Ghairatmand Beghairat

بات کا آغاز کسی بھی لچھے دار تمہید سے کر لیا جائے لیکن ہفتے کی صبح ہونیوالے واقع کو کسی بھی صورت نہ تو جائز قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اُسکا دفاع کیا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود چند (جاہل اور اسلام کو پڑھنے سے کاہل) مولوی اس کو بہت اچھا عمل قرار دے رہے ہیں جو خود قابلِ شرم بات ہے۔ بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ ہماری مملکتِ (So Called) خدادا تب دیکھنے میں پہلے نمبر پر تھی جب “فحش نگاری” کی ویب سائٹس پاکستان میں بلاک نہ تھیں اور اب ڈھونڈنے میں کہ کونسی اب تک بلاک نہیں کی جاسکیں۔ لیکن پھر بھی اِن لوگوں کو قندیل بلوچ (فوزیہ بی بی) کے غیرت مند بےغیرت بھائی کی جانب سے اُس کے دردناک قتل پر داد دئیے بغیر چین نہیں آرہا۔ خیر یہ بات یاد رہے کہ میرا شمار اُن لوگوں میں نہیں ہوتا جن کی عادتیں کچھ پنجابی کے اس محاورے کا مصداق ہوتی ہیں کہ

 “جیوندیاں سُکھ  لَین دینا  نہیں!
تے مَریاں مَنجھی  چَھڈنی نہیں!”
زندگی میں اُن محترمہ کی جو باتیں قابلِ مذمت تھیں وہ اب بھی جوں کی توں قابلِ مذمت ہی ہیں، بس اب اُن باتوں کو نہ دُہرانے کی وجہ یہ ہے کہ ‏رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ “اپنے مُردوں کی اچھی باتیں یاد کرو، بُری نہیں” خیر میری ایک درخواست تمام قارئین سے بھی ہے کہ خُدارا اس خاتون کی ویڈیوز جس کے پاس جہاں جہاں ہوں وہ ڈیلیٹ کر دے کہ بے چاری کے لئے گُناہِ جاریہ کا ذریعہ ہوگا۔ حدیثِ پاک میں اس کے متعلق بھی وعید موجود ہے کہ جو میری اُمت میں کوئی گُناہ جاری کرتا ہے تو جب تک وہ گُناہ (اسکے جاری کرنے کی وجہ سے) ہوتا رہتا ہے، گُناہ کرنیوالے کے ساتھ ساتھ اسکے (جاری کرنیوالے کے) نامۂ اعمال میں بھی گناہ لکھا جاتا ہے۔ کوئی گندا کنکر (جسے عرفِ عام میں لوگ اینکر بولتے ہیں) اس واقعے کا تعلق اسلام سے نہ جوڑے، اسلام میں ایسی کوئی غیرت نہیں سکھائی جاتی بلکہ اسلام تو وہ عظمت والا دین ہے جس کی آسمانی کتاب کی سورۃ التکویر کی غالباً آٹھویں، نویں اور دسویں آیت میں غیرت کے نام پر قتل کرنیوالے کے لیے خُدائی للکار موجود ہے۔ یقیناً پھر یہ ہمارے علماء کی زمہ داری ہوئی کہ وہ روز بروز غازی پیدا کرنے کی بجائے ایسے بےغیرت بھائی پیدا ہونے سے روکیں۔

 

خیر آئیےذرا موضوع پر واپس، یاد رکھیے گا غیرت کے نام پر قتل کرنا مصطفٰی ﷺ کی نہیں مشرکینِ مکہ کی سُنت ہے اور میرے نبی ﷺ کی چار شہزادیاں، اور سب سے زیادہ پیار میرے نبی ﷺ نے چوتھی بیٹی سے فرمایا حتٰی کہ اتنا پیار ہوا کہ مؤرخ بیچارہ بھول گیا، اُس نے ذیادہ پیار سے اندازہ لگایا کہ بیٹی فقط ایک ہے لیکن مؤرخ کی نظر سے یہ پہلو اوجھل ہو گیا کہ ایسامعاشرہ جہاں لوگ اپنی ایک بیٹی کو بھی زمین سینہ چیر کے دفن کرکے اپنی پگڑی کا شملہ اونچا کر لیتے ہوں میرے نبیﷺ نے اُس معاشرے میں چوتھی بیٹی سے اتنا پیار فرما کر بتایا “لوگو! بیٹیاں عزت کی دشمن نہیں ہوتیں، یہ بیٹیاں تو وہ ہیں جو اِنکی پرورش اعلٰی کرتا ہے یہ تُمہاری جنت اور مغفرت کا ذریعہ ہیں” حدیثِ پاک میں ہے کہ “بیٹیوں کو بُرا مت کہو! میں بھی بیٹیوں والا ہوں یہ تو بہت محبت کرنے والیاں اور غمگسار ہوتی ہیں” 
 
خیر بات تو اُن محرکات پر بھی ہو سکتی ہے جن کے باعث وہ محترمہ اس حد تک آن پہنچیں، گھر میں کھانے کو نہ ہو تو جائز ناجائز کی تمیز مِٹ جایا کرتی ہے، بدقسمتی سے ہم اُس بے غیرت معاشرے کا حصہ ہیں جسے خاتون وارڈن آفیسر سے لے کر کسی سُپر سٹور پر کھڑی خاتون تک کو گندی نظروں سے دیکھنے کی عادت ہے، ستم بالا ستم یہ کہ ہماری کچھ مُخیّر جاہل خواتین ایسی بچیوں کو دیکھ کر یا اُنکے مجبوراً پہنے اور جبراً پہنائے گئے لباس کو دیکھ کر “توبہ! توبہ! توبہ!” کی صدائیں بلند کرنا اپنا قومی فریضہ سمجھتی ہیں، بِنا یہ دیکھے کہ ناجانے کیا حالات تھے جو اس خاتون کو گھر کی محفوظ چار دیواری سے نکال کر اس دُکان تک لے آئے، ایسی ہی کچھ حرکتیں کچھ گھٹیا لوگ “معذور” افراد کو دیکھ کر بھی کرتے ہیں جو شدید قابلِ مذمت ہے۔
 
بات سخت ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ جس معاشرے نے نکاح کی قیمت بڑھا کر (کم ازکم) سات سے آٹھ لاکھ کر دی ہو، اُس معاشرے کی بیٹیوں کے جسموں کی قیمت سینما کے دو ٹکٹ اور ایک “پاپ کارن” کا پیکٹ ہی رہ جایا کرتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی ضروری ہے سوشل میڈیا پر Bashing نامی بیماری کے سبب اختلاف کرنے کا بہترین طریقہ دوسرے کی کردارکُشی سمجھا جاتا ہے، یاد رہے اسلام ایسا عزتیں بچانے والا دین ہے کہ اس میں کسی کے کردار پر زبان درازی سے قبل چار عینی گواہ پیش کرنا جنہوں نے مرد و عورت کو ایک خاص حالت میں دیکھا ہو، شریعتِ مطہرہ کی شرط ہے۔ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے زمانہ میں ایک صحابی پر الزام لگا، الزام لگانے والوں نے چار گواہ بھی پیش کیے۔ لیکن ایک گواہ نے مرد و عورت کو اس حالت میں نہ دیکھا جو گواہی کے لیے شرط ہے۔ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے اُن چاروں کو “اَسّی چِھتر” لگوائے۔
 
ستم ظریفی یہ کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق قندیل کے گھر والوں نے اُنکی لاش لینے سے انکار کردیا، آخری اطلاع تک اُنکے والد کا کہنا تھا کہ سرد خانے میں رکھنے کے پیسے نہ ہونے کے سبب لاش نہیں لے جا رہے، صبح تدفین کرینگے۔ 
 
اختتام اس بات پر کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رحمۃ اللّٰہ علیہ) سے کسی نے پوچھا کہ
 
“کیا طوائف کا جنازہ پڑھایا جائیگا؟؟؟”
 
تو فرمانے لگے
 
 “جب تُم اُنکے ہاں جانے والوں کا جنازہ پڑھتے ہو، تو اُنکا جنازہ پڑھنے میں عار کیوں؟؟؟”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *