنی جماعتوں کی انتخابی مہم کو لیڈ کیا اور مختلف شہروں میں درجنوں مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب بھی کیا، مگر یہ دونوں عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے میں ناکام رہے۔ ان کی توجہ کشمیریوں پر کم اور نوازشریف اور ان کے خاندان پر زیادہ تھی۔ انہوں نے ہر جلسہ کا آغاز نوازشریف پر تنقید سے کر کے اس کا اختتام بھی نوازشریف پر ہی کیا۔ عمران خان نے 9 اور بلاول بھٹو نے اپنے 6 انتخابی جلسوں میں کشمیر اور کشمیریوں کی ترقی پر کوئی بات نہیں کی، یہ آزاد کشمیر کے الیکشن کو پاکستان کے الیکشن سمجھ کر نوازشریف اور ان کے خاندان کو ہدف تنقید بناتے رہے۔ کشمیری عوام نے الزام تراشی کی سیاست کو مسترد کر کے اپنا پورا وزن نوازشریف کے پلڑے میں ڈال دیا اور اس طرح ان دونوں رہنماؤں کو الزام تراشی کا خمیازہ انتخابات میں بدترین شکست کے طور پر بھگتنا پڑا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ عوام اب الزام تراشیوں سے زیادہ عوامی خدمت اور کام کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ ان انتخابات کے نتائج ملکی سیاست پر بھی پڑیں گے۔ عمران خان چاہیں کچھ بھی کہیں مگر انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ ایک بار پھر تحریک چلا کر نوازشریف اور ان کی حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اس وقت تحریک انصاف پہلے سے زیادہ انتشار کا شکار ہے۔ عمران خان کی طرف سے اکیلے ہی حکومت مخالف تحریک چلانے کے اعلان پر باقی اپوزیشن جماعتیں بھی اظہار ناپسندیدگی کر چکی ہیں اور اب پانامہ لیکس والا معاملہ بھی پس پشت جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری طرف اگر پیپلز پارٹی بھی ان انتخابات کے نتائج کو بنیاد بنا کر کسی احتجاجی تحریک کا آغاز کرتی ہے تو اسے بھی پذیرائی نہیں ملے گی، کیونکہ پہلی بار یہ الیکشن فوج کی نگرانی میں ہوئے ہیں اور کہیں سے بھی دھاندلی کی شکائیت نہیں ملی۔ حکومت کے خلاف عوامی سطح پر پذیرائی نہ ملنے پر اس نے مسلم لیگ ن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا ہے اور اب عملی طور پر عمران خان اکیلے رہ گئے ہیں۔
مختصر حالات یہ ہیں کہ نوازشریف کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جبکہ اپوزیشن اپنی غلط پالیسیوں اور مسلسل بنا ثبوت الزام تراشیوں کی وجہ سے غیر مقبولیت کی طرف چلی جا رہی ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو پھر الیکشن 2018ء میں بھی ہر طرف نوازشریف ہی ہوں گے اور انہیں ایک بار پھر دو تہائی اکثریت حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *