Madrassay ke Bachay

عشاء کے وتر پڑھ کر کچھ لوگ بیٹھے دعا کا انتظار کررہے تھے تو کچھ اخیر کی دو رکعتیں ادا کر رہے تھے، اچانک سے تین تھپڑوں کی آواز آئی۔ تمام لوگوں کی طرح میں بھی ادھر متوجہ ہوا تو ایک پیسٹھ یا ستر سالہ بےلگام کُتے نے مدرسے کے ایک بچے پر حملہ کردیا۔ وہ اٹھارویں گریڈ کا ریٹائرڈ افسر تھا اور چند سال قبل ہی ایگریکلچر کے ادارے نے اُس سے جان چھڑوائی تھی، تادمِ تحریر وہ اپنی جوانی میں کی ہوئی ہڈحرامی کا معاوضہ وصول کررہا تھا (عرفِ عام میں اسے پنشن کہا جاتا ہے)۔
عمررسیدہ جانور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر کچھ یوں زبان درازی کرنے لگا: “ماں پیو کول گھر کھوان نوں نہیں ہُندا تے تانوں ایتھے سُٹ دیندے نے کہ لوکاں دیاں نمازاں خراب کرو۔ نہیں پڑھنی ہوندی تے باہر دفع ہو جایا کرو۔” اپنی بکواس کو بند کیے بغیر وہ امام مسجد (جو اس مدرسے کے حفظ کے درجہ کے اُستاد بھی ہیں) پر بھونکنے کے لیے اپنی پوزیشن بنا رہا تھا کہ کچھ لوگوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا اور ستم ظریفی یہ کہ اُسکو میاں صاحب، میاں صاحب کہتے کہتے دوسری طرف لے گئے ان لوگوں نے بھی اس بچے کو ہلکا پُھلکا ڈانٹ کر اپنے ہلکے پھلکے گھر سے ہونے کا ثبوت دیا۔
خیر بچے کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تھی مگر وہ رویا نہیں۔ بابے نے چُپ ہونے کی بجائے سکولوں کے فضائل بیان کرنے شروع کیے اور مدرسوں پر اپنی بظاہر تنقید اور حقیقت میں بغض کے نشتر برسانے لگا۔ بابے کی بےحیائی عروج پر تھی اور مدرسے کے دیگر اساتذہ اور عملہ بھی زکٰوۃ، فطرانہ اور محض چند قربانی کی کھالیں لینے کے لیے بابے کی زبان کو لگام دیے بغیر یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر گُزری، بابے نے جوتا منہ میں لینے کی بجائے (سہواً) پاؤں میں پہنا اور کچھ بولتے بولتے چلتا بنا۔
کسی بھی شخص نے اس بچے کو حوصلہ تسلی نہ دی (سوائے ایک کے)۔ کسی نے یہ جرأت نہیں کی کہ اس کو روکتا کہ وہ کیوں بچے پر یوں بھونکے جا رہا ہے؟؟؟
اس بچے کی آنکھوں کی نمی سے بھی کسی کا ضمیر نہ جاگا اور کسی نے اس ننھے مجاہد کا دفاع نہیں کیا، پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ سب جانتے تھے یہ مدرسے میں پڑھنے والا بچہ کسی امیر کا نہیں!
کسی نے دفاع نہیں کیا، پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ سب کو پتہ تھا اس کا باپ (اگر زندہ بھی ہوا تو) کوئی سرکاری ملازم نہیں بلکہ کسی گاؤں میں چوہدری کا کمّی ہوگا!
کسی نے دفاع نہیں کیا، پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ سب کو ادراک تھے کہ اس مدرسہ کے اُستاد بھی اپنے بچے کا دفاع نہیں کرینگے کیونکہ اُنکا ماہانہ وظیفہ ہمارے ہی مالوں کی میل سے تو دیا جاتا ہے!
کسی نے دفاع نہیں کیا، پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ وہاں کھڑے تمام لوگوں کو بچوں سے محبت تھی مگر صرف اپنے۔
کسی نے دفاع نہیں کیا، کیونکہ سب کا خیال تھا کہ مدرسے کے بچے سخت جان ہوتے ہیں، تھوڑی بہت بات سے انکو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
کاش! ان تمام لوگوں نے اُس رات اپنی رضائی میں منہ دے کر روتے اس ننھے محیُ الدین کے آنسو دیکھے ہوتے!
کاش! ان تمام لوگوں نے اس ننھے معصوم کا کلیجہ چیرنے والا یہ جملہ سُنا ہوتا “بھائی آج میری وی اماں ہوندی تے اوس نے اِس بابے دی داڑھی پَٹ دینی سی!”
کاش! کسی نے اس معصوم کے روز و شب دیکھے ہوتے کہ کیسے وہ ظہر کے وقت بیٹھا اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اپنے کپڑے دھو رہا ہوتا ہے۔
ذمہ داری میری، آپکی اور ہم سب کی ہے کہ ہم مدرسے کے بچوں کو کم از کم اتنی ہی عزت اور مقام دے دیں جو ہم سکول، کالج اور یونیورسٹی کے بچوں کو دیتے ہیں حالانکہ جو اللّٰہ کا دین پڑھ رہا ہے اس کے تو قدموں کی خاک بھی ہم جیسے یونیورسٹیوں میں سے ماسٹر ڈگریاں لینے والوں اور ICAP سے CA وغیرہ کرنیوالوں سے زیادہ مقام والی ہے۔ ذمہ داری حکومتی اداروں میں موجود علماء کی بھی ہے کہ وہ اپنا وقت کُھسرے پھنسانے اور بات بات پر “سٹرِپ ڈانس” کی آفر کروانے والی خواتین پر صرف کرنے کی بجائے ادھر توجہ دیں۔ حکومت چند دردمند پارلیمنٹیرینز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے جس کا مقصد ایک آزاد خودمختار ادارے کی تشکیل ہو جو تمام مکاتبِ فکر کے مدرسوں کی نگرانی کرے۔ کوشش کی جائے کہ مدرسے کے بچوں کی لیے بھی وہ تمام سہولیات میسر ہوں جو کسی بھی اچھے تعلیمی ادارے میں ہوتی ہیں۔

ڈِس کَلیمر: تمام کردار حقیقی ہیں، جس سے بھی مماثلت ہو وہ شرم کرے!

One thought on “Madrassay ke Bachay

  • July 8, 2016 at 11:59 am
    Permalink
    Very good . Society me istrah k kayi pehloo hen jis per logon ki tawajjah dilaaney ki ashad zrurat he . Asim bhai ap bohat acha kaam kr rahen hen. Keep it up. Our prayers are with you FI AMAANILLAH
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.