Aag Phoolon ne Khood Lagai hay

پاکستانی معاشرتی اور سیاسی نظام اپنی گنجلِک سماجی حرکیات کے لحاظ سے دنیا کے “مشکل” ترین ممالک میں سے ایک ہے ۔ پاکستان کے وجود میں آنے سے لے کر اب تقریبا ستر سال بعد تک پیش آنے والے اہم سماجی اور سیاسی واقعات تہہ در تہہ ابہام اور غیر یقینی سے یوں اٹے پڑے ہیں کہ ہم بطور قوم آج تک یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے کہ ہماری معاشرتی زبوں حالی کے پیچھے کونسے عوامل کار فرما ہیں ۔ جو چیز ہمارے معاشرے کے ایک طبقے کی طرف سے معاشرتی سرطان گردانی جاتی ہے وہی چیز معاشرے کے کسی دوسرے طبقے کے خیال میں کسی جامِ صحت سےکم نہیں ۔ پاکستانی معاشرے کی مثال ایک ایسے درخت کی ہے کہ جس کو غذا فراہم کرنے اور زمین میں مضبوط کرنے والی اسکی جڑیں ہی اس کو دیمک کی طرح چاٹ بھی رہی ہیں ۔ پاکستانی قوم وہ بدقسمت قوم ہے کہ کئی دہائیوں سے جس کے سینوں میں اترنے والی گولیاں اور بارود خود اسی کے پیسوں سے خریدے جاتے رہے ہیں ۔ یہ قوم ایک ہاتھ سے اپنے پیاروں کے لاشے اٹھاتی ہے تو بیک وقت دوسرے ہاتھ سے اپنے ہی قاتلوں کی مالی امداد بھی کرتی ہے ۔ اور اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ایسا کرتے ہوئے نہ تو یہ تھکتی ہے اور نہ ہی لمحہ بھر کے لئے رک کر اپنے اس رویے پر مکرر غور کرتی ہے۔
دنیا میں پاکستانی ریاست کے حوالے سے جو تصور پایا جاتا ہے وہ ایک مارِ آستین اور ایک انتہائی منافق دوست یا ایک ریاکار اتحادی کا ہے ۔ اور اس تاثر کی مزید تائید اس سال خیبر پختونواہ کے سالانہ بجٹ میں کی گئی ہے ـ یوں تو اس ماہ کے دوران چاروں صوبائی اور ایک وفاقی بجٹ پیش کیا گیا مگر جس بجٹ نے دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی وہ خیبر پختونخواہ کا بجٹ تھا، اور اسکی وجہ اکوڑہ خٹک کی جامعہ حقانیہ کے لئے مختص کئے جانے والے تیس کروڑ روپے تھے ۔ صوبائی وزیر نے فخریہ انداز میں ان روپوں کے مختص کئے جانے کا اعلان کیا اور پھر اسکے بعد عمران خان صاحب کی قیادت میں بدلتے بیانات کا شرمناک مگر بہت حد تک متوقع ایک سلسلہ شروع ہوا جو آخر کو اس بات پر جاکر تھما کہ یہ فنڈ جاری کرنے میں عمران خان صاحب سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا تھا ۔ صوبائی حکومت کا پہلا موقف یہ سامنے آیا کہ مختص کردہ تیس کروڑ روپے دراصل مدارس دینیہ کے طلباء کو اس معاشرے کا ایک برابر حصہ بنانے کی ایک کوشش ہے ۔ مگر تحریک انصاف کی حکومت کے باقی بیانات کی طرح یہ بیانیہ بھی اتنا ناقص تھا کہ اس سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ مثلا یہ کہ صوبے کے پانچ ہزار سے زائد مدارس میں سے تنہا ایک جامعہ حقانیہ کا انتخاب کن ضوابط کے تحت کیا گیا؟ اور کیا حکومت صوبے کے باقی مدارس کے لئے بھی اس طرز کے فنڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ اور تمام مدارس میں سے اسی مدرسے کا انتخاب کیوں کیا گیا جس کو دنیا میں “طالبان فیکٹری” کے طور پر جانا جاتا ہے؟ کوئی بھی ذی شعور شخص اس بات کا ادراک رکھتا ہے کہ جاری کردہ فنڈز کا مقصد اگر مدارس دینیہ کی فلاح و بہبود ہوتا تو ایک “مدرسہ” کو تیس کروڑ کا تحفہ دینے کی بجائے یہ رقم ایک ایک کروڑ کر کے تیس مدارس میں بانٹی جاتی۔ اس بات سے قطعی انکار ممکن نہیں کہ مدارس دینیہ کے نصاب میں تبدیلی، ان مدارس کی فلاح و بہبود اور انہیں قومی تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کی اشد ضرورت موجود ہے ۔ مگر اس ضرورت کی اوٹ میں تیس کروڑ روپے کی خطیر رقم تحفتا ایسے ادارے کو دے دینا جو طالبان کی نرسری کہلاتا ہے, کوئی اور ہی کہانی سناتا ہے ۔ خیر باقی بیانیوں کی طرح اپنے اس بیانیے کی بھی کوئی سندِ جواز عمران خان صاحب کے پاس موجود نہیں ۔
طالبان کے لئے عمران خان صاحب کی ہمدردی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ وہ اس ہمدردی کا اظہار ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل سے کرتے آئے ہیں ۔ عمران خان اس ملک کے اس فکری طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو ایک عرصہ سے شدت پسندی کی رومانویت کے بھنور میں پھنسا اپنے فکری عوارض سے نبرد آزما ہے ۔ سیاست کے میدان میں اس طبقے کی قیادت بلاشبہ عمران خان کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اس ملک میں ایک عرصے سے دہشتگردی کے روپ میں برپا قیامت کی وجہ شدت پسندوں کے خلاف کئے جانے والے فوجی آپریشن بتاتا ہے ۔ جہاد افغانستان اور اسکے پس منظر سے یکسر ناآشنا یہ طبقہ دہشتگردوں کے خلاف ہونے والے ہر آرمی آپریشن کی برملا مخالفت کرتا نظر آیا ہے ۔ ضرب عضب کا اعلان ہوا تو اس آپریشن پر تحفظات کا اظہار کرنے والا پہلا شخص کوئی اور نہیں بلکہ عمران خان صاحب تھے ۔ آپریشن کے دوران بھی خانصاحب گاہے بہ گاہے اس آپریشن پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ۔ پھر چھے ماہ بعد آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ ہوا تو بظاہر تمام اسٹیک ہولڈرز کا دہشتگردی کے خلاف ایک اجماع سامنے آیا مگر یہ اجماع وقتی ثابت ہوا ۔ عوام میں پائے جانے والے غم و غصے نے دہشتگردوں کے ہمدردوں کو وقتی طور پر خاموش تو ضرور کر دیا تھا مگر یہ اپنے طالبان نواز فرسودہ خیالات کا دامن چھوڑنے کو ہرگز تیار نہ ہوئے تھے ۔ اور اس بات کا ثبوت عمران خان صاحب نے چند ماہ بعد ہی سانحہ اے پی ایس کے متاثرین سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں طالبان سے مذاکرات کی مکرر حمایت کر کے دے دیا ۔ ٹی ٹی پی ترجمان احسان اللہ احسان نے دو ہزار چودہ میں حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے لئے اپنے پانچ نمائندوں کے نام تجویز کئے تو اس فہرست میں جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم مولوی سمیع الحق کے علاوہ عمران خان صاحب کا نام بھی موجود تھا ۔ گو کہ عمران خان صاحب نے طالبان کی نمائندگی کرنے کی یہ تجویز مسترد کر دی تھی مگر خود کو “طالبان کا والد” کہلوانے والے مولوی سمیع الحق سے محبت کا ثبوت وہ گاہے بہ گاہے دیتے ہی رہے ہیں جسکا ایک مظاہرہ حالیہ تیس کروڑ کا تحفہ ہے ۔
ایک دہائی قبل عمران خان کے طالبان نواز خیالات کو واقعات کی غلط تشریح گردانا جا سکتا تھا ۔ دو ہزار تیرہ کے بعد طالبان سے مذاکرات کی انکی ضد کو ایک جوکھم کا نام دیا جا سکتا تھا ۔ مگر ایک دہائی گزر جانے کے بعد, نوے ہزار سے زائد پاکستانی جانوں کے لہو سے ہاتھ رنگنے والوں کے لئے عمران خان کی اس ہمدردی کو اگر کوئی نام دیا جا سکتا ہے تو وہ تعصب اور وطن دشمنی کے سوا کچھ نہیں ۔
؎ برق ناحق چمن میں ہے بدنام
آگ پھولوں نے خود لگائی ہے

3 thoughts on “Aag Phoolon ne Khood Lagai hay

  • July 8, 2016 at 11:40 am
    Permalink

    اندازِ تحریر اچھا ہے۔ مزید مشق کے ساتھ تحریر میں پختگی آتی جائے گی تو خیال کی ترویج بھی بہتر ہو جائے گی۔ مضمون ہذا میں مکرمی عمران خان کے ساتھ جائز سے تھوڑی زیادہ سختی برتی گئی ہے۔

    Reply
  • July 8, 2016 at 12:06 pm
    Permalink

    Mashallah Basit belkul ye 1 haqiqat he

    Reply
  • July 10, 2016 at 9:52 am
    Permalink

    بہت عمدہ لکھا ہے، لکھنے کا قدرتی ٹیلنٹ ہو تو تحریر کا حسن نکھر جاتا ہے۔ عبدالباسط میں یہ کمال بدرجہ اتم موجود ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *