Namaloom

نامعلوم
شام ہونے کو ہے ، جیسے جیسے اندھیرا پھیلے گا ، لوگ اپنے گھروں سے نکل آئیں گے اور آس پاس والوں سے گپ شپ لگانا شروع کر دیں گے کہ یہی روز کا معمول ہے – روز شام کو گھر کی چوکھٹ پر آ براجمان ہوئے ، یا بہت ہو گیا تو کالونی میں تھوڑی بہت چہل قدمی کر لی، مگر صبح کی روشنی پھیلنے سے پہلے گھر میں واپس جانا لازم ہے کہ یہی کالونی کا اصول ہے جسے توڑنے کی کسی کو اجازت نہیں – کچھ گھروں کے مکینوں کو توکسی وقت بھی گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے ، بلکہ یہاں کے پرانے مکین ان گھروں کے پاس بھی جانے سے ہمیں منع کرتے ہیں کہ یہ لوگ اچھے نہیں ہیں – ہماری کالونی بہت پرسکون اور سرسبز ہے ، کسی قسم کی کوئی بدنظمی نہیں ، کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ، شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری کالونی میں گھروں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے –

میں نے جب سے آنکھ کھولی ہے، اپنے آپ کو اسی کالونی میں اسی گھر میں پایا ہے – میرے گھر کا دروازہ دیکھ کر محسوس ہوتا ہےکہ بہت چھوٹا سا گھر ہے، مگر اندر داخل ہوں تو اُسکی وسعت کا صحیح معنوں میں اندازہ ہوتا ہے، گھٹن کا احساس تک نہیں ہے ، ہوادار اور روشن – غالباً اس کالونی کا اصول ہے کہ ایک گھر میں ایک ہی مکین رہ سکتا ہے ، تبھی کسی گھر میں ایک سے زائد لوگ نہیں رہتے – کالونی کے اصول کے تحت ہر گھر کے باہر نام کی تختی لگانا ضروری ہے ، تاکہ کسی کو گھر ڈھونڈنے میں تکلیف نہ ہو –

میرا نام عبد الجلیل ہے ، سچ بتاؤں تو مجھے اپنا نام نہیں معلوم تھا ، مگر جب سے ہوش سنبھالا ہے ، گھر کی دہلیز پر اسی نام کی تختی پائی ہے اور آس پاس کے لوگ بھی اسی نام سے پکارتے ہیں – ہر کچھ دن بعد کوئی نہ کوئی دن کی روشنی میں میرے گھر کی دہلیز پر آن کھڑا ہوتا ہے ،ان میں سے کچھ لوگوں کی ہلکی آواز میں رونے کی آواز بھی آتی ہے ، بار بار میرا نام لیتے ہیں ، میرے لیے دعا کرتے ہیں – اکثر اوقات مجھے ہنسی آ جاتی ہے کہ جتنی آسائش میں میری زندگی ہے ، اس کا باہر کھڑے لوگوں کو کیا پتا – دن کے وقت آنے والوں میں ایک بہت ضعیف سی آواز اکثر سنائی دیتی ہے جو لرزتے ہوئے بار بار میرے لیے دعا کرتی ہے – میرا بہت دل چاہتا ہے کہ اس آواز کے مالک سے ایک بار مل کر اسے بتا سکوں کہ میں کتنے آرام سے ہوں یہاں ، اور وہ میری اتنی فکر نہ کریں – بار بار سوچنے کے باوجود مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں ان لوگوں سے کبھی بھی ملا ہوں کہ نہیں – عجب بات ہے کہ وہ میرے لیے فکر کرتے رہتے ہیں جبکہ مجھے ان کا اتا پتا ہی معلوم نہیں – کبھی رات کے وقت میرے گھر ان میں سے کوئی آئے تو میں باہر نکل کر پوچھ ہی لوں ، مگر یہ سب دن کی روشنی میں آتے ہیں جب ہمیں گھر سے نکلنے کی اجازت ہی نہیں –

میرے دائیں طرف جنید کا گھر ہے ، بہت اچھا لڑکا ہے – ہر وقت ہنستا ہنساتا رہتا ہے – اس کو الله کا کلام بھی پورا زبانی یاد ہے ، کبھی کبھی وہ اتنی خوش الحانی سے تلاوت کرتا ہے کہ دل چاہتا ہے کہ بندہ سنتا ہی رہے – میرے بائیں طرف کا پلاٹ ابھی تک خالی ہے – پیچھے کی طرف شاہد نامی لڑکے کا گھر ہے ، وہ خاموش طبع ہے اس لیے اس سے زیادہ بات نہیں ہوتی –

اس دن صبح سے ہی کھدائی اور تعمیر کی آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں ، اندازہ ہوا کہ شاید میرے بائیں طرف کا پلاٹ بھی آباد ہونے کو ہے – چلو اچھا ہے اب میرے دونوں طرف رونق ہو جائے گی ، میں نے سوچا – جانے نیا مکین کیسا ہو گا ، الله کرے خوش مزاج بندہ ہو، شام کا انتظار کرنا مشکل ہو رہا تھا – الله الله کر کے شام ہوئی ، میں گھر سے باہر آیا ، جنید مجھ سے بھی پہلے ہی باہر نکل کر بیٹھا ہوا تھا – نئے گھر کے باہر تختی لگ چکی تھی ، نام البتہ عجیب سا تھا ، “نامعلوم” – ہم بہت دیر انتظار کرتے رہے مگر نیا مکین باہر نہ آیا – رات گہری ہوئی تو اس کے گھر میں سے کراہنے کی آوازیں آنے لگیں ، جنید خوفزدہ ہو گیا اور بولا کہ کہیں یہ ویسے مکینوں جیسا تو نہیں جنھیں اپنے گھر سے باہر آنے کی اجازت ہی نہیں کالونی انتظامیہ کی جانب سے – سچ بولوں تو مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہوا – ہم دونوں خوف کے مارے روشنی ہونے سے پہلے ہی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے –

دن چڑھا اور گزر بھی گیا – شام آئی تو میرا گھر سے نکلنے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا ، مگر پھر جی کڑا کر کے گھر سے نکل ہی آیا – باہر نکلا تو نئے گھر کا مکین گھر کے دروازے کی چوکھٹ پر ہی بیٹھا تھا – اسے دیکھ کر دل کو ڈھارس بندھی کہ کم از کم یہ ان برے مکینوں میں سے تو نہیں جن کے گھروں کے پاس جانے سے ہمیں منع کیا جاتا ہے – میں نے اس سے بات شروع کی تو وہ بس خالی نظروں سے مجھے دیکھتا رہا ، میری کسی بات کا اس نے جواب ہی نہ دیا – بات چیت میں ناکامی کے بعد میں بھی خاموش ہو گیا – کافی دیر بیٹھے رہنے کے بعد وہ واپس اپنے گھر چلا گیا – میں جنید کے ساتھ بیٹھا رہا ، پھر روشنی ہونے سے کچھ دیر پہلے میں بھی اپنے گھر چلا گیا –

اگلی شام میں باہر نکلا اور اردگرد نظر دوڑائی تو بہت کم لوگ ابھی اپنے گھروں سے نکلے تھے – “نامعلوم” بھی ابھی تک باہر نہ نکلا تھا ، مجھے اس سے بات کرنے کا تجسس تھا اس لیے میں اس کے انتظار میں بیٹھ گیا – کچھ دیر گزری تو وہ بھی باہر آ گیا – میں نے اسے سلام کیا تو اس نے جواب دیا ، آج وہ کافی بہتر لگ رہا تھا – ہم دونوں کو باتیں کرتے دیکھ کر جنید بھی ہمارے پاس آ گیا – عجب بات یہ تھی کہ “نامعلوم” بار بار کسی کو یاد کر کے روتا تھا ، ہم نے اسے سمجھایا بھی کہ بھائی یہاں تو ہم سب اکیلے اکیلے ہی ہیں ، اور ہمارے جاننے والے بس ہمارے ہمسائے ہی ہیں – مگر وہ بار بار کسی “ماں” کا ذکر کر کے رونا شروع کر دیتا – مجھے اور جنید کو تو کچھ سمجھ نہ آ رہی تھی کہ رشتے کیا ہوتے ہیں اور “ماں ” کون ہے ، مگر “نامعلوم” کو افسردہ دیکھ کر پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی –

کافی عرصہ گزر گیا مگر “نامعلوم” کی کفیت میں کوئی تبدیلی نہ آئی – ایک شام ہم ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے “نامعلوم” سے پوچھا کہ دوست یہاں میں نے کسی ایسے بندے کو اداس نہیں دیکھا جسے گھر سے باہر آنے کی اجازت ہو ، گھر سے باہر نہ آ پانے والوں کی بات البتہ کچھ اور ہے ، آخر ماجرا کیا ہے – “نامعلوم ” ٹھنڈی سانس لے کر گویا ہوا ، “اب مجھے یہاں کافی عرصہ گزر گیا ہے اور میں کالونی کے اصول و ضوابط بھی سمجھ گیا ہوں ، آپ لوگوں کی زندگی پر رشک آتا ہے – کاش میری زندگی بھی آپ جیسی ہوتی ، مگر ایسا ہے نہیں – آپ لوگوں کو یاد ہی نہیں کہ ہم سب کا ماضی بھی ہے جسے ہم پیچھے چھوڑ کر یہاں تک آئے ہیں – میرا بھی ماضی ہے جس کی یاد عذاب ہے – شاید اسی لیے یہاں اچھے لوگوں کی یاداشت سے ان کے ماضی کو مٹا دیا جاتا ہے تاکہ وہ ہر رشتے ہر یاد کو بھول کر بس اسی زندگی میں مشغول رہیں -جو لوگ برے ہوتے ہیں ، ان کا ماضی انھیں یاد رہتا ہے اور انھیں ان کے گھروں سے بھی نکلنے کی اجازت ہیں ہوتی – میرا قصہ کچھ یوں ہے کہ اپنی ماں کی اکلوتی اولاد تھا ، انتہائی بگڑا ہوا اور خودسر تھا – بلاوجہ کی ضد کرنا اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ماں سے بدتمیزی کرنا روز کا معمول تھا – اس دن بھی میں ماں سے لڑا تھا اور غصے میں آ کر اپنا گھر اور شہر چھوڑ کر دوسرے شہر چلا گیا تھا – ریلوے سٹیشن سے نکل کر سڑک پار کرتے ہوئے ایک تیز رفتار گاڑی سے ٹکر ہو گئی – آنکھ کھلی تو خود کو یہاں اس کالونی میں اس گھر میں پایا – یہاں اتنا اندھیرا تھا کہ ڈر کے مارے میری جان نکل رہی تھی ، مجھے اپنی ماں کی شدید یاد آ رہی تھی ، میں ماں کے پاس واپس جانا چاہتا تھا ، اس سے معافی مانگنا چاہتا تھا مگر میں ہل ہی نہیں پا رہا تھا
– پھر اچانک گھر کی دیواریں سمٹنا شروع ہو گئیں ، میری ہڈیاں کڑکنے لگیں ، درد کا وہ عالم تھا کہ بیان سے باہر ہے – اسی کفیت میں تھا کہ مجھے اچانک اپنی ماں کی آواز آئی ، “یا الله ، میرا بیٹا جہاں بھی ہے ، اسے اپنے حفظ و امان میں رکھنا ، میں اس سے راضی ہوں ” – بس اسکے بعد میرے گھر کی دیواریں وسیع ہو گئیں ، گھر میں روشنی بھی ہو گئی اور مجھے شام کو گھر سے باہر جانے کی اجازت بھی مل گئی – سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے مگر دن رات یہی کسک ہوتی ہے کہ کاش کسی طرح ایک بار ماں کے پاس جا کر اس سے معافی مانگ لوں ، شاید اس طرح مجھے بھی یہاں کے باقی مکینوں کی طرح اپنا ماضی بھول جائے – مگر شاید یہی میری سزا ہے جو مجھے تا قیامت بھگتنی ہے- ستم تو یہ ہے کہ میری ماں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ میں کسی دوسرے شہر میں اس گھر میں رہتا ہوں، اگر اسے پتا ہوتا تو وہ میرے اس گھر کو دیکھنے تو ضرور آتی “- یہ سب سناتے سناتے “نامعلوم” سسکنے لگا – میں اور جنید اس کی کہانی میں محو ہو گئے تھے – ہم نے اپنی یاداشت کو ٹٹولا مگر ہمیں کسی ماضی ، کسی رشتے ، کسی ماں کی یاد کا شائبہ تک نہ ہوا – شاید یہی الله کا انعام تھا کہ اگر ہمارا کوئی ماضی تھا بھی سہی تو وہ ہماری یاداشت میں نہ تھا – روشنی ہونے کو تھی ، میں اور جنید “نامعلوم” کی کہانی پر افسوس کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے –

graveyd

بچپن سے بڑے بوڑھوں سے سنتے آئے ہیں کہ مغرب کے بعد اندھیرا پھیلتے ہی قبرستانوں میں روحیں چہل قدمی کرنے لگتی ہیں ، اس لیے اندھیرے میں وہاں جانا مناسب نہیں – الله جانے کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ –

11 thoughts on “Namaloom

    • July 11, 2016 at 10:07 am
      Permalink

      کوشش تو یہی ہے مرشد کہ قلم سے ناتہ جڑا رہے ، کہ یہی ایک طریقہ ہے اپنے احساسات کے اظہار کا

      Reply
  • July 11, 2016 at 10:45 am
    Permalink

    ا… کیا لکھ دیا

    Reply
    • July 11, 2016 at 11:44 am
      Permalink

      کیوں ، ایسا کیا لکھ دیا ؟

      Reply
  • July 11, 2016 at 10:49 am
    Permalink

    شعیب بھائی
    کمال کر دیا
    واقعی آپ درست کہتے تهے
    دل و دماغ کی عجیب کیفیت ہو گئی ہے
    سلامت رہیں

    Reply
  • July 11, 2016 at 10:57 am
    Permalink

    بہت خوب ۔ پڑھ کر مزا بھی آیا اور بہت کچھ یاد بھی ۔ سلامت رہئیے ۔

    Reply
  • July 11, 2016 at 11:41 am
    Permalink

    واہ۔۔۔ بہت اعلی۔۔۔ بہترین۔۔۔ کیا کمال منظر کشی۔۔۔ کیا کمال کردار نویسی۔۔۔ زبردست۔۔۔ امید ہے کہ آپ کو مزید پڑھنے کا موقع ملتا رہے گا۔۔۔

    Reply
  • July 11, 2016 at 11:43 am
    Permalink

    واہ۔۔۔ زبردست۔۔۔ بہت اعلیٰ۔۔۔ کیا کمال منظر کشی۔۔۔ اور کیا ہی کمال کردار نویسی۔۔۔ لکھتے رہیں۔۔۔ امید ہے کہ آپ کی مزید تحاریر پڑھنے کو ملتی رہا کریں گی۔۔۔

    Reply
  • July 11, 2016 at 2:21 pm
    Permalink

    اللّٰہ جانے والوں کو سکون عطا فرمائے اور ہمیں اپنے آخری سفر کی تیاری کی توفیق دے۔ آمین

    Reply
  • July 11, 2016 at 2:45 pm
    Permalink

    100% very well said. May Allah we keep us ready for this.

    Reply
  • August 4, 2016 at 12:57 pm
    Permalink

    اچھی تحریر کے ساتھ ساتھ ایک یاد دہانی بھی. بہت اعلیٰ.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *